قبل ازوقت پیدائش سے خبردار کرنے والی ایپ

لندن: پوری دنیا میں ہرسال لاکھوں بچے یا تو قبل از وقت آنکھ کھولتے ہیں یا پھر وہ کسی نہ کسی پیچیدگی کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں لیکن اب ب ایک ایپ اس سے خبردار کرسکتی ہے تاکہ مائیں چوکنا رہ کر اپنا علاج کرواسکیں اور اپنی اور آنے والے بچے کی جان بچاسکیں۔

پوری دنیا سمیت پاکستان میں بھی بچے رحمِ مادر میں مدتِ حمل کے 37 اہم ہفتے پورے نہیں کرپاتے اور اس دنیا میں کئی امراض کے ساتھ آنکھ کھولتے ہیں۔ ایسے بچوں کو عام طور انکیوبیٹر میں بھی رکھا جاتا ہے۔

اب ایک ایپ QUiPP v2 کے ذریعے ماں کے حمل اور قبل از وقت بچے کی پیدائش پر نظر رکھی جاسکے گی۔ یہ ایپ بالخصوص ایک قسم کا اہم پروٹین ’فیٹل فائبرونیکٹن‘ پر نظر رکھتی ہے۔ یہ پروٹین رحم کے اندر مائع کی تھیلی کو رحم کی دیوار سے ’چپکائے‘ رکھتا ہے۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ کسی انفیکشن یا بیماری کی کیفیت میں حمل کے چپکنے کی یہ صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ کوئی خاتون چند دنوں یا ہفتے میں بچے کو وقت سے قبل جنم دے سکتی ہے۔

برطانیہ میں مریضوں کے تحفظ کی وزیر ناڈین ڈوریز کے مطابق بچے کی قبل از وقت پیدائش اولاد کی خوشی کو خوف میں بدل دیتی ہے۔ اس طرح بچے کی قبل از وقت پیدائش کو نوٹ کرکے ہم زچہ و بچہ ، دونوں کو ہی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق جو بچے 24 ہفتے میں آنکھ کھولتے ہیں ان کے زندہ رہنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں تاہم ان کے پھیپھڑے یا تو پوری طرح نہیں بنتے یا پھر طرح طرح کے امراض اور انفیکشن کے شکار ہوجاتے ہیں یا پھر دماغی امراض میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔

کسی بھی خطرے کی صورت میں ڈاکٹر ماؤں کو مکمل آرام کا مشورہ دیتے ہیں۔ کنگز کالج کے ماہرین نے یہ ایپ تیار کی ہے ۔ QUiPP v2 ایپ خاتون سے بعض کیفیات کے متعلق پوچھتی ہیں جن میں سکڑاؤ، ماہانہ ایام جیسے درد، کمرکی تکلیف اور بار بار پانی کی تھیلی پھٹ جانے یا بہہ جانے کا ان دیکھا احساس شامل ہیں۔

اسی طرح رحم کی چوڑائی کم ہونے کو بھی ایپ نوٹ کرتی رہتی ہے اور ان علامات کی بنا پر خطرے کو فی صد میں ظاہر کرتی ہے۔ کنگز کالج کے ماہرین نے ایپ کو باقاعدہ استعمال کیا ہے اور اس کی تفصیلات متعلقہ سائنسی جریدے میں شائع کرائی ہیں۔

اس ایپ پر کام کرنے والے سب سے اہم ماہر ڈاکٹر جینی کارٹر کہتی ہیں کہ اب ہم اپنی تحقیق لوگوں کے سامنے پیش کررہے ہیں اور یہ ایپ ہر طرح سے قابلِ اعتبار ہے جس سے خطرے کی شکار خواتین کی نشاندہی ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر جینی نے کہا کہ خود ماں، ڈاکٹر اور دیگر طبی عملے کے لیے یہ ایپ بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال ڈاکٹروں اور ہسپتالوں پر مرض کا بوجھ کم کرے گا اور سب سے بڑھ کر انسانی جانوں کو بچانا ممکن ہوگا۔

دوسری جانب ایپ کو ایک اور ہسپتال سینٹ تھامس میں بھی استعمال کیا گیا ہے جس کے نتائج اگلے چند ماہ میں پیش کیے جائیں گے۔

You might also like More from author