دولت کے ہر پہاڑ پیچھے جرم چھپا ہوتا ہے

نصف روپیہ دہاڑی پر شدید گرمی میں دن بھر لوہا کوٹنے والا کچھ ہی سالوں میں ارب پتی بن گیا اور سنیما کی ٹکٹیں بلیک کرنے والا کھلنڈرا مسٹر ٹین پرسنٹ سے مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ اور پھر صدر مملکت کے عہدے تک پہنچ گیا

وہ زبان سے کبھی ارار نہیں کریں گے۔
ان کا مگر ڈی این اے کرایا جائے تو اس کی رپورٹ کے حقیقی اور باطنی کردار کی روداد کچھ ان الفاظ میں بیان کرتی ملے گی۔
”ہمارے بزرگوں کا دور ہمارے اجداد کے زمانے سے بد تر تھا، ہم ان کے فرزند ان سے بھی بڑھ کے نکمے اور بے مول ہیں۔ لہٰذا اپنی باری پر ہم دنیا کو اس سے بھی بری اور بدعنوان پود سونپ کر جائیں گے۔“
آپ یقینا سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ سطور بالا کس کس ذات شریف کی بدمعاشیوں کا نوحہ اور المیہ بیان کررہی ہیں۔ زرداری اور جاتی عمرہ کے نون غنے یعنی نام کے شریف مگر مشرف جیسے محترم و مکرم لفظ سے جن کا دور پار کا بھی کوئی رشتہ و تعلق نہیں۔ ذرا غور فرمائیے۔ میاں شریف جن کی اوائل عمری نہایت غریبی مگر جان توڑ جسمانی مشقت اور رزق حلال کمانے کے لائق صد احترام ماہ وسال سے عبارت رہی تھی۔ جو اپنے عیالدار باپ کے اشارہ ابرد پر غریبی اور فاقہ کشی کے علاج کے لئے محنت مشقت کے لئے امر تسر کے پسماندہ دیہات جاتی عمرہ سے اس وقت کے دبئی، لاہور منتقل ہوئے تو ریلوے روڈ پر رام گلی نمبر6میں ایک ہندو لوہار کی چھوٹی سی ورکشاپ پر محمد شریف اور محمد شفیع کو سارا دن سخت گرمی میں لوہا کوٹنے کے عوض رات کو ایک روپے یعنی نصف روپیہ فی کس کی مزدوری میسر آتی تھی۔ یہ دونوں بھائی اس میں سے چوتھائی روپیے یعنی چار آنے سے دو وقت کی روٹی اور چارپائی کے کرایے پر خرچ کرتے اور تین چوتھائی روپیہ یعنی بارہ آنے جاتی عمرہ میں اپنے باپ رمضان شوگر مل انہی کے نام پر ہے عرف جاناں ٹنڈا والے کو گھر چلانے کے لئے بھجوادیتے تھے۔
مگر پھر چشم فلک نے ان بھائیوں کے کردار اور معاملات میں ایک زمین آسمان جیسے فرق والا بدلاو¿ دیکھا جو بس ایک تاریخ ہے۔ مختصر یوں جان لیجئے۔ کہ بعد میں میاں کا سابقہ استعمال کرنے والے میاں شریف اپنے دوسرے سات بھائیوں اور ان کی اولادوں سے بہت آگے نکل گئے۔ اتنا آگے کہ ان کے اور دیگر پسران جاناں ٹنڈاں والے کے درمیان دولت آفرینی کے فرق پر انسانی عقل انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ آپ دور نہ جائیے آج کی حقیقت سامنے رکھئے۔ میاں محمد شریف کے دو بیٹے نواز و شوباز کے علاوہ ان کے چھ بھائیوں یا ان کی اولادوں میں سے کوئی بھی۔۔ کاروبار سیاست میں داخل نہیں ہوا۔ بس یہی فرق بعد میں ان کے اور دیگر پسران رمضان جاناں اور ان کی آل اولاد کے مالی حالات یا امارت کے مابین پایا جاتا ہے اب یہاں ایک ہی حقیقت کھل کر عقل انسانی کا منہ چڑاتی نظر آتی ہے۔ بد طنیت اور شیطانی و قارونی سرشت رکھنے ولاے سیاست وزارت اور اقتدار و اختیار کو ”بدمعاشی“ میں لتھڑی ہوئی ٹھگی، نوسر بازی اور دولت آفرینی کے ایک موثر ذریعے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ اور ان کی طرف سے سیاست عبادت یا خدمت ہے کہ سارے دعوے ، وعدے اور نعرے کو ڈھکوسلے ہیں اور بس !
شرم ان کو مگر نہیں آتی محض
انیسویں صدی کے عظیم فرانسیسی ، ادیب اور مفکر بالز اک نے اپنے معروف ناول ”گارڈ فادر“ میں کیا خوب سچائی رقم کی ہے۔”BEHIND EVERY GREAT FORTUNE LIES A GREAT CRIME“ یعنی ہر غیر معمولی اور کثیر دولت کے پیچھے ایک بڑا اور گھناو¿نا جرم موجود ہوتا ہے۔“
ماریو پوزو کے ناول گاڈ فادر میں مجود اس تاریخی جملے نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا جسے 1972میں ڈائریکٹر فرانسس کپولا کی اسی نام کی فلم میں مارلن برانڈو کے ادا کردہ اس مکالمے اس تہلکہ خیزی کو مزید سہ آتشہ کر دیا۔
ہمارے دور میں زرداریوں اور نا شریفوں پر اس جملے کی صداقت عین مین چسپاں ہوتی ہے۔ جاتی عمرہ کے ناشریفوں اور شوبازوں کے طبقاتی ساجھے دار زرداری گینگ کا کچا چھٹا بھی مجرمانہ لوٹ کھسوٹ کے معاملے میں ہر طرح اور سطح کی شرم و حیا سے گویا مستثنیٰ جانئے۔ نو عمری میں یہی کراچی میں بمبینو سینما کے باہر ٹکٹ بلیک کرنے کی لت میں مبتلا زرداری کی سرشت حرام پائی میں ایسی غرق ہوئی کہ بس پھر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا آج کراچی میں جو فلک بوس عمارتیں اور پلازیں زمین بوس ہوتے ہوئے بیسیوں انسانی جانوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ آپ کڑی در کڑی جرم کے اس سلسلے کی ٹوہ لگائیں تو کھرا سیدھا بلاول ہاو¿س کے مکین، حاکو ڈاکو کی عرفیت رکھنے والے سیاستدان حاکم علی زرداری کے فرزند ارجمند عزت مآب آصف علی زرداری کے گریبان تک پہنچے گا۔ میں کہتا ہوں کہ آپ زرداری اور سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے سابق سربراہ منظور کا کا کو عام پاکستانی قیدیوں کی طرح صرف چند دنوں کے لئے قید و بند کی صعوبتوں سے گزاریئے ان کارواں رواں اپنے جرائم اور بدمعاشیوں کی تمام تر روداد بمع تفصیلات و جزئیات اگل کر رکھ دے گا۔ آپ میاں نواز نا شریف ہی کی مثال لے لیجئے۔ باہر کیسی کیسی طرم خانی دکھاتا تھا۔ مگر جیل میں شدید گرمی میں صرف دو دن کے لئے اس کا اے سی بند ہوا تھا تو اسے چھٹی کا دودھ یاد آگیا تھا۔ اور اس کی زبان پکا ر اٹھی تھی۔ کہ آو¿ میرے ساتھ مک مکا کر لو اور میری جان چھوڑو ۔(جاری ہے)

You might also like More from author