لوئے لوئے بھر لے کڑئیے

جب چوروں اچکوں اور ٹھگوں کا ٹولہ اور جتھہ دعویٰ کرتا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے تو ان کے نزدیک اس نعرے کی طبقاتی تشریح یہ ہوتی ہے کہ جرائم پیشہ مافیاز کی جمہوریت اپنی اصل میں عوام سے انتقام کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے

لوئے لوئے بھر لے کڑئیے
جے ددھ پانڈا بھرنا
شام پئی بن شام محمد
گھر جاندی نے ڈرنا
19ویں صدی کے نصف اول میں میر پور آزاد کشمیر کے دیہات کھڑی شریف کے سبزہ زاروں سے اٹھنے والی یہ چشم کشاندا، بے مثل صوفی شاعر حضرت میاں محمد بخش کی ہے، جو اپنے مخاطبین کو دلا آویز لیجے میں حکیمانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اگر تم لوگوں نے اپنا مقصد پانا ہے تو بلا تاخیر ایسا کر گزرو وگرنہ وقت کی شام ڈھلنے کو ہے اور پھر جب اندھیرے میں راستے معدوم ہو جائیں گے تو سوائے ناکامی کے خوف کے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔
پر کیا کیجئے جب پانی بھرنے کی آرزو رکھنے والے میٹھے شفاف پانی کے کنوئیں کی بجائے گدلے پانی کے ٹوبے میں ڈول ڈالے آپس کی خوش گپیوں میں محو وقت گزرنے سے بے نیاز کسی معجزے کے منتظر بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مہلت کی شام رات کے اندھیرے میں ڈوب جاتی ہے اب راستے کے اندھیرے ان کی واپسی کے سفر کو نگلنے لگتے ہیں تو وہ پریشان ، بے چین اور بے قرار ہو جاتے ہیں۔ اللہ سوہنے کے نیک بندے اور ولی کی حکیمانہ باتوں کو ٹھکرانے والوں کا یہی انجام کار ہوا کرتا ہے۔
اگر میں اپنی 72سالہ تاریخ کا جائزہ لوں تو مجھے اپنی قوم پر اور اس کے ایک فرد کی حیثیت سے خود پر اسی نو عمر دوشیزہ کا گمان ہوتا ہے جو چند ایک محترم استثناو¿ں کے ساتھ ٹھنڈے میٹھے کنوئیں کی بجائے گدلے پانی کے ٹوبے کنارے کھڑے ہی اپنی تشنہ لبی بھجانے کے لئے اپنے خوابوں کو کرچی کچی کئے جاتی ہے۔ ہر رہزن کو رہنما اور ہر قاتل کو مسیحا سمجھنے کے قریب میں مبتلا قوم یا شاہد ہجوم۔ اور اس ہجوم میں موجود کچھ بد قماشوں، بدمعاشوں نے اس کی کمزوریوں سے کھلواڑ کرتے ہوئے ان کی لوٹ کھسوٹ کا پھر ایسا بازار گرم کئے رکھا کہ خدا کی پناہ!
50کی دہائی میں کہ بابائے قوم اپنے اللہ سوہنے کو پیارے ہو چکے تھے۔ گھر والا گھر نئیں سانوں کسے دا ڈر نہیں کے مصداق پر سو لوٹ مار کا دھندہ جاری رکھا گیا۔ا ن عہد میں کلیم گردی کا واویلا اور پٹ سیاپا عام ہو گیا۔ پھر آئے چینی کا قحط اور راشنگ سسٹم کا اجرا۔ اسی کے ردِ عمل میں عامتہ الناس نے ملک کو ایک نیا نعرہ دیا چھٹو وٹہ ہائے ہائے۔ یہ دراصل اس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کے موٹے اور ناٹے قد کاٹھ پر عوامی مزاج کا ایک طعنہ تھا جن کے متعلق اس وقت کی اپوزیشن نے نفرت کا ایک ہنگام کھڑا کر دیا تھا۔ خواجہ صاحب کا تعلق چونکہ تب ملک کے دوسرے حصے یعنی مشرقی پاکستان سے تھا، سو مغربی پاکستان میں ان کے خلاف استہزائیہ مخالفت کو اہل بنگال نے شدید ردِ عمل کے ساتھ ظاہر کیا۔ سقوط ڈھاکہ کی بنیاد تو ایسے ہی واقعات کے ذریعے رکھ دی گئی تھی۔شیخ مجیب الرحمن نے تو عشرہ ساٹھ اور اوائل سترمیں صرف اس بنیاد پر نفرت علیحدگی کی ایک دیوار ہی کھڑی کی تھی۔
ایک عہد ایوبی البتہ ہمارے تاریخ میں ایسا بھی گزرا ہے جسے لوٹ کھسوٹ کے رسیا طبقہ بدمعاشیہ کے گر گوں نے آمریت کے طعنوں کے طومار میں دبائے رکھا حقیقت مگر یہی ہے کہ وہ ترقی پسندانہ آمریت ٹھگوں کی لوٹ کھسوٹ والی لعنتی اور نام نہاد جمہوریت سے بدر جہا بہتر تھی۔ ہماری72سالہ تاریخ میں نام نہاد جمہوری ادوار میں ملک کو پانی کا ایک بڑا ڈیم میسر نہ آسکا مگر ایوم آمریت نے نو سالہ عہد میں پاکستان کو دس بڑے ڈیمز اور آبی ذخیروں سے مالامال کر دیا جن میں عظیم الجثہ تربیلا اور منگلا ڈیمز بھی شامل ہیں۔ اور ٹھگوں کی نام نہاد جمہوریت نے تو اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہی ہے اور جب کہیں لوٹ کا مال کم ہو گیا تو غریب کی کھال تک نوچ کر رکھ دی گئی۔(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر20 پر)
پاکستان کی حقیقی معمار اور معاشی ترقی و فروغ کے امین ایوب خان کے عشرہ اقتدار میں اس وقت کے پلاننگ کمیشن کے ایک اہم ماہر معیشت ڈاکٹر محبوب الحق کی تحقیق کے مطابق ملک کی ساری دولت پر بائیس خدانوں کی اجارہ داری تھی جسے ایوب خان بتدیج ختم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر ٹھگوں اور لٹیروں کی نام نہاد جمہوریت کے سودا گروں، جاگیرداروں، وڈیروں اور رسہ گیروں نے اپنے ہی طبقے کے ایک جواں سال بھٹو کی پیروی میں ایوب خان کا تختہ الٹ دیا اور اس کے بعد ہمارے ملک میں خیر سے چند ا ستثناو¿ں کے ساتھ ٹھگوں کی جمہوریت کا چلن ہے یہ طبقہ بڑے فخرسے کہتا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے جی ہاں ٹھگوں کی جمہوریت جمہور سے انتقام کا بہترین ڈھکوسلہ ہے۔
اور پچھلی نصف صدی کے دورانیے میں پاکستانی جمہور لوٹ کھسوٹ کی اسی مقروض کر دینے والی جمہوریت کے کشتگان میں شامل ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو عمران خان کے روپ میں ایک بطلِ جلیل اور رجل رشید ضرور عطا کیا مگر جو تمام تر نا مساعدات کے باوجود اس قوم کو ٹھگوں ، نوسر بازوں اور لیٹروں کے چنگل سے آزاد کرانے کا عزم ِ صمیم رکھتے ہیں ۔ پاکستان کے افتادگان خاک دامے دامے دامے سخنے عمران خان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کے جمہور کی کامیابی عمران خان کی قیادت میں نوشتہ دیوار ہے۔۔۔۔

You might also like More from author