ہمارا چاند کسی غیرمعمولی تصادم کی وجہ سے وجود میں آیا، ماہرین فلکیات

میکسکو: ہماری زمین کے چاند کی پیدائش اور موجودگی ہمیشہ سے ہی ایک معمہ رہی ہے۔ اب بھی خیال ہے کہ شاید چاند نے زمین کے بطن سے جنم لیا ہے۔

ماہرینِ فلکیات کی اکثریت نے چاند کی پیدائش کا مفروضہ پیش کیا ہے کہ اس کا جنم زمین کے بطن سے ہوا اور کسی تصادم کے نتیجے میں زمین کا ایک ٹکڑا الگ ہوکر زمین کے گرد گھومنے لگا۔ مفروضے کی رو سے کوئی ساڑھے 4 ارب سال پہلے مریخ جتنی جسامت کا ایک پتھر ’تھے یا‘ زمین سے ٹکرایا تھا۔

اس ہولناک تصادم سے گرد و پتھر کی بڑی مقدار زمین سے اٹھی اور زمین کے گرد گھومنے لگی۔ دھیرے دھیرے یہ مادہ یکجا ہوکر گول چاند کی صورت اختیار کرگیا اور آج فلک پر دکھائی دیتا ہے۔

اگر یہ خیال درست ہے تو چاند کو زمین اور ’’تھے یا‘‘ کا ملغوبہ ہونا چاہیے۔ اسی بنا پر چاند سے زمین پر لائے گئے بعض پتھروں میں آکسیجن کے آئسوٹوپ (ہم جا) کی مقدارعین زمینی پتھر جیسی ہے لیکن اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان پتھروں میں تھے یا نامی چٹان کے آثار کیوں نہیں مل سکے؟

یونیورسٹی آف نیو میکسکو کے ایرک کینو اور ان کے ساتھیوں نے قمری پتھروں کا نئے سرے سے تجزیہ کیا ہے۔ اس میں انہوں نے ہر پتھر کی درست پیمائش کی ہے اور چاند کے مختلف مقامات سے ملنے والے پتھروں کو الگ الگ دیکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پتھروں کے مختلف مقامات کی بنا پر ہر پتھر کی طبعی اور کیمیائی کیفیت مختلف ہے۔

ایرک کے مطابق زمین پر جتنے پتھر اور چٹانیں موجود ہیں ان میں آکسیجن آئسوٹوپ کی اتنی اقسام نہیں پائی جاتیں جبکہ چاند کی سطح سے ملنے والے آئسو ٹوپ کا تنوع زمین کے مقابلے میں تین گنا زائد ہے۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماہرین نے ماضی میں اس پہلو پر غور نہیں کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اپالو مشن سے زمین پر لائے جانے والے پتھر محدود تعداد میں تھے اور سائنس دانوں کی ایک طویل قطاران پر غور کرنا چاہتی تھی۔ اسی وجہ سے ان پر تفصیلی غور نہیں کیا گیا۔ پھر جنہوں نے اس پر تحقیق کی انہوں نے ہر پتھر کو الگ الگ نوٹ کرنے کی زحمت نہیں کی۔

تازہ تحقیق میں سائنس دانوں نے کہا ہے کہ جو پتھر چاند کے گہرے ترین مقامات سے نکالے گئے ان میں زمینی پتھروں کے مقابلے میں آکسیجن آئسو ٹوپ کی اقسام زیادہ ہے۔ عین یہی پتھر’ تھے یا‘ چٹان کی اصل کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاید چاند زمین سے ہی پیدا ہوا ہے۔

اس تحقیق پر یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنسداں سائمن کیلے نے کہا کہ شروع میں تصادمی مفروضے پر کئی شکوک و شبہات تھے لیکن اب یہ نئے ثبوت اس کی تائید کرتے ہیں، اگر ایسا ہے تو زمین سے چٹان کے ٹکرانے اور اس سے چاند بننے کے خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔

You might also like More from author