نون غنے۔۔ جوتیو ں دال بانٹنے لگے

چار کا ٹولہ الزام دشنام کے نشانے پر

زرداریوں کی سیاست کا تمام تر دارومدار اور محور بھٹو اور بے نظیر کی خبریں ہیں اور ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“ کا گھسا پٹا نعرہ ہے تو نون غنوں کی جھولی میں میئیں دے نعرے وجن گے“ یا ” دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیر آیا“ کے کھوکھلے نعروں یا بریانی کی ایک پلیٹ کے سوا کچھ نہیں۔“

وقت بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔
جو خود کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کرتا، وقت کی بے رحم اور طاقتور لہریں اسے خس و خاشاک کی طرح مٹا کر رکھ دیتی ہیں۔
زرداریوں کی مثل نون غنے بھی خود کو وقت کی تیز دھار کے ساتھ ہم آہنگ بنانے میں بری طرح پٹ کر رہ گئے ہیں۔
زرداریوں کی سیاست کا تمام تر دارومدار اور محور بھٹو اور بے نظیر کی خبریں ہیں اور ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“ کا گھسا پٹا نعرہ ہے تو نون غنوں کی جھولی میں میئیں دے نعرے وجن گے“ یا ” دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیر آیا“ کے کھوکھلے نعروں یا بریانی کی ایک پلیٹ کے سوا کچھ نہیں۔“
پاکستان کے عوام اپنے تاریخی تجربے کے تحت اب اس نتیجے پر پہنچتے جا رہے ہیں کہ ان جعلی اور مصنوعی نعروں سے جاتی عمرہ والوں کے محلات کی دولت تو بڑھتی چلی جاتی ہے مگر ان کے پیٹ کی آگ، ان کی اداروں کی تعلیم خوراک اور لباس کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا۔ سو اس شعوری ارتقا کے نتیجے میں ہی نون لیگ کے سپورٹروں ووٹروں نے جاتی عمرہ سے منہ موڑنا شروع کر دیا ہے۔ اب اس پارٹی کو بھاڑے کے کارکن بھی میسر نہیں آتے جو چوروں کے ٹبر پر عدالت سے آتے جاتے وقت پھل پتیاں پھینکنے اور نعرے مارنے کی دہاڑی پر ہوتے تھے۔ شنید ہے اپنے گھر میں پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے کی تین سیٹیں رکھنے والے لاہور کے لیگی صدر پرویز ملک نے وعدے کے مطابق دہاڑی داروں کو بھتہ دینے سے ہاتھ کھینچ رکھا ہے اس لئے متبادل کے طور پر وہ گاہے بگاہے اپنی فیکٹریوں کے مزدوروں کو ہانک کر جاتی عمرہ والوں کی گاڑیوں کے آگے نعرے لگوانے کے لئے لے آتا ہے اور بس ۔
اس امر کی شکائت جب بیگم صفدر اور اس کے ذریعے لندن میں مغرور نواز و شوباز تک پہنچی تو انہوں نے ساری نون لیگی قیادت کی بہت کلاس لی۔
یہی وہ نازک اور فیصلہ کن لمحہ تھا جب قیادت سے نکونک تنگ آئی ہوئی دوسری تیسری صفوں کی قیادت بھی جاتی عمرہ والوں کے خلاف پھٹ پڑی۔ اس سلسلے کا پہلا تماشہ رواں ہفتے میں اسلام آباد میں منعقدہ نونیوں کی پارلیمانی پارٹی کی ایک میٹنگ ہوئی۔ جس میں شرکا کی غالب تعداد چار کے ٹولے پر ٹوٹ پڑی انہیں خوب رگیدا، ارکان نے ایک دوسرے پر ذاتی حملے کئے اور قرار دیا لندن میں سیر سپاٹے کرنے والی قیادت نے شاہد خاقان ، خواجہ آصف، احسن اقبال اور رانا ثناءپر مشتمل چار کے ٹولے کو پارتی کے مخلس اور سینئر ساتھیوں پر مسلط کر دیا ہے۔ حالانکہ اوسط اور واجبی صلاحیت رکھنے والے ان لوگوں کا واحد طرہ امتیاز شریف برادران کی خوشامد اور چاپلوسی ہے یہی وجہ ہے وہ پارٹی بڑوں کی بیرون ملک موجودگی میں پارٹی میں اتحاد اور یک جہتی برقرار نہیں رکھ سکے۔ ناراض ارکان بڑی تیزی سے حکومتی پارٹی کی منڈیر پر بیٹھنے لگے ہیں۔ نہ صرف مرکز بلکہ صوبہ پنجاب میں بھی جو کبھی پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان عمران خان کی قیادت پر کھلے بندوں اعتماد کا اظہار کرنے اور نواز و شوباز بیس سال پہلے کی طرح بھگوڑے ہونے کے طعنے دینے لگے ہیں۔
اس لیگی ٹوٹ پھوٹ کا ایک سبب پارٹی پر مسلط چار کے ٹولے میں باہمی چپقلش اور کھینچا تانی بھی ہے۔ خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی میں ویسی ہی چپقلش جاری ہے جیسی ماضی میں خواجہ آصف اور چوہدری نثار کے مابین تھا۔ اسی طرح شیخوپورہ سے بیگم صفدر کا چہیتا ایم این اے جاوید لطیف کرپشن کے الزام میں نیب تفتیش کے مراحل سے دوچار ہے۔ اس بیگم صفدر شوباز اور نواز سب پر اعتراض ہے کہ انہوں نے اس جیسے دیرینہ ساتھی کا مشکل پڑنے پر اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ یہی حال سابق کے پی وزیر اعلیٰ پر صابر شاہ کا ہے اسے بھی پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر مشکل وقت میں ماضی کی طرح ایک بار پھر کارکنوں کو چھوڑ کر علاج کے بہانے لندن میں جابیٹھے ہیں جہاں وہ علاج کی بجائے سیر سپاٹے اور سیون سٹار ریستورانوں میں یا سری پائے اور نہاریاں کھاتے ملتے ہیں۔ پیر صابر چار کے ٹولے کی نا اہلی پر بھی خوب برسا اس موقع پر ذرائع کے مطابق بیگم صفدر کے خصوصی آدمیوں نے پیر صابر شاہ کو بزور قوت چپ کرانے کی کوشش کی جس پر پارلیمانی پارٹی کا سارا ماحول مچھلی منڈی بن کر رہ گیا۔
اس ساری صورت حال کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ زرداری گروپ ہو یا جاتی عمرہ کا ٹولہ ہو یہ سب کے سب اپنی لوٹ مار کے گھناو¿نے جرائم کی پاداش میں قانون مکافات عمل کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں۔ اور اگر زرداری گینگ اور نون غنوں میں جوتیوں میں دال بٹنے لگی ہے تو یہ انکے نامہ اعمال ہی کا نتیجہ ہے۔۔۔

You might also like More from author