بے موسمے نئے کٹے اور ریلو کٹے

ملا جی کی خیانت اور امانت علی سلامت علی

مارچ گزر رہا ہے اپوزیشن کے مارچ کی مگر کوئی خیر خبر نہیں حالات نے اسے مارچ سے پہلے ہی کوئیک مارچ کروا دیا۔ عمران خان نے موثر حکمت عملی کے ذریعے مہنگائی کا خاتمہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے ہتھیار کو کند کر دیا اور دھرنے والوں کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

جو بات شیخ رشید نے اپنے کھلے ڈلے انداز میں کہی اسی کو گجرات کے جٹ چودھری اپنے قبیلے کی سرشت کے برعکس ڈھکے چھپے پیرائے میں کہہ گزرے۔
دونوں جہاندیدہ سیاستدانوں کا مخاطب ایک ہی تھا اور موضوع بھی یکساں، شیخ رشید، پچھلے کئی روز سے کہتے آرہے تھے کہ ملا فضلو خبردار رہے اس بار مارچ میں مارچ کیا تو یہ کوئیک مارچ میں بدل دیا جائے گا اور اگر دھرنا دیا تو دھر لئےجاﺅ گے۔ چوہدری شجاعت نے یہی بات قدر ملفوف اور کھلے ڈھلے سٹائل اور مزاحیہ پیرائے میں کہہ دی انہوں نے ملا فضلو سے مخاطب ہوئے کہا کہ مولانا صاحب آپ اس موسم میں کوئی نیا کٹا نہ کھولئے۔ آپ ایک بڑے باپ کے بیٹے ہیں اشارہ مفتی محمود کی طرف ۔ اس لئے آپ سے زیادہ توقع کی جاتی ہے۔ تب سے اب تک ملا فضلو کے محل نما”حجرے،، میں سکوت پھیا ہوا ہے۔ اور یہ سکوت اور یثرمردگی محض ایک ملا فضلو تک محدود نہیں بڑھ پھیل کر ملا کی چھوٹی چھوٹی آرھتوں گماشتوں کے ٹھیوں اور سیاسی بھتہ خوروں کی کمین گاہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ اتنا بڑا بدلاﺅ کیونکر پیدا ہوگیا۔ ابھی پچھلے مہینے ہی تو معروف سیاسی بروکر اور رینٹ اے مارچ کا دھندہ چلانے والے مذہبی کارڈ استعمال کرنے کے رسیا ملا فضلو نے کراچی سے خیبر تک ایک عجیب غوغا مچا رکھا تھا۔ مارچ میں مارچ ہوگا اور عمران خان اور دوسرے حکمرانوں کو گھر کی طرف مارچ کرنے پر مجبور کردیا جائے گا۔
یہ سوال ایک ہیلو دار جواب رکھتا ہے جس کا تفصیلی ذکر ذیل کی سطور میںکرتا ہوں۔
1 ۔ اپوزیشن پارٹیاں اپنی تمام تر خامیوں کمیوں اور کجیوں کے باوصف مہنگائی اور بے روزگاری کے سنگین ہوے فیکڑ کو ایک ہتھیار کے طور پر عمران خان کے خلاف استعمال کرنے پر متفق تھیں۔ اور اس ہتھیار کے مہلک ہونے میں کوئی دوسری رائے بھی نہ تھی۔ عمران خان نے مگر پچھلے ہفتے ہی ایسے تیر بہدف اقدام اٹھائے جس سے اسے مہنگائی کے بتدریج خاتمے کے مثبت نتائج میسر آنا شروع ہوگئے۔ مثلا اس نے اپنی خصوصی معلومات کی بنیاد پر ذخیرہ اندوزی منافع خوروں اور ان کے سرپرست بیورو کریٹوں کی جونہی کوکشمالی شروع کی وہ سب کے سب ”بندے کے پتر،، بننے لگے۔ اسی دوران تیل اور اس سے منسلک مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کر دی گئی۔ نتیجہ مہنگائی کا پیمانہ مزید نیچے آگیا اور یوں ملک بھر میں عوام نے سکھ کا سانس لینا شروع کردیا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اپوزیشن کی نعرے بازی میں سے مہنگائی کی آڑ میں عمران حکومت کے خلاف شعلہ افشانی پرا دس پڑتی چلی گئی۔ اور اس ایشو پر جو رائے عام اپوزیشن سے ہم آہنگ ہو چکی تھی اب وہ نیوٹرل اور بہت حد تک عمران کیمپ سے منسلک ہو چکی ہے۔
2 ۔اپوزیشن کی جماعتوں میں باہم گر اختلافات اور ان کے بڑی جماعتوں سے یہ گلے شکوے کہ وہ اپنے مطلب کے لئے چھوٹی پارٹیوں کے کندھے استعمال کرتی ہیں اور ٹارگٹ حاصل ہو جانے کے بعد طوطا چشمی انکا وطیرہ بن جاتی ہے۔ اس ضمن میں لون لیگ کی قیادت کے ایک بار پھر بیرون ملک فرار نے بھی ان اتحادی پارٹیوں کو نہ حرف نون لیگ سے بدظن کردیا بلکہ وہ زرداریوں کی سرد مہری سے بھی شدید مایوس ہو چکے ہیں۔
3 ۔ اکتوبر نومبر کے لانگ مارچ اور دھرنے کے لئے فال پانی، لگانے والے ”ناشرفا،، اپنا الو سیدھا ہو جانے پر باہر جا بیٹھےہیں اور اب انہوں نے ملا فضلو کو مزید بھتہ دینے کے سوال پر ٹھینگا دکھا دیا ہے۔
4 ۔ ایک اہم پیش رفت: گجرات کے قاف لیگی چوہدریوں اور حکومت کے مابین غلط فہمیاں دور ہو چکی ہیں۔ چنانچہ اب انہیں بھی ”دباﺅ ،جھکاﺅ، ڈراﺅ،، کے ہتھیار کے طور پر ملا کی ضرورت نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے چند روز پہلے چوہدری شجاعت نے مارچ میں مارچ اور دھرنے کے پروگرام بابت ملا فضلو کو بامعنی سگنل دے دیا ہے کہ وہ درپیش حالات میں کوئی نیا کٹا نہ کھولے۔
ملا فضلو نے کسی سرکسی جوکر کی طر طرح ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ جب ریلو کٹے کی حکومت ہوگی ترکٹے تو کھلتے رہیں گے۔ اس پر چوہدری نے لقمہ لگایا کہ آپ سلامت علی امانت علی کی بہت باتیں کیا کرتے ہیں اس پر ملا نے پھر ایک جگت کہی کیا آپ آئیں گے تو سلامت علی اور امانت علی کے ساتھ خیانت علی کا بھی ذکر چلے گا۔
ملا فضلو پہلے ہی سیاسی یتیمی کے زخم چاٹ رہا ہے۔ اب اس کے لئے روزگار کے نئے در بھی بند ہونے لگے ہیں۔ بہتر ہے وہ کسی ٹی وی چینل پر جگت بازی کے کسی پروگرام میں سٹاف ایکٹر کے طور پر شامل ہو جائے۔ دن اچھے گزر جائیں گے۔

You might also like More from author