ایبولہ اور مرس وائرسز کی دوا کا امتزاج کورونا مرض کے خلاف مؤثر ثابت

ٹورنٹو، کینیڈا: سائنسدانوں نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے کورونا وائرس کے علاج کے لیے اچھی خبر سنائی ہے۔ کووِڈ 19 وائرس کے معالجے میں مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور ایبولہ کے علاج میں استعمال ہونے والی ایک دوا مفید ثابت ہوئی ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد تین ہزار کے لگ بھگ ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس وائرس کی مناسبت سے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ اس تناظر میں ایک دوا ریمڈیسائیور کورونا انفیکشن کو ختم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

یونیورسٹی آف البرٹا کے سائنس دانوں نے اس دوا کی آزمائش کی ہے اور اسے کورونا انفیکشن کے خلاف بہتر قرار دیتے ہوئے اس کی تفصیلات جرنل آف بائیلوجیکل کیمسٹری میں شائع کی ہے۔
واضح رہے کہ ریمڈیسائیور دوا 2014ء میں تیار ہوئی تھی جسے ایبولہ اور ماربرگ وائرس انفیکشن کے لیے بنایا گیا تھا تاہم اپنی جینیاتی کیفیت کی بنا پر یہ کئی طرح کے دوسرے انفیکشن بھی ختم کرسکتی ہے جن میں مشہور زمانہ وائرسز سارس اور مرس شامل ہیں۔

جنوری میں اس دوا کو کورونا وائرس کے مریضوں پر آزمایا گیا اور ایک مریض امریکا میں موجود تھا۔ امریکی مریض کو انفیکشن کے ساتویں دن یہ دوا دی گئی اور جلد ہی مریض صحت یاب ہوگیا۔اس بات کی تفصیلات ایک اور تحقیقی جریدے، نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئیں۔

بعد ازاں عالمی ادارہ برائے صحت کے نائب سربراہ بروس ایلی ورڈ نے کہا ہے کہ ریمیڈسائیور واحد دوا ہے جو کورونا مرض کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ اس کا خاص مالیکیول وسیع اقسام کے آر این اے وائرس کے خلاف مؤثر ثابت ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ کورونا سے لڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

مزید براں ماہرین نے کہا ہے کہ اس دوا کے ذیلی اثرات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

You might also like More from author