وسوسہ، اندیشہ، خدشہ

ان تین عناصر سے بنا اپوزیشن کا بیانہ

اپوزیشن کی تینوں جماعتوں کا مشترکہ خوف ہے عمران خان، انہیں مگر خوش فہمی ہے کہ عنقریب ان کا حریف گھر بھجوا دیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے ابھی سے اپنی خواہشوں کی سست رنگی کے لئے ترجیحات بھی طے کرتی ہیں۔ مثلا زرداری گینگ پنجاب میں اپنے لئے سیاسی گنجائش پیدا کرنے کے لئے نون لیگ اور اس کی قیادت کو تنقید، تنقیص اور طعن وتشنیع کے تیر پر تولنے کا پروگرام طے کر چکی ہے۔

ایک کے بعد دوسری قلابازی
اکھاڑے کے کنارے بیٹھے خلیفہ نے پہلے اپنے پٹھے کے ذریعے حریف پر دھوبی ٹیڑے کا داﺅ پر لگوایا۔ پٹھے بلاول نے جیسے تیسے داﺅ کھیل رہا۔ مگر نتیجہ الٹ نکلا۔ لندن میں بیٹھے جاتی عمرہ کے بھگوڑوں نے پٹھے کے دھوبی ٹیڑے پر سخت ناگواری کا اظہار کردیا۔ سو اس کے ساتھ ہی پٹھے نے ایک دوسری قلا بازی کھائی۔،
ہوا کیا؟
دراصل ظاہر داری کی سیاست میں مشترکہ دشمن عمران خان کے مقابلے کے لئے زرداری گینگ اور ناشریفوں کا طائفہ اپنی اپنی کمزوریوں کو جمع کرکے ایک غیر تحریری معاہدے میں جڑے ہونے کا دعویدار ہیں۔ مگر ہفتہ رفتہ میں خلیفہ زرداری کے اشارے پر ایک تقرر کے دوران ترنگ میں آکر بے بی بلاول سے یہ فقرہ کہلوا دیا گیا کہ نوازشریف بھی سلیکٹڈ وزیراعظم تھا، یاد رہے زرداری گینگ اس جملے کی گردان ہمیشہ عمران خان پر توڑتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے عمران خان کے خلاف ایک اتحاد میں شامل زرداریوں نے اپنے اتحادی”نواز ناشریف کے خلاف سلیکٹڈ کی طعنہ زنی کیوں کی؟
اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں عمران خان نے ”ماورا،، قومی سیاسی منظر نامے کا جائزہ لینا ہوگا۔ جیسا کہ نون لیگ، پیپلزپارٹی اور سیاسی بروکر ملا فضلو مارچ میں حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اس خوش فہمی میں بھی مبتلا ہیں کہ وہ آنے والے ایام میں عمران خان کو گھر واپس بھجوا دیں گے۔ سو وہ اپنے تئیں مائنس عمران دور کو ہی ماورائے عمران سمجھتے ہیں۔ اس مفروضے پر ہی یہ دونوں پارٹیاں اپنی اپنی جماعتی حکمت عملی بھی وضع کرنے کی تیاریوں میں ہیں۔ قومی سطح پر حکمرانی کے لئے سندھ کی راجدھانی کافی نہیں، نمبر گیم کے کھیل میں پنجاب میں اپنی شناخت موثر بنائے بغیر یہ خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ پنجاب میں نون لیگ کے مقابلے میں پیپلزپارٹی بے حیثیت وجود رکھتی ہے۔ اس بے چینی کو موثر شناخت میں تبدیل کرنے کے لئے ناگزیر ہے کہ نون لیگ کو نیچا دکھانے یا اہل پنجاب کو اس پارٹی سے بدظن کرنے کے لئے دونوں پارٹیاں باہمہ گراسی ملا کڑے کا آغاز کریں جس میں ایک طرف اگر شو باز ناشریف اپنے سامنے رکھے مائیکرو فونوں کو جعلی جوش میں زمین بوس کرتے ہوئے یہ دعوے کیا کرتا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر زرداری کو لاہور ،اسلام آباد اور لاڑخانہ کی سڑخوں پر گھیسٹے گا اور اس کی اوجڑی پھاڑ کر اس سے لوٹ کھسوٹ کی دولت باہر نکالے گا اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو عوام اس کا نام بدلد یں جبکہ جوابی کارروائی میں زرداری جاتہ عمرہ کے ناشریفوں کو چور اچکے ٹھگ اور نوسرباز کے تیرے دیتا تھکتا نہیں تھا اس نے جاتی عمرہ کے ”گنجوں،، کو عوامی اجتماعات میں ایسی ایسی صلواتیں سنائیں کہ خدا کی پناہ۔
یہی وہ پس منظر ہے جب عمرانی دور حکومت میں قومی اسمبلی میں پہلی بار لوگوں نے یہ محر العقل واقہ بھی دیکھا کہ دونوں حریف ایک دوسرے کی پیشوائی کرتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے۔ اس ایک قلا بازی نے ہی تمام لوگوں پر طبقہ بد معاشیہ کی ان دونوں پارٹیوں کی منافقانہ سیاست ایک بار پھر پردہ چاک کرکے رکھ دیا۔ ایسے واقعات ہمارے ہاں طبقہ بدمعاشیہ سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کا روز مرہ(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر22
کا وطیرہ بنا لیا ہے۔ اور اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ مقتدر طبقوں کی یہی وہ دوغلی پالیسیاں ہیں جن سے تنگ آکر عوام نے 18 کے انتخابات میں انہیں مسترد کرکے عمران خان کو مسند اقتدار تک پہنچا دیا تھا۔
قلا بازیوں کی رسیا ہماری یہی مفاداتی پارٹیاں ہیں جن کے قول وفعل کے تضاد نے لوگوں کو بتدریج ان سے دور کرنا شروع کردیا ہے۔ اور یہ بھی ان کا دوغلا پن ہی ہے کہ اپنے ادوار حکومت میں ہونے والی مہنگائی پر پردے ڈالنے کے لئے عمران حکومت کے دوران مہنگائی پر طوفان کھڑا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ قلا بازی یہ کہ بلاول نے نوازشریف پر سلیکٹڈ کا تبریٰ پھینک دیا۔ اور ادھر سے ناگواری کا ردعمل آنے پر یکپارٹی پسپائی کی قلابازی کھانے میںبھی کوئی تاخیر نہ کی۔
پر یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ زرداری گینگ پنجاب واجدھانی میں اپنی گم گشتہ مقبولیت اور پذیرائی کیونکر اور کیسے حاصل کرسکتا ہے۔
اس سوال کا جواب میں پہلے بھی کئی بار دے چکا ہوں۔ تاریخ کے سفر پر رواں دواں بس اب بہت آگے جا چکی ہے ناشریفوں قریب قریب ناممکن ہو چکا ہے۔۔
اور اسی ہفتے جب حکومتی اقدامات سے مہنگائی کا زور ٹوٹنے لگا ہے تو اپوزیشن کو تو بس سانپ ہی سونگھ گیا ہے ۔
اور تازہ ترین

You might also like More from author