کورونا وائرس:ساڈا تہاڈا اللہ وارث

بھائی حمید ایک شرف النفس، سادہ لوح مگر ٹیکنیکل معاملات میں ایک زیرک اور ذہین انسان ہیں۔ دوسروں میں آسانیاں فراہم کرنا ان کا من پسند شفف اور ترجیح ہے۔ مایوس اور اداس شہرے انہیں بے چین کر دیئے ہیں۔ چنانچہ وہ شفیقانہ حسن سلوک سے ان کی مایوسی اور اداسی کو دفع خطی دینے کی تدبریں کرنے لگتے ہیں۔ لطیفے، چٹکلے، اور قصیدے، غرضیکہ بھائی حمید ہر وہ حربہ ، ذریعہ اور وسیلہ بروئے عمل لائے ہیں جو ایک اداس اور مایوس شخص مسکرانے اور ہنسنے یا قہقہہ لگانے پر آمادہ کر پائے۔ بسا اوقات میں اپنے اس انسانیت نواز عزیز کی رفاقت کی خواہش پالتا رہتا ہوں، اور اس لمحے کا انتظار کرتا ہوں جب بھائی حمید سے کہیں ٹاکرا ہو جائے یا وہ خود میرے ہاں تشریف لے آئیں۔
کل شام دروازے پر دستک ہوئی۔ اگلے لمحے بھائی حمید چہرے پر ایک فاتحانہ تبسم میرے روبرو کھڑے تھے۔ میں فوراً بھانپ گیا حضرت کسی مو کے میں سرخ ردہوجانے کی خوشخبری میں میرے سمیت اپنے سب چاہنے والوں کو شریک کرنے کا عزم بالجزم کر چکے ہیں۔
پوچھا:” کیئے چہرے سے پھوٹنے والی مسرت آمیز مسکراہٹ کا کیا راز ہے۔
بولے: ” راز نہیں کھلی حقیقت کہیے۔ آپ کا بھائی حمید آج کورونا وائرس کو شکست دے آیا تھا۔
بھائی حمید کا یہ دعویٰ واقعی ان کے قد کاٹھ سے زیادہ بڑا تھا۔ ایک ایسی موزی وبا جس نے اک عالم کو خوف و بے یقینی کی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے اور دنیا کی ترقی یافتہ سپر پاورز تک ایک نظر نہ آنے والے ہلاکت آخر میں جرثومے کے سامنے خود کو زیر نگیں سمجھنے لگی ہے اس وبائے ناگہانی کو پچھاڑ دینے کا دعویٰ ایک عام شخص کرے تو دیوانے کی پھڑ ہی قرار دی جا سکتی ہے۔ بھائی حمید مگر ایک مضبوط ساکھ کے انسان ہیں وہ کسی طور بے پرکی نہیں اڑا سکتے تھے۔
پوچھا بھائی حمید اب آپ جس معرکے میں سرخ رو ہوئے ہیں اس کی کچھ تفصیل بتاہی چکیں۔
برابر پڑی ایک کرسی پر نہایت آسودگی سے براجمان ہونے کے بعد بولے:
” ابھی میں بازار سے آیا ہوں جہاں چائے کی ایک دکان میں بیٹھے لوگ نہایت غمگین اور اداس لہجے میں دھیمے دھیمے باتیں کر رہے تھے۔ مجھے کرونا وائرس موضوع بحث ہے۔ مگر ہمارے ہاں کی روائتی بیٹھکوں میں ہونے والی بحثوں کے برعکس ماحول پر سوگ اور موت کی سی کیفیت طاری تھی۔ یہی وہ کیفیت ہوتی ہے جو ہمارے بھائی حمید کو متحرک کر دیتی ہے۔ ان کے اعصاب اور سوچ بچار کی ساری صلاحیتیں اداسی اور مایوسی کے ماحول کو پاش پاش بھائی حمید کہنے لگے۔
زندگی زندہ دلی کا نام ہے۔ امید اور یقین کی روشنی زندگی کی اندھیری راہوں کو روشن اور منور کئے رکتھی ہے۔ اور یہ اندھیرے اور اجالے، یہ دکھ اور سکھ ہی درحقیقت زندگی کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ خود خالق کائنات کا فرمان ہے کہ اس نے یہ کائنات انسان کے لئے آراستہ کی ہے۔ انسان جو اشرف المخلوقات ہے۔ مگر بسا اوقات یہ حوصلے پست کر دینے کے ساتھ مایوسی اور اداسی کے آگے سرنگوں ہو جاتی ہے۔جیسا کہ ان دنوں ساری دنیا کورونا وائرس کے سامنے خود کو یرغمال بنا چکی ہے۔
میں نے عرض کیا کہ بھائی جی آپ کی باتوں سے کسی ذی ہوش کو انکار نہیں ہو سکتا ۔ مگر اب یہ عقدہ تو کھول دیجئے جو اس خوش خبری کے پیچھے آپ نے چھپا رکھا ہے جس کی نوید آپ نے ابھی سنائی تھی۔ بھائی حمید بولے، بازار میں ایک محفل آراستہ تھی لوگ ہولے ہولے سہمے سہمے کورونا وائرس بابت اپنے اپنے خوف کا اظہار کر رہے تھے۔ ہر شخص کے چہرے پر موت کے سائے منڈھلا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ایک موقع پر جب ایک شخص نے اپنے خوف کے اظہار کے لئے صرف یہی کہا تھا ”کورونا وائرس“۔۔۔ تو ہمارے بھائی حمید پر جوش انداز میں پکار اٹھے:
کورونا وائرس
ساڈا تہاڈا اللہ وارث۔۔۔
اور اس کے ساتھ ہی مردہ محفل زندہ ہوگئی اور پھر ہر طرف سے نعرہ تکبیر۔۔۔ اللہ اکبر کے نعروں کی گونج پھیل گئی۔
چند لمحے پہلے تک کورونا وائرس کے خوف سے موت کے نئے سکوت میں ڈوبی محفل اللہ اکبر کے سرمدی پیغام کے جلو میں زندگی کی رواں دواں سمتوں تک پھیل چکا تھا۔ خوف کی جگہ امید اور یقین نے دلوں کو گرما دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like More from author