تاریخ کے کوڑے دان کے کیڑے

”ناہنجار اور علم ودانش سے تہی وصف میرے ممدوح اپوزیشن نہیں جانتی کہ اس کی بے وقت کی راگنی اور ہف ہف شف شف سے تاریخ کے پہیے کو الٹا نہیں گھمایا جا سکتا ، اسے ترقی اور تعمیر کی جدوجہد کا حصہ بننا پڑے گا بصورت دیگر ایک شرمناک شکست تو اس کا نصیبہ ٹھہر ہی چکی ہے،

انہیں سونپ ہی تو سونگھ گیا۔
امریکہ طالبان امن معاہدہ ہو یا اشیائے خوردونوش، آٹا چینی اور بصور خاص پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں درپیش حالات میں نمایاں کمی یا امن عامہ کی نسبتا بہتر ہوتی صورت حال ہو اپوزیشن کی صفوں میں تو گویا صف ماتم ہی بچھ جاتی ہے۔
ابھی پچھلے روز ہی بے بی بلاول امریکہ طالبان امن معاہدے میں سے کیڑے نکال رہا تھا۔ پچھلے روز لاہور میں رولڈ گولڈ اردو میں بیان بازی کا شوشہ چھوڑتے ہوئے اس ناہنجار سیاست نے یہ فتوی بھی صادر کر دیا کہ جب تک اشرف غنی کی حکومت کو ان مذاکرات میں شریک نہ کیا جاتا اور وہ اسمبلی میں یکے از دستخط کنندگان نہ ہوئی تب تک اس معاہدے کی اصابت مشکوک ہی رہے گی۔
ایک سیاسی نابالغہ کیا نہیں جانتا کہ فی الوقت افغان ایشو کے بنیادی فریقین امریکہ اور طالبان ہیں۔ جہاں تک کابل کے نواح تک حکومتی رٹ رکھنے والی اشرف غنی انتظامیہ کا تعلق ہے تو وہ محض امریکی اشاروں پر ناچنے والی ایک کٹھ پتلی ہے اس کی کیا حیثیت وہ اپنے اپنے آقائے دلی نعمت امریکہ کے حکم کی رتہ بھر سرتابی بھی کرسکے۔
دراصل معاملہ یہ ہے کہ بلاول ہو یا اپوزیشن کے دیگر وابستگان ان سب کا سب سے بڑا دکھڑا ہی ایک ہے اور وہ ہے عمران خان کی ملک کے اندر اور باہر ہر دم بڑھتی پھیلتی مقبولیت، چونکہ امریکہ عمران امن معاہدے کی تکمیل میں جناب عمران خان کی سفارتی خدمات کا گہرا رشتہ وتعلق ہے اور ساری دنیا خطے میں فروغ امن میں عمران خان کی خدمات کو تحسین کی نظر سے دیکھنے لگی ہے اور اپوزیشن چاہتی ہے کہ عمران خانکو مسند اقتدار پر پیر جما دینے سے پہلے ہی اس کے پیروں سے قالین کھینچ لیا جائے مگر ناہتجار نہیں جانتے کہ تاریخ کا پہیہ پیچھے کو نہیں گھمایا جا سکتا۔ پاکستان کے معروضی حالات ہیں اس نہج تک لے آئے ہیں کہ اب اہل وطن کسی طور کرپٹ سیاسی عناصر کو اقتدار کا حقدار نہیں سمجھتے اور وہ اس حقیقت کو بھی پا چکے ہیں کہ فی الوقت ملک میں اپوزیشن جس مہنگائی اور بے روزگاری کو بہانہ بنا کر عمران حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔ یہ سارے مسائل تو اسی اپوزیشن کے ادوار اقتدار کی وجہ سے پسا ہوئے ہیں کیونکہ کیا پی پی پی اور کیا نون لیگ انہوں نے بڑے بڑے نام نہاد تعمیراتی منصوبوں کی آڑ مین قومی خزانے پر جواریوں کا ہاتھ صاف کیا یہ اسی کے سبب سے قومی معیشت کی غرقابی کا المیہ ہمیں درپیش ہے۔ جو اپنی ذاتی دیانت اور امانت کی اصابت کی بنیاد پر اس ملک کو کرپشن فری کلچر کی طرف گامزن کئے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں جناب عمران خان کی شخصیت اور کارگزاری کے اس پہلو کی کھلے بندوں تحسین کا سلسلہ جاری ہے جس کا ایک ثبوت یہ ہے مختلف ممالک کی معیشت کی بہتری کے جو اقتصادی اعشاریے وضع کئے جاتے ہیں۔ ان کی رو سے ہماری معیشت بتدریج مثبت نتائج دینے لگی ہے۔ درآمدات کا حجم کم اور برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اسی طرح کرنٹ اکاﺅنٹ ڈیفے سیٹ میں بھی زبردست کمی آگئی ہے اس میں عمران خان کی معاشی ٹیم کی اعلیٰ کارگزاری کے ساتھ ساتھ حکومت کی قومی سطح پر بالخصوص اور سرکاری پیمانے پر بالعموم سادگی اور کفایت شعاری کی حکمت عملی کا بھی بہت موثر عملی فعل ہے۔
چند روز پہلے حکومت نے ایک اور پیش رفت کی ہے عوامی بہبود کے لئے پٹرولیم مصنوعات، آٹے، چینی دالوں اور دیگر اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں زبردست کمی کر دی ہے۔ جس سے مہنگائی میں پسے ہوئے عوام بطور خاص غریب طبقوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔
یہی وہ حالات و واقعات ہیں جنہوں ہماری انتشار زدہ”متحدہ،، اپوزیشن کی صفوں میں تو گویا صف ماتم بچھ گئی ہے تاہم یہ الگ بات ہے کہ ” میں نہ مانوں،، کے مصداق بے بی بلاول ہو،پسروری بقراط اور طوطا فال مار کر پروفیسر احسن اقبال ہو یا شاہد خاقان عباسی ہو ان کی زبانیں اب بھی ہلکائے ہوئے جانوروں کی طرح ان کے ذہوں سے نیچے لٹکی ہوئی حالت میں حکومت مخالفت میں غوں غاں اور ہف ہف شف شف میں لپٹی ہوئی ہیں۔
کاش یہ لوگ تاریخی حقائق اور معروضی حالات کا درست ادراک کرپاتے اور ملک میں حقیقتی اپوزیشن کے دائرے میں رہتے ہوئے مثبت تعمیری اور صحت مند حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک میں جمہوری اقدار کو فروغ دے پاتے۔ مگر ان تلوں میں تیل کہاں، یہ اسی طرح شوروغوغا کرتے ہوئے تاریخ کے کوڑے دان کے کیٹروں کی طرح مرکھپ جائی گے اور اہل پاکستان عمران خان کی قیادت میں اسی طرح ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے کوشاں رہیں گے ان کی کامیابی نوشتہ دیوار ہے۔

You might also like More from author