معاہدے کی کامیابی، امکانات، خدشات، خطرات

افغان، عمران خان،”طالبان خان“ ( آخری قسط)

قبائلی اور لسانی و علاقائی تقسیم میں مبتلا افغان وار لارڈز، جنگی و عسکری سازوسامان کی خریدوفروخت کی خریدو فروخت کے دھندے میں ملوث سرمایہ کار اور افغانستان میں کروڑوں ڈالرز کی انویسٹمنٹ کرنے والا بھارت اور موجودہ افغان حکو مت امن معاہدے کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر عالمی رائے عامہ ان کی راہ میں سنگ ِگراں بن رہی ہے

جغرافیہ انسان کے مزاج کی ماں کے مثل ہوتا ہے
ماں کی تربیت ہی اس کی سرشت بن جاتی ہے
سنگلاخ، بے آب و گیاہ اور کھردری سرزمین اور اس پر بسنے اگنے والے انسان اور ان کے مزاج ہی افغانیوں کا طرہ امتیاز ہے۔ ہٹ اور ضد کہہ لیجئے یا مثبت پہلو سے دیکھیں تو پختہ عزمی سبھی جا سکتی ہے
سال ہا سال تک روسی فوجوں سے دفاع وطن کی جنگ بلاشبہ افغانیوں کی بلند حوصلگی اور پختہ عزمی کی آئینہ دار تھی مگر پھر روسی افواج کے اخراج کے بعد جب انہیں اقتدار نصیب ہوا تو ضد، ہٹ دھرمی اور کھردرے پن نے ان کے سارے اجتماعی تشخص کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ افغان قوم غیر معمولی خون خرابے کے باوجود میسر ہونے والی اذادی اور اقتدار کو سنبھال نہ سکی،نتیجہ;238; باہمدگر سر پھٹول، لڑائی کٹائی، کھینچا تانی، آپا دھاپی اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا ایک تکلیف دہ سلسلہ افغان سیاسی و معاشرتی منظر نامہ کا جزو اعظم بن کر رہ گیا۔ کہیں مشرقی مغرب اور سمال جنوب کے علاقئی تعصبات گل کھلانے لگے اور کسی جگہ لسانی و مسلکی تعصبات نے قوم کو تقسیم در تقسیم کے شیطانی چکر میں الجھا کر رکھ دیا۔
ملائی طالبان کے عہد میں تو افغان معاشرہ مزید تقسیم کا شکار ہو گیا، بظاہر اسلامی خلافت کے دعوے اصل میں مگر وہی مختلف النوع تعصبات کا کھیل۔ نتیجہ سمندری رسائی سے محروم افغانستان اور اس کے عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ حکمرانی اور اقتدار کے نشے میں اسقدر بے سدھ ہو جانے والا ہجوم ہے کہ جسے اپنے ہوتے ہوئے کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اور شومئی قسمت کہ افغانوں کی بحیثیت مجمودی یہی وہ خامی، کسی او ر کجی ہے جس نے پچھلے 19سال سے افغانستان کو جنگ کی بھٹی میں جھونکے رکھا۔ اور اب جبکہ عمران خان اور پاکستان کے غالب تعاون اور بیک ڈور سمیت اوپن ڈور ڈپلو میسی کے ذریعے دوحا میں امریکہ اور افغان طالبان میں معادہ امن طے پا گیا ہے اور اس سلسلہ مضامین کے پہلے اجزاءمیں اس معاہدے کے چاروں نکات بیان کئے جا چکے ہیں اور کرہ ارض پر موجود ہر امن پسند شخص اس پر فرحاں و شاداں ہے، خود مگر افغانستان سے ایک بار پھر بے چینی، اضطراب اور اختلاف کی باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ معاہدے کی ایک شق کے تحت افغان حکومت اور طالبان جو عملی طور پر افغانستا ن کے چالیس فیصد رقبے پر کنٹرول رکھتے ہیں ، کے معابین مستقبل قریب میں نئے ملکی ا?ئینی بندوبست جیسے اہم معاملات پر مذاکرات طے ہو چکے ہیں۔ مگر افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے اپنی الگ سے ڈفلی بجانی شروع کر دی ہے۔ جس کی تان اس با پر ٹوٹتی ہے(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر56
کہ” میں نہ مانوں “۔ اسی طرح ملک کے شمالی علاقوں کے ازبک، تاجک اور مشرق میں پشتو ن ا?بادی کے نمائندگان اپنے شکوک و شہباہت کے ساتھ روٹھ کر بیٹھ گئے ہیں۔
ادھر دوسری طرف یہ خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ ازبک اور تاجک یہ موقف رکھتے ہیں کہ وہ طالبان کو بزور قوت اقتدار سے دور رکھنے کے جتن کرنے سے باز نہ ا?ئیں گے۔ کمزورنیشل فوج کے ہوتے ہوئے یہ خدشات تیزی سے سارے منظرنامے کو گدلا کر رہے ہیں۔ ڈر ہے کہ اگر ان مختلف النوع تضادات کے مارے نسلی، لسانی ، علاقائی اور مسلکی گروہ ایک بار پھر اپنی عاقبت نا اندیشی کے سبب سے آپس میں دست گریبان ہو گئے تو امریکہ کو ایک بار پھر بہانہ مل جائے گا کہ وہ کلی طور پر افغان سرزمین سے عسکری انخلا میں لیت و لعل سے کام لے۔اس نا گفتہ بہ صورت حال اور کشیدگی سے اٹے پڑے آتشیں ماحول پر تیل چھڑکنے کے لئے بھارت کا بل، قندھار، جلا ل ا?باد اور مضافات افغانستان میں موجود ہے۔ مزید براں ملک میں ا?ج بھی قبائلی تقسیم کے شکار وار لارڈز کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان سب کے کارو باری اور مالی مفادات بھارتی وامریکی سرماکہ کاروں سے قائم رہے ہیں جو جنگی ضروریات کا سازوسامان افغانوں کو فروخت کر کے کروڑوں ڈالروں ک دولت سمیٹنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ افغانستان میں امن قائم ہو جانے کے نتیجے میں ان تمام عناصر کا کاروبار ٹھپ ہو جانا یقینی ہو چکا ہے سو بھارتی را کے ساتھ مل کر یہ سب عناصر کسی بھی قسم کی اندرونی شورش کو ہوا دے سکتے ہیں جس میں سے ایک کا تعلق امن معاہدے کی اس شق سے ہے جس کے مطابق امریکہ کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ اگر طالبان ے اس دوران معاہدے کی کسی شق پر بھی عمل نہ کیا تو وہ پھر سے اس ملک میں دوبارہ بھرپور عسکر ی قوت کے ساتھ ا?دھمکے گا۔ مبصرین کو خدشہ ہے کہ امن معاہدے کے مخالفین یہ عناصر طالبان کے بھیس میں امریکیوں پر دوچار حملے کر دیں تو سارا امن معاہدہ کھنڈٹ ہو کر رہ سکتا ہے۔تا ہم عالمی رائے عامہ اور اردار من کے علمبر حلقے مطمئن ہیں کہ وہ اپنی اجتماعی نگرانی اور کوششوں سے امن معاہدے کے مخالفین پر قابو پالیں گے اور یہ معاہدہ ہر صورت میں کامیاب ہو جائیگا دوسری طرف عالمگیر سطح پر امن معاہدے کوپایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔عمران خان کی خاموش اور ظاہری ڈپلومیسی کے اعتراف میں انہیں امن کا نوبل ایوارڈ دینے کا مطالبہ زور پکڑ تاجا رہاہے۔۔۔۔

You might also like More from author