یقین کی قوت اور عمران خان

روزنامہ جنگ میں برادرم حامد میر نے عمران خان اور ان کے دھرنے کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھ کر مجھے 23اپریل کی رات کا آخری پہر یاد آرہا ہے ۔ میرے خیال میں ساڑھے تین بجے ہوں گے ۔ میں اپنی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر اپنے جسم کو تھوڑا سا آرام دینے کی کوشش کررہا تھا کہ میر ے کانوں سے عمران خان کی آواز ٹکرائی۔ وہ کسی سے کہہ رہے تھے۔
” میں یہاں آرام کرنے نہیں آیا ۔“
مجھ پر قدرے غنودگی طاری تھی ۔ میں نے چونک کر سراٹھایا اور شیشے سے باہر کی طرف دیکھا۔ عمران خان تین آدمیوں کے ساتھ کھڑے تھے جو انہیں واپس سٹیج پر جانے سے باز رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ ان میں ایک شیخ امین تھے جن کا گھر باغ ناراں چوک کے بالکل ساتھ ہے اور جنہوں نے اپنے گھر کے دروازے دھرنے کے شرکاءکے لئے کھول رکھے تھے ۔ دوسرے دونوں اصحاب کا تعلق یقینی طور پر سکیورٹی سے ہی تھا کیوں کہ وہ سکیورٹی کے حوالے سے ہی اپنے خدشات کا اظہار کررہے تھے۔ تھوڑی دیر تک عمران خان ان کے دلائل سنتے رہے۔ پھر انہوں نے چوکیدار سے کہا کہ دروازہ کھولو۔
” زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ “ خان صاحب نے گیٹ کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ ” میں جس مقصد کے لئے یہاں آیا ہوں وہ مجھے اپنی زندگی سے زیادہ عزیز ہے۔“
خان صاحب کے جانے کے بعد میں گاڑی میں سے باہر نکلا اور اپنے میزبان شیخ امین صاحب سے کہا۔
” آپ شاید خان صاحب کو زیادہ نہیں جانتے۔ انہوں نے جو فیصلہ کرلیا ہے وہ اسی پر عمل کریں گے۔“
” کم ازکم آپ تو اندر چل کر تھوڑی دیر آرام کرلیں۔ “ انہوں نے مجھ سے کہا۔
” یہ کیسے ممکن ہے شیخ صاحب کہ ہمارا لیڈر اوپر کنیٹنر کی غیر ہموار چادر پر سوئے اور میں آرام کے لئے بستر کا انتخاب کروں۔؟“ میں نے ان سے کہا۔ ” بہرحال ہم سب آپ کی مہمان نوازی پر آپ کے شکرگزار ہیں۔“
” آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف ہمیں بتایئے گا ۔“ انہوں نے مجھ سے کہا اور اندر چلے گئے۔
تھوڑی دیر بعد میں باہر دھرنے والی جگہ پر آیا۔ کچھ لوگ جاچکے تھے مگر کافی بڑی تعداد چوک میں ڈٹی ہوئی تھی۔میں نے سٹیج کی طرف دیکھا۔ اوپر خان صاحب نیم دراز نظر آئے۔ سیڑھیوں پر انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوان پہرہ دے رہے تھے۔
کافی دیر تک میں رات کے بڑھتے ہوئے سناٹے میں وہاں گھومتا رہا۔
میرے ذہن میں وہ گفتگو گونجی جو دوپہر کے وقت اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے دوران سفر میرے اور عمران خان کے درمیان ہوئی تھی۔
” میں جب بہت چھوٹا تھا اکبر صاحب“ خان صاحب نے باتوں کے دوران کہا ” تو میری والدہ نے میرے لئے ایک بزرگ خاتون سے دُعا کرائی۔ میں اکلوتا بیٹا تھا اور میری ماں نے میرے بارے میں یقینا بہت بڑے خواب دیکھے ہوں گے ۔ اس بزرگ خاتون نے میری ماں سے کہا کہ تمہارا بیٹا بڑا ہو کر بڑے کام کرے گا اور بڑا نام کمائے گا۔ اسے اللہ سے یہ دُعا کرنا سکھاﺅ کہ ’ تو ہی سب سے بہتر وکیل ہے ¾ ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ اور تیرے ہی سامنے جھکتے ہیں۔ چنانچہ یہ دُعا میرے وجود کا حصہ بن گئی اور میری پوری زندگی اسی دُعا کے اردگرد گھومتی ہے۔ میں نے کبھی مایوسی کو اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیا۔ ہمیشہ اس یقین کے ساتھ جیاہوں کہ خدا میری مدد کے لئے ضرور آئے گا۔ ہمارا کام صرف پوری دیانت داری اور توانائی کے ساتھ کوشش کرنا ہے۔ کوشش کا ثمر دینے والی ذات خدا کی ہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے ملک کے عوام ایک دن ضرور جاگیں گے۔اور میرا دل کہہ رہا ہے کہ وہ دن آپہنچا ہے ۔ شاید ہمارا یہ سفر تقدیر کا سفر بن جائے۔“
عمران خان کے یہ الفاظ یاد کرکے میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دُعا کی کہ آج کے روز لوگ اور زیادہ تعداد میں عمرا ن خان کی آواز کو لبیک کہیں۔
تھوڑی دیر بعد اذانیں شروع ہوگئیں۔ میں نے جاکر وضوکیا نماز پڑھی اور واپس گاڑی میں آگیا۔
حامد میر نے ٹھیک لکھا ہے کہ جب آدمی سرہتھیلی پر رکھ کر میدان میں اتر آئے تو قدرت اپنا فیصلہ اس کے حق میں سنائے بغیر نہیں رہتی۔
برادرم ہارون رشید نے بھی ٹھیک لکھا ہے کہ اپنی جماعت کی تمام تر انتظامی کمزوریوں کے باوجود عمران خان اس قوم کی نوجوان نسل کی آخری امید ہیں۔
میں آخر میں اپنی وہ بات یہاں دہرانا چاہتا ہوں جو پشاور سے واپسی کے سفر میں میں نے عمران خان سے کہی۔
” آپ جیسے پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں اس کا سورج ایک روز ضرور طلوع ہوگا ¾ مگر میرا خواب اس سے آگے ہے۔ میں عالمی افق پر سطوت اسلام کا ستارہ ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا دیکھ رہا ہوں“۔
زندگی کا مزہ خوابوں کے ساتھ جینے میں ہی ہے۔
)یہ کالم اس سے پہلے 26-04-2011 کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author