ویت نام کے بعد افغانستان امریکی استعمار کا قبرستان!

افغان، عمران خان، طالبان خان (قسط 2 )

”ایک کھرب ڈالر جنگی بھٹی میں پھونک دینے اور اڑھائی ہزار فوجیوں کو مروانے کے بعد ”بد کردار،، امریکہ کو آخری کار تاریخ امن کے موڑ تک کھینچ ہی لائی قانون مکانات عملی ظالم کو ”سو جوتے اور پیاز کھانے،، کی ایسی ہی سزا دیا کرتا ہے،،

19 سالہ طویل جنگ!

ایک کھرب ڈالر جنگی بھٹی میں پھونک دیئے گئے۔

اڑھائی ہزار امریکی فوجی لقمہ اجل بن گئے۔

دنیا بھر میں امریکہ عوامی سطح پر الام، دشنام بوتیام کے نشانے پر رہا۔

اس دوران1956 ءمیں شائع ہونے اور چند مہینوں میں لاکھوں کی تعداد میں بک جانے والا یوجین بروک اور ولیم لیڈرر کا مشترکہ سیاسی ناول Ugly American (بدکردار، امریکی) ایک بار پھر دنیا بھھر میں ادب کا پسندیدہ شاہکار قرار پایا۔ وجہ؟ عوام امریکی استعمار کے خون آشام مظالم کا احوال جاننا چاہتی تھی۔ یہ امریکی بدکرداری ہی تھی کہ بدکردار امریکی ناول کی کہانی خود امریکہ میں زبان زد عام ہوگئی اور امریکی بچے اپنے والدین اور اساتذہ سے سوال پوچھنے لگے کہ دنیا ہم سے نفرت کیوں کرتی ہے۔

اس ہمہ گیر منفی عوامی رائے عامہ کے باوجود امریکہ پر مسلط آئیل اینڈ آزمامنٹ مافیا اور اس کا پروردہ مقتدر سیاسی وحکومتی طبقہ افغان میں فوج کئی کے شیطانی دھندے سے باز نہ آیا۔ اور وہ دھکے چھپے اسلوب میں اپنے عوام کو اس بیانیے پر مطمئن کرنے کے جتن کرتا رہا کہ اگر امریکہ عوام دنیا پر اپنا رعب دار اور عسکری بالادستی قائم رکھنا چاہتے ہیں ٹو مقتدر امریکی قوتوں کی افغان میں فوج کشی کی حمایت جاری رکھیں پر وہ جو کہتے ہیں”ات خدا دا ویر،، تاریخ کا جب امریکی فصلہ سازوں کو افغانستان میں عسکری شدت پسندی جاری رکھنے کی راہ میں کوہ گراں بن کر کھڑا ہوگیا۔

ادھر جنوبی ایشیا میں جناب عمران خان کا Peace Offen Sive کا ڈاکٹرائن دنیا بھر میں مقبول ہونے لگا تھا۔ امن کے اپنے اسی ہتھیار سے انہوں نے بھارت کی جارحیت کو سرنگوں کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان، اسلام، کشمیر اور امن کا مقدمہ نہایت کامیابی سے لڑا۔ اور پھر سعودی عرب ایران تنازعے میں آگ ٹھنڈی کرنے کی کامیاب کوششیں کیں۔ جن کے اعتراف میں ٹرمپ پر اس کے اتحادیوں کی طرف سے دباﺅ ڈالا جانے لگا کہ وہ بھی پیش آمدہ صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لئے اپنے منشور پر عمل پیرا ہوتے افغانستان میں عسکریت سے ہاتھ کھینچ لے تاکہ امریکی رائے عامہ ٹرمپ کو پھر سے صدارتی امیدوار کے طور پر قبول کر لیںّ سو اس تگاریخی جبر نے امریکی ہیئت مقتدرہ کو مجبور کردیا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان کی خدمات مستعار لیں تاکہ امریکہ اپنی مفاداتی ترجیحات کے تناظر میں افغانستان سے اپنی فوجوں کا انخلاءکر سکے۔

افغانستان میں احیائے امن کے لئے جناب (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر26

عمران خان کی غالب طور پر خاموش ڈپلومیسی اور نسبتا کم کم ظاہری کاوشوں کا نتیجہ کیا نکلا۔ نتیجہ یہ کہ 29 فروریکو مشرق وسطی کی ریاست قطر کے دارالحکومت دوہا میں امریکہ اور طالبان کے مابین 19 سالہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ طے پاگیا۔ اس پر دنیا بھر میں جناب عمران خان کی کاوشوں کو ایک بار حسین سے نوازا گیا اور امن معاہدے کے دستخطوں کی تقریب میں امریکہ سمیت طالبان قیادت اور دیگر عالمی قائدین کی جانب سے جناب عمران خان اور پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی گئی اور دنیا نے اس حقیقت کا برملا اظہار کیا جانے لگا کہ جناب عمران خان کا انیس برس پرانا امن وژن کامیاب ثابت ہوا ہے۔

امریکہ طالبان امن معاہدے پر دستخظ ہو جانے سے سب سے بڑی اور شرمناک شکست بھارت اور اس کے ہنمواﺅں کو ہوئی جنہوں نے اپنے مفادات کی خاطر عسکریت کے شکار افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور اب ان کا مفاد اسی میں تھا کہ امریکہ اور اس کی فوجیں کابل میں موجود رہیں تاکہ ان کے مفادات کا سلسلہ جاری رہے۔

امن معاہدے کے چار اہم نکات پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

1 ۔معاہدے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

2 ۔14 ماہ میں تمام امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا ہوگا۔ ابتدائی 135 روز میں امریکہ افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد کم کرکے8600 افراد تک لے آئے گا۔ اس کے ساتھ اتحادیوں کی افواج بھی اسی نسبت سے کم ہوتی جائیں گی۔

3 ۔ فریقین ایک دوسرے کے قیدیوں کو بھی بتدریج رہا کرنے جائیں گے 610 فوج2020 تک طالبان کے پانچ ہزار قیدی اور افغان عسکری فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو رہا کر دیا جائے گا۔

4 ۔ اس معاہدے کے فورا بعد طالبان اور چودہ افغان حکومت کے مابین مذاکرات شروع ہو جائیں گے امریکہ طالبان پر عائد پابندیاں ختم کر دے گا اور اقوام متحدہ سمیت دوسرے عالمی اداروں کا بھی ایسے ہی اقدامات پر زور دے گا۔ طالبان پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی سرزمین کو القاعدہ داعش یا کسی بھی دوسری دہشت گرد تنظیم پر قمدمہ بنادے۔ ایسا نہ ہوا تو امریکہ نے پھر سے فوج کشی کی دھمکی کا اعلان کردیا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتہائی پیچیدہ اور گھتگ حالات کے تناظر میں امریکہ طالبان کے مابین امن معاہدہ کامیاب ہوگا۔۔۔۔۔۔اس پر پھر بات کریں گے۔( جاری )

 

 

You might also like More from author