کیا وٹامن سی کورونا وائرس کو روک سکتا ہے؟

بیجنگ: وٹامن سی سردی، فلو اور زکام کو دور کرنے، دماغی قوت بڑھانے اور دورانِ خون کو باقاعدہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن کیا وٹامن سی کورونا وائرس کے حملے کو روک سکتا ہے؟ اس کا جواب ہے کہ شاید یہ ممکن ہے۔

پوری دنیا میں وٹامن سی کو یادداشت میں کمی دور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ 1970ء میں نوبیل انعام یافتہ سائنسداں لینس پاؤلنگ نے کہا تھا کہ وٹامن سی کی بدولت جاڑے اور سردی کے حملے کو ٹالا جاسکتا ہے لیکن بعد میں یہ تحقیق غلط ثابت ہوئی تھی۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے سائنس دانوں نے کہا تھا کہ وٹامن سی جس تیزی سے جسمانی امنیاتی نظام کو بہتر کرتا ہے، اتنی ہی جلدی اس کا اثر بھی زائل ہوجاتا ہے۔

پھر 2017ء میں ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر روزانہ 1000 ملی گرام وٹامن سی کھایا جائے تو سردی لگنے کے دورانیے میں 8 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔
وٹامن سی اور کورونا وائرس

چین میں اس وقت ایک بہت بڑا سروے جاری ہے جس میں نوٹ کیا جائے گا کہ آیا وٹامن سی کورونا وائرس یعنی کووِڈ 19 کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟ ووہان یونیورسٹی میں زونگنان ہسپتال کے سائنس داںوں نے کورونا وائرس کے شکار 120 مریضوں کو مسلسل سات روز تک روزانہ وٹامن سی کی 24 گرام مقدار کھلائی اور ان کاجائزہ لیا تاہم اب تک یہ رپورٹ منظرِ عام پر نہیں آسکی۔

چینی ماہرین نے صرف اتنا بتایا ہے کہ وٹامن سی کی اس غیرمعمولی مقدار کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں لیکن اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ وٹامن سی کے دیگر بہت سے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ اس سے عمررسیدگی کا عمل سست پڑتا ہے اور دماغی صحت برقرار رہتی ہے۔ مثلاً تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ وٹامن سی کی کمی سے ایک جانب تو دماغی نشوونما پر فرق پڑتا ہے اور اس کی روزانہ مناسب مقدار ڈیمنشیا سمیت کئی دماغی امراض کو روک سکتی ہے۔

علاوہ ازیں اگر عمررسیدہ افراد وٹامن سی استعمال کریں تو اس سے یادداشت بہتر رہتی ہے اور بہت سے اقسام کے دماغی عارضوں کی رفتار کو سست کیا جاسکتا ہے۔ نوجوانوں میں وٹامن سی کے سپلیمنٹ دماغی صلاحیت بڑھاسکتے ہیں۔

You might also like More from author