نام کمانے کی آرزو

میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم سب اپنے اندر سے ” دولت کی ہوس“ اور” اقتدار کی بھوک“ نکال باہر پھینکیں تو ہم بڑی حد تک ایک جیسے ہوجائیں گے۔ پھر آصف علی زرداری ¾ میاں نوازشریف ¾ عمران خان ¾ الطاف حسین ¾ اسفندیار ولی خان اور مولانا فضل الرحمن میں کوئی زیادہ فرق نہیں رہے گا۔ ” زیادہ “ کا لفظ میں نے یہاں اس لئے لکھا ہے کہ فرق بہرحال ایک انسان اور دوسرے انسان میں ضرور ہوتا ہے۔ اور یہ فرق ” دولت کی ہوس“ اور ”اقتدار کی بھوک “ سے ہٹ کر بھی ہوتا ہے۔وضاحت میں اس بات کی یوں کروں گا کہ اگر ” دولت کی ہوس“ اور ” اقتدار کی بھوک“ کے معاملے میں میاں نوازشریف اپنے کاروباری پس منظر کے ہاتھوں مجبور نہ ہوتے تو میں انہیں ہر لحاظ سے قابل قبول اور قابل احترام قرار دیتا۔ آدمی کی بے شمار خوبیاں ” دولت کی ہوس “ اور ”اقتدار کی بھوک“ کی نذر ہوجایا کرتی ہیں۔
جہاں تک جناب آصف علی زرداری کا تعلق ہے وہ کچھ الگ تھلگ خصوصیات کے حامل ہیں۔ ان کا موازنہ سیاسی منظر نامے پر موجود کسی بھی شخصیت کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں میں یہ بات زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ ” اقتدار کی بھوک“ اور ” دولت کی ہوس“ اکثر ” لازم و ملزوم“ حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔
عمران خان کو دوسرے ” اکابرین“ پر فوقیت اس لئے حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو نہ تو اقتدار کا محتاج بنایا ہے اور نہ ہی دولت کا۔
ان کا پورا کیریئر ایک ہی ” طلب“ کے اردگرد گھومتا ہے۔
نام کمانے کی طلب۔۔۔
پہلے انہوں نے کرکٹر کی حیثیت سے ¾ اور پھر شوکت خانم میموریل ہسپتال کے خواب کو عملی جامہ پہنا کر نام کمایا۔
اب وہ ایک اور خواب کے تعاقب میں ہیں۔
اور شاید وہ خواب یہ ہو کہ تاریخ میں ان کا نام پاکستان کو ایک روشن تر مستقبل کی راہ پر ڈالنے والوں میں لکھا جائے !
)یہ کالم اس پہلے 17-04-2011 کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author