”سب پر بھاری“ زرداری اپنی ہی پارٹی پر بوجھ بن گیا

”بھٹو اور بے نظیر کے نام پر قبری اور مجاوری سیاست کا چورن بکنا اب بند ہو چکا ہے۔ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح سندھ کے شہری اور دیہی باشندوں کا شعور کئی جستیں آگے بڑھ چکا ہے۔ مگر زرداری فیملی پارٹی بدلے ہوئے حالات کے مطابق اپنا نیا بیانایہ بنانے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے

ملک میں رائے عامہ کے حلقوں میں دولہریں، دو روئیں نمایاں طور پر رواں دواں ہیں۔
ایک لہر اور رو کی مثالی اس کہانی سے ملتی ہے۔
ایک شخص کئی سوراخوں والی بالٹی کو پانی کے نل کے نیچے رکھ کر اس کے بھرنے کا انتظار کر رہا ہے۔ مگر بالٹی بھرنے کا نام نہیں لیتی۔ بالٹی بھرے تو کیونکر، کیونکہ اس کا تو پورا ڈھانچہ چھیدوں سے بھرا ہے اور پانی ان میں سے بہہ کر کہیں اور چلا جاتا ہے۔
یہ شخص اہل پاکستان کی اس رائے کا نمائندہ ہے جو پاکستان کے ان سیاستدانوں ، جماعتوں اور سابقہ حکمرانوں از قسم زرداری گینگ اور جاتی عمرہ کے نا شریفوں سے آج بھی توقع رکھتاہے کہ وہ ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے۔
اس کے مقابلے میں رائے عامہ کی ایک دوسری لہر اور رو ہے جو اب ایسے فریب کاروں سے یکسر متفنر ہو چک ہے اور18کے انتخابات میں اپنے اس رویے کا اظہار کرتے ہوئے نون لیگ اور زرداری لیگ کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان اور ان کی پارٹی پی ٹی آئی کے حق میں ووت ڈال دیا تھا ۔
اور اب وقت گزرنے کے ساتھ رائے عامہ کی یہ لہر مزید بڑھتی اور پھیلتی پھولتی جارہی ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو ہوئی کہ عوام کے غالب حصوں میں اس بات کا پہلی بار ادراک آیا کہ سابق حکمران واقعی نعروں کی حد تک نہیں عملی طور پر عوامی کمائی کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث رہے ہیں۔ اس سے پہلے عوام ان کے اس بھیانک کردار سے اس لئے نابلد رہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے اندر خانے کے ایک معاہدے کے تحت یہ طے کر لیا تھا کہ ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی باری پر قومی خزانے پر خوب لوٹ مار مچائے گا اور دوسر ا فریق نہ تو اس کے اس قبیح فعل میں کسی طرح مزاحمت پیدا کرے گا اور نہ ہی مد مقابل کو بے لباس کرے گا۔ پر اب کہ تاریخ کا پیہہ پاکستان کو عمران خان کے ساتھ وابستہ کر چکا ہے۔ رائے عامہ کا وہ دوسرا حلقہ جو چھیدوں بھری بالٹی پانی کے کھلے نل نیچے رکھ کر اس خود فریبی میں مبتلا تھا کہ بالٹی پانی سے بھر جائے گی مگر اپنے تجربے کی روشنی میں اب وہ اس خود فریبی سے آزاد ہوتا جا رہا ہے۔ جس کا اظہار اس کی پی پی پی اور نون لیگ سے بتدریج بڑھتی ہوئی لاتعلقی ہے۔ جس نے دونوں پارٹیوں کی گھریلو قیادتوں کو شدید پریشان کر رکھا ہے۔
جہاں تک زرداری لیگ یا پی پی پی کی پریشانی کا معاملہ ہے تواس کے پس منظر میں کئی حقائق رینگتے دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً
زرداریوں کو یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ ملک بھر سے پسپائی کے بعد ایک سندھ کی تنگنائی میں ہی انہیں سیاسی پناہ میسر آئی تھی مگر اب وہ بھی بتدریج کو کم ہوتی چلی جارہی ہے۔بھٹو اور بے نظیر کے حوالے سے قبری سیاست اور مجاوری کا چورن اب بکنابند ہو گیا ہے۔ عوام کو شعور کئی قدم آگے جا چکا ہے ثبوت!۔ کراچی میں پی ٹی آئی نے دھوم مچادی اور اب وہ دیہی سندھ کی طرف سے بھی رجوع کر رہی ہے جس نے اس کی گرتی ہوئی سیاسی دیوار کو مزید لگا دیا ہے۔
2۔ زرداری گینگ کا ایک دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ اس اپنی روبہ زوال عملداری کو قائم رکھنے کے لئے جھوٹے دعوو¿ں، وعدوں اور بڑھکوں پر مشتمل ایک ایسا ست رنگا بیانیہ مشتہر کرنا شروع کر دیا تھا۔ کہ عمران خان کی چھٹی ہونے والی ہے اور اگلی حکومت سندھ میں ہی نہیں ملک بھر میں پیپلز پارٹی کی ہوگی اور یہ کہ بلاول اس حکومت کا وزیر اعظم ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس ضمن میں زرداری کے لئے ضروری تھا کہ وہ سندھ کی تنگنائی سے نکل کر دوسرے صوبوں بطور خاص پنجاب میں بھی اپنے وجود کا ”لوہا “ منوائیں۔ مگر خواب خواہش اور حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ پنجاب میں اپنے لئے گنجائش بنانے کے لئے اس سیاسی گینگ نے اس صوبے میں دوسری بڑی جماعت نون لیگ سے پنگا لینے کی حماقت کر ڈالی۔ نتیجہ! متحدہ اپوزیشن کا رہا سہا بھرم بھی تحلیل ہو کر رہ گیا۔ اور اب زرداری لوگ کراچی کے بلاول ہاو¿س میں دبک کر رہ گئے ہیں۔
3۔ شنید ہے کہ زرداری گھرانے میں سیاسی اختلافات کے ساتھ گھریلو اور خاندانی جھگڑوں نے بھی اس ٹبر کو بدحال کرنا شروع کر دیا ہے اور زرداری کے ساتھ اس کی بڑی صاحبزادی کے جھگڑے بھی مبینہ طور پر روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں جس سے بد ظن ہوکر ہی باپ نے پچھلے دنوں ایک عدالتی پیشی سے واپسی پر کہہ دیا تھا کہ آئندہ اس کی چھوٹی بیٹی آصفہ پارٹی کی قیادت کرے گی۔
4۔ پچھلے ایک مہینے میں بلاول دوبار ہفتے ہفتے بھر کے لئے لاہور میں ڈیرے ڈالے رکھے مگر سوائے کرایے کے چند جیالوں کی نعرہ بازی کے اسے پنجاب سے جو حاصل وصول نہی ہوا۔ اور پچھلے روز تو زرداریوں پر ایک بم اور گر پڑا جب ان کی پنجاب اسمبلی کے 371کے ایوان میں فقط7سیٹیں بھی ہاتھ سے کھسکتی نظر آنے لگی ہیں۔ نون لیگ کے ایک درجن اور زرداری لیگ کے پانچ ارکان صوبائی اسمبلی نے اپنی اپنی پارٹیوں سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے اپنے مستقبل کو پی ٹی آئی سے جوڑنے کا اعلان بھی کر دیا ہے اور اپنی بات کی اصابت کے لئے ان دونوں پارٹیوں کے باغیوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کر کے عمران خان اور پی ٹی آئی پر اپنے اعتماد کا اظہار بھی کر دیا ہے۔
اب تو یوں لگتا ہے زرداری پارٹی کا ذکر آئندہ تاریخ کی کتابوں میں ہی ملا کرے گا۔۔

You might also like More from author