ہوا کے بیچ اور وہ وادردلوں کی فصل

”کاٹھ کی ہنڈیا اور بکرے کی ماں کے پاس آخر مہلت ہی کتنی ہوتی ہے ایک دن تو انہیں انجام کار کو پہنچنا ہی ہوتا ہے ”سیاست عبادت ہے،، اور ”سیاست خدمت ہے،، جیسے چمکیلے نعروں کی آڑ میں اربوں کھربوں کی ڈکیتیاں کرنے والے آخر کار میرے اللہ سوہنے کے قانون مکافات عمل کی زد میں آکر ہی رہتے ہیں۔،،

انہوں نے ہوا کے بیج بوئے ہیں اور وہ واورولوں کی فصل کاٹیں گے۔
یہی ہوتا ہے انجام کار پراس بدطنیت شیطنیت صفت شخص یا جماعت کا جو فطرت کی سندت سے اختلاف کرتی اور خلق خدا سے وعدے وعدے کچھ کرتی ہے پر بدلے میں اسے دیتی وہ ہے جس کا انہیں وہم وگمان تک نہ تھا۔ ہمارے ہاں کے طبقہ بدمعاشیہ اور سٹیٹس کوکی حامی سبھی جماعتوں اور پریشر گروپس کی تہی مرشت چلی آڑہی ہے۔ یہ مخصوص یافتہ عناصر اپنی مادی حرص ولالچ کے تحت افتاداگان خاک کے خون پسینے کی کمائی کی لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں مگر اس دھندے کو بڑی چالاکی مکاری اور عیاری کے ساتھ کچھ محترم اور مقبول اصطلاحوں کے پردے میں چھپائے رکھتے ہیں۔ جمہوریت، صوبائی خود مختاری، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی، روٹی ،کپڑے ،مکان، تعلیم اور علاج معالجے کی سہولت ہر شخص کے لئے وغیرہ وغیرہ۔
ان کے دعوے ہمیشہ یہ رہتے ہیں کہ جمہوریت بہترین نظام حکومت ہے ہمارے لئے سیاست عبادت ہے۔ یا پھر ہم سیاست خدمت کے لئے کرتے ہیں ان نعروں ، دعوﺅں کے بظاہر مخاطبین غریب مسکین اور بے آسرا کسان، کھیت مزدور، داڑھی دار، چھوٹے دکاندار اور سفید پوش ہوتے ہیں مگر صرف جس روز چناﺅ کی پرچی چاہئے ہوتی ہے اس کے بعد تو کون میں کون، شومئی قسمت کہ طبقہ بدمعاشیہ کا یہی طبقاتی کردار ہے انفرادی طور پر وہ اپنے مخصوص مفادات کی غرض سے خواہ نون لیگ ، زرداری لیگ، ق لیگ یا پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں مگر ان کا ہدف اور مقصد ایک اور صرف ایک ہی ہوتا ہے لاکھ لگا کر دس بیس لاکھ کی کمائی ضروری ہے۔ اب جب الیکشن پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والا کامیاب ہو کر اسمبلی یا وزارت تک پہنچ جاتا ہے اور وہ اختیار واقتدار کا مالک بھی بن جاتا ہے۔ تو بھلا سوچیئے کہ وہ اپنی طبقاتی سرشت کے تحت اپنی کروڑوں کی سرمایہ کاری بمع منافع، واپس اپنی اوجڑی اور تجوری میں ٹھونسنے کی فکر کرے گا۔ یا سیاست عبادت اور سیاست خدمت کے جھوٹے وعدوں کی تکمیل کے لئے کوئی جتل کرے گا۔
سو ہم دیکھتے ہیں کہ چھوٹے سے لے کر بڑے سے بڑا منتخب نمائندہ، چند محترم استشناﺅں کے سوا اقتدار واختیار کی بہتی گنگا میں اشنان کرنے مین ایسا مگن ہو جاتا ہے کہ اس شیطانی دھندے سے اس فرصت تب ہی ملتی ہے جب اگلا الیکشن سر پر آن کھڑا ہوتا ہے۔ اور اسے ایک بار پھر غریب لاچار، بیار، بیروزگار اور یتیم ومسکین ووٹروں کی چوکھٹ کھٹکانی پڑتی ہے۔ اور ہمارا یہ غریب احمق ایک بار پھر چند ٹکوں یا بریانی کی پلیٹ اور یا پھر آٹے چینی کے ایک چھوٹے سے توڑے کے تحفے سے ایسا بہکتا ہے کہ بس خدا کی پناہ!
عوام کا شعور ذرا بڑھا اور انہوں نے18 ءکے انتخابات میں مگر حالات نے ایک بڑا پلٹا کھایا دو روائتی پارٹیوں کی باری کی یاری والی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے جناب عمران خان کی پی ٹی آئی پر اپنے اعتماد کا اظہار کر دیا۔ مگر بہت معذرت کے ساتھ جناب عمران خان کی امانت، دیانت اور صلاحیت کے سامنے دبے رہیں لیکن ”زبان خلق،، سے یہی صدائیں آتی سنائی دیتی ہیں کہ ان میں سے بیشتر وہ کچھ کر رہے ہیں کہ ان کی حرام پائیوں کا سارا ملبہ جناب خان پر آن گر سکتا ہے۔
اب آئیے دوسری دونوں روائتی سیاسی جماعتوں زرداری لیگ اور نون لیگ کی طرف ، ان دونوں گینگز اور ٹھگوں کے جتھوں نے جس بری طرح پچھلے تیس پنتیس سالوں میں اس ملک کی معاشرت اور معیشت سے جو کھلواڑ کیا ہے۔ خدا کی پناہ! عوام جو ان کے پے درپے عذابوں سے پہلے ہی نکونک بیزار تھے اب ان کا جب احتساب شروع ہوا ہے تو بھولے بادشاہ عوام کا ماتھا ٹھنکا ہے کہ یہ تھے ان کے نام نہاد رہنما جو دراصل رہزن تھے۔
یوں کہئے کہ اس مرحلے پر وہ الٰہی قانون حرکت میں آگیا جسے اللہ کا قانون مکافات عمل کہا جاتا ہے اس کے تحت لاکھوں سالہ تاریخ کے دورانیے میں اللہ کریم نے اپنے مظلوم بندوں کی حفاظت کے لئے آذروں ، فرعونوں ، قارونوں، ابو لہبوں ، ابو جہلوں کو زرداری وناشریفوں کو صفحہ ہستہ سے مٹا کر کمزور ناتواں طبقوں کو اپنے مقدر کا مالک بناتے ہوئے اقتدار واختیار کی سند پر بٹا دیا کرتا ہے۔
اور آج میرے پاکستانی عوام غریب وناتواں، لاچار وپیار ، بے کس دبے بے بس لوگ جناب عمران خان کی قیادت میں ظالموں سے ان کے مظالم کا حساب لینے کی راہ پر چل نکلے ہیں۔
اب یہ ظالم، لوگوں کو ایک بار پھر بیوقوف بنانے کے لئے جمہوریت معیشت اور اسلام خطرے میں ہے کہ جھوٹے نعرے لگا کر عوام کو جناب عمران خان سے بدظن کرنے کی ناکام کوشش میں نکلے ہوئے ہیں۔ مگر اب تو انہیں اپنے کئے کی سزا مل کر رہے گی ہوا کے بیج بونے والوں کو آخر کار وادردلوں کی فصل ہی کاٹنی پڑتی ہے۔

You might also like More from author