دن میں تین بار دانتوں کی صفائی سے ذیابیطس کے خطرے میں کمی

سیؤل ، جنوبی کوریا: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اگر آپ دن میں تین بار دانتوں اور مسوڑھوں کو صاف رکھتے ہیں تو اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بہت حد تک دور ہوسکتا ہے۔

اس کی وجہ ماہرین نے یہ بتائی ہے کہ دانتوں، مسوڑھوں اور منہ کی اچھی طرح صفائی سے دانت گرتے نہیں اور مسوڑھے صحت مند رہتے ہیں۔ دوسری صورت میں اندرونی سوزش اور سوجن بعض کیمیکلز خارج کرتی ہے جو بدن میں ییپا ٹائٹس کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

اس امر کو تفصیل سے جانچنے کے لیے جنوبی کوریا کے سیئول ہسپتال کے ماہرین نے مسلسل 10 برس تک دو لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لیا۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ باقاعدگی سے دن میں دو مرتبہ برش کرتے ہیں ان میں ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 8 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ اگر مسوڑھوں میں سوزش ہے تو یہ خطرہ 9 فیصد ہوجائے گا اور دانت گرنے کے بعد ذیابیطس کا احتمال 21 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

سائنس دانوں نے یہ تحقیق ایک جرنل ڈائبیٹو لوجیا میں شائع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دانتوں کے میل، مسوڑھوں کے امراض اور دانت گرنے سے ذیابیطس کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ دانتوں اور منہ کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔

اس تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ جن افراد کی عمر 51 برس یا اس سے کم تھی اگر وہ دن میں تین مرتبہ دانت برش کریں تو ذیابیطس سے بچاؤ 10 سے 14 فیصد تک ممکن ہوجاتا ہے تاہم 52 سال سے زائد عمر کے افراد میں کوئی واضح فرق نہیں دیکھا گیا۔

اس مطالعے میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 88 ہزار افراد نے حصہ لیا اور خواتین میں بھی دانت صاف کرنے کے بہتر اثرات سامنے آئے لیکن اب تک اس کی درست وجہ سامنے نہیں آسکی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید دانت صاف نہ کرنے کی وجہ سے بعض کیمیکل جسم کے اندر سرایت کرکے ایسی کیفیات پیدا کرتے ہیں جس سے ذیابیطس لاحق ہوسکتی ہے۔

You might also like More from author