دکھ درد کے مارے لوگ

دوا دارو ںکے بغیر اور ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مرنے والے فطری موت نہیں مرتے، ان کا خون ان لوگوں کے سر ہوتا ہے جنہوں نے حرام ذرائع سے انہی کی حلال کمائی پر نقب لگا کر مال و دولت سمیٹ رکھی ہوتی ہے۔ اور جب بڑے دن بڑی عدالت لگے گی تو لاریب ایسے ہی لوگ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے کئے جائیں گے

”ٹی بی کے ہاتھوں ستائی ہوئی میری ماں قبر میں اتر گئی۔ ایک تعلیم یافتہ بھائی کو بے روزگاری کا کینسر ہوا، یہاں تک کہ اب وہ نیم پاگل ہو چکا ہے کئی کئی دن تک گھر سے غائب رہتا ہے۔ اب جوڑوں کے درد کے پرانے مریض ہیں۔ دن رات چارپائی سے جڑے رہتے ہیں۔ ایک چھوٹی بہن ہے جو پڑھ رہی ہے۔ میری اپنی عمر والدین کے گھر پڑے پڑے ڈھل چکی ہے۔ ایک معمولی سے ملازمت ہے جس سے مصیبتوں اور بیماریوں سے بھرے اور اٹے گھر بار کو چلا رہی ہوں۔“
خط کے الفاظ کیا تھے، زہر میں بجھے ہوئے گویا تیر تھے جو میرے پورے وجود کو چھلنی کر گئے۔ اس نے تاکید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ یہ خط کسی مدد کے لئے نہیں لکھ رہی۔ اس لئے اس کی شناخت ظاہر کر کے اس کی خود داری اور عزت نفس کو ہرگز مجروح نہ کیا جائے۔ البتہ غربت اور مجبورو متہور لوگوں کو درپیش مصیبتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس ملک کے حاکموں اور ”مالکوں“ سے یہ ضرور پوچھا جائے کہ کیا ہم نے پاکستان اسی لئے بنایا تھا؟ کیا ہمارے بڑوں نے اپنی جانوں کے نذرانے اسی لئے پیش کئے تھے اور نیک اور پاکباز بیبیوں نے اپنی عصمتیں اور عزتیں اسی لئے قربان کی تھیں کہ اس پاکستان میں غریب ہونا ایک جرم بنا دیا جائے اور غریب کی زندگی اجرین بنا کر رکھ دی جائے۔ اس سے زندگی کی چھوٹی سی چھوٹی فطری خوشی کا حق بھی چھین لیا جائے۔
خط کے آخر میں اس بی بی نے لکھا تھا کہ دوا دارو اور علاج معالجے کے بغیر مرنے والے فطری موت نہیں مرتے۔ ان کا خون ان لوگون کے سر ہوتا ہے جنہوں نے ان کے حصے کی حلال کمائی پر حرام پائی کا جھاڑوں پھیر کر اسے اپنی غلیظ اوجڑیوں اور تجوریوں میں ٹھونس لیا ہوتا ہے۔ سوا پنے انجام کار کے طور پر بڑے دن جب بڑی عدالت کا فیصلہ سامنے آئے گا تو کتاب میں کہے گئے وعدے کے مطابق ایسے ہی خبیث اور شیطنت صفت ناسور مجرموں کے کٹہرے میں پابہ زنجیر نظر آئیں گے۔
میں نے بہت ہمت کرتے ہوئے اس خط کے مندرجات کو بار بارپڑھا، پرکھا اور خود کو زخمی کرتا رہا۔ میرا احساس مجھے بری طرح کچو کے پر کچو کا لگاتا رہا۔ طبیعت پر بے پایاں گرانی کا پہاڑ لمحہ بڑھتا پھیلتا رہا۔ مجھے لگا میں اس گراں باری حالات میں شائد میں اپنا دم بھی شائد برقرار نہ رکھ سکوں۔اس بے بس لڑکی کا یہ سوال کہ کیا ہم نے پاکستان اسی لئے بنایا تھا میرے دل و دماغ میں ہتھوڑے اور کلہاڑے برسا رہا تھا یہ کیفیت بڑھ پھیل کر ڈیڑھ دو دن محیط رہی۔ اسی اثنا میں کسی کتاب کی تلاش میں کاغذات کی ایک فائل اٹھائی تو اس میں میرے کچھ محترم قارئین کے صحبت نامے میرا استقبال کر رہے تھے۔ دو تین مکتوب اور اوپر تلے سے دیکھے تو معاملات و حالات کی ایک بارات تھی جس میں جذبات و احساسات کے رنگ بھی تھے اور مہک بھی! سوچا کیوں ناں آج اپنے پیاروں کے جذبات و احساسات کے یہی رنگ اور مہک اور پیاروں کو لوٹا دوں۔
جہلم سے عبدالرشید ملک صاحب میرے بیشتر کالموں کے مندرجات سے اتفاق کا اظہار کرتے وہئے اس بات پر معترض ہیں کہ میں ملک پر مسلط گورننگ کلب کے ارکان کی فقط منفی باتوں اور پہلوو¿ں کو اجاگر کرتا ہوں بلکہ بسا اوقات اپنی نفرت کے اظہار میں حد سے بھی گزر جاتا ہوں حالانکہ حقیقت حال یہ ہے کہ ہمارے دیہی معاشرے میں جاگیردار اور وڈیرے بہت مخیر البطع بھی واقع ہوئے ہیں، وہ مسجد و منبر کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے فیوڈل کلچر کے متعلق میرے موقف کو تعصب سے آلودہ اور شدید حد تک جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپ ہی کے حق میں بہتر ہوگا کہ جس قدر جلد ہو سکے آپ راہ راست پر آجائیں۔ انہوں نے آخری استدلال یہ دیا کہ موجودہ سٹیٹس کو ودیرہ شاہی، جاگیر شاہی اور ملائیت شاہی صدیو ں
(باقی صفحہ7 بقیہ22 پر

سے یونہی برسر عمل ہے اگر یہ سب کچھ غلط ہوتا یا فطرت کے اصول کے منافی ہوتا تو یہ نظام جسے آپ طبقہ بدمعاشیہ کا پروردھ قرار دیتے تھکتے نہیں، کب سے اپنی موت آپ مرچکا ہوتا۔ حرف آخر کے طور پر ان کا فرمان تھا کہ آپ دریا کی مخالف سمت میں جا رہے ہیں اس لئے ایک روز شکست ہی آپ کا نصیبہ ہوگی۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ آپ کسی مزید ہزیمت سے بچنے کے لئے آج ہی سے راہ راست پر آجائیں اور قومی معیشت میں بنیادی اور مرکزی کردار کرنے والے طبقے کو ولن قرار دینے سے باز آجائیں تا کہ معاشرہ صدیوں سے جس بہاو¿ کا عادی ہو چکا ہے وہ کسی روک ٹوک کے بغیر ترقی و خوشحالی کا سفر جاری رکھ سکے۔
قارئین محترم میں جہلم سے عبدالرشید ملک کی طرف سے میری ذات بابت جو تبصرہ آرائی کی ہے میں اس کے جواب میں تفصیلی جواب کا حق رکھتا ہوں۔ اور تہذیب ، برداشت اور شائستگی کے پیرائے میں انشاءاللہ ان کی طرف سے اٹھائے گئے سبھی اعتراضات کا جواب ضرور نذر قارئین کروں گا۔۔۔(جاری ہے)

You might also like More from author