بلبل سرحد مہ جبین قزلباش، دنیا سے رحلت کر گئیں

پاکستان میں بلبل سرحد کے نام سے پہچانے جانے والی پشتو اردو اور فارسی زبان کی گلوکارہ مہ جبین قزلباش کی آواز ایک عرصے تک موسیقی کی دنیا پر حکمرانی کرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہے ۔

مہ جبین قزلباش کو دو ماہ پہلے یکم جنوری کو دل کی تکلیف ہوئی اور انھیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں دو ماہ تک وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں رہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق مہ جبین قزلباش ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رہیں جہاں انھیں تمام طبی امداد فراہم کی جاتی رہی اور وہ وینٹیلیشن یعنی مصنوعی تنفس کے نظام پر رہی ہیں۔

مہ جبین قزلباش کچھ عرصے سے فن کی دنیا میں زیادہ متحرک نہیں تھیں لیکن وہ ریاض باقاعدگی سے کیا کرتی تھیں۔ مہ جبین اپنے اس نام کی طرح خوبصورت تھیں اور وہ اس دور میں ٹیلیویژن اور ریڈیو پر جلوہ گر ہوئیں جب خیبر پختونخوا میں خواتین کا اس طرح باہر نکلنا بھی مشکل تھا۔ مہ جبین نے کس طرح اس میدان میں داخل ہوئیں اور پھر کیسے وہ اس مقام تک پہنچیں یہ تو شاید وہ خود ہی جانتی ہوں گی لیکن فن موسیقی میں انھوں نے جو کمال حاصل کیا وہ یہاں کم ہی خواتین کے حصے میں آیا ہے ۔

ان کا اصل نام ثریا خانم تھا اور مہ جبین ان کا وہ نام تھا جو ریڈیو اور ٹیلیویژن کا نام تھا جو ماضی میں مختلف وجوہات کی بنا پر ایک روایت بن چکی تھی۔

مہ جبین قزلباش کے والد ایران سے پاکستان آئے تھے اور پھر یہاں انھوں نے دوسری شادی کی تھی۔ ابتدا میں وہ اندرون پشاور شہر کے کوچہ رسالدار میں مقیم تھے۔

ریڈیو پاکستان سے تعلق رکھنے والے پروڈیوسر اور تحقیق کار لئیق زادہ لئیق نے خیبر پختونخوا کے گلوکاروں اور فنکاروں پر تین کتابیں لکھی ہیں جن میں مہ جبین قزلباش کے بارے میں انھوں نے مکمل تفصیل فراہم کی ہے۔

لئیق زادہ لئیق نے بی بی سی کو بتایا کہ مہ جبین قزلباش میڈم نورجہاں کے نغمے گنگنایا کرتی تھیں اور اساتذہ ان سے گانوں کی فرمائش کیا کرتے تھے۔ انھوں نے فوجی بھائیوں کے لیے ایک گانا ریڈیو پاکستان میں گایا تھا جسے بہت پسند کیا گیا ۔ 1971-72 میں باقاعدہ طور انھوں نے ریڈیو پاکستان میں گانا گیا تو یہ بہت مقبول ہوا تھا۔ مہ جبین قزلباش نے سولو اور ڈویٹ سب ملا کر کوئی ایک ہزار سے زیادہ گانے گائے ہیں اور بہت ایوارڈ بھی انھیں ملے ہیں ۔

انھوں نے بتایا کہ مہ جبین کو اپنے فن سے جنون کی حد تک محبت تھی اور وہ میڈم نورجہاں کو اپنا آئیڈیل سمجھتی تھیں اور انھی کے نغمے وہ زیادہ تر گایا کرتی تھیں۔

مہ جبین قزلباش نے ایک پشتو فلم ‘شیرعالم میمونے’ میں کام کیا تھا اور اس فلم میں ان کے ہیرو ایمل خان تھے اور یہ دونوں کردار بے حد پسند کیے گئے اور دونوں نے پھر شادی کر لی۔ مہ جبین قزلباش کے تین بچے ہیں۔

لئیق زادہ نے بتایا کہ پختون معاشرے میں موسیقی کو تو بہت پسند کیا جاتا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ فنکاروں اور گلوکاروں کو اچھی نٌظر سے نہیں دیکھا جاتا اسی لیے انھوں نے ان فنکاروں پر لکھا ہے تاکہ ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے۔

مہ جبین قزلباش نے متعدد یادگار گانے ٹیلیویژن اور ریڈیو پر گائے جن میں چند ایک انتہائی مقبول ہوئے۔

‘سپینے سپوگمئی وایہ آشنا بہ چرتہ وی ناں ، گونگے شے ولے نہ وایے حالونہ’ اس لوک گانے کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ ‘سفید چمکتے چاند بتاؤ میرا آشنا کہاں ہوگا ، اب خاموش کیوں ہو گئے، اب مجھے ان کا حال کیوں نہیں بتاتے’

یہ ایسا یادگار لوک گیت ہے جو شاید ان کا اپنا پہلا گانا تھا جو آج بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا مقبول یہ اپنے دور میں ہوا تھا۔ یہ گیت رضا ممندی نے لکھا تھا اور اس میں بنیادی طور پر چاند سے گفتگو ہے ۔

مہ جبین قزلباش نے پشتو کے علاوہ فارسی، اردو، پنجابی اور ہندکو زبان میں بھی گانے گائے اور فن کی دنیا میں ایسا تاثر پایا جاتا ہے کہ مہ جبین قزلباش خیبر پختونخوا سے پہلی ایسی گلوکارہ تھیں جن کے اردو گانوں کو بھی قومی سطح پر تسلیم کیا گیا اور سراہا بھی گیا۔ مہ جبین کا دیگر زبانوں میں تلفظ اور ان کی ادائیگی ایسی تھی کہ یہ تاثر نہیں ملتا تھا کہ وہ کسی دوسری زبان میں گا رہی ہیں۔

مہ جبین قزلباش سکول میں جب آٹھویں جماعت میں تھیں تو وہ سکول کی سرگرمیوں میں حصہ لیا کرتی تھیں اور انھیں موسیقی سے لگاؤ تھا اور پھر ایک دن ان کے استاد انھیں بچوں کے ایک پروگرام میں لے گئے جہاں ان کی آواز کو موسیقی کے اساتذہ نے تسلیم کیا جہاں ان کا شوق میں مذید شدت آئی تو انھوں نے تربیت حاصل کرنا شروع کی ۔

اس وقت معروف گلوکار موسیقار اور شاعر رفیق شنواری نے جب انھیں سنا تو انھوں نے مہ جبین کی آواز کو سننے کے بعد ان کا آڈیشن کیا اور انھیں گانے کی منظور دی۔ رفیق شنواری ان کے شروع کے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں اس کے علاوہ انھوں نے اس وقت کے دیگر اساتذہ سے بھی تربیت حاصل کی اور اپنی آواز کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئیں۔

جب مہ جبین قزلباش موسیقی کے میدان میں آئیں تو اس وقت ان کے مقابلے میں کشور سلطانہ، گلنار بیگم، زرسانگہ، معشوق سلطانہ، اور دیگربڑی گلوکارائیں اس فیلڈ میں موجود تھیں لیکن مہ جبین نے اپنی جگہ بنائی اور نام پیدا کیا ۔

پشاور میں کلچر اور سماجی موضوعات پر لکھنے والے تجزیہ کار اور نقاد شیر عالم نے بتایا کہ مہ جبین پڑھی لکھی گلوکارہ اور فنکارہ تھیں جنھوں نے گریجوئشن کیا تھا اور موسیقی سے محبت کرنے والی خاتون تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ مہ جبین قزلباش نے کلاسیکل غزل ، اور لوک گیت بھی گائے اور انھوں نے بڑے صوفی شعرا جیسے رحمان بابا ، خوشحال خان خٹک، حمزہ بابا اور دیگر کے کلام گائے جنھیں بے حد پسند کیا گیا۔

شیر عالم نے چند ماہ پہلے ان کا انٹرویو کیا تھا جس میں مہ جبین قزلباش نے کہا تھا کہ نئے آنے والے گلوکاروں کو محنت کی ضرورت ہے اور جب تک وہ ریاض نہیں کریں گے وہ اپنی آواز میں پختگی نہیں لا سکیں گے ۔

مہ جبین قزلباش کچھ عرصے کے لیے موسیقی سے علیحدہ ہو گئی تھیں یا ایسا کہیے کہ وہ زیادہ نظر نہیں آتی تھیں اور اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی تھی کہ وہ اپنے بچوں کی طرف بھرپور توجہ دینا چاہتی ہیں ۔

پشتو کے نامور موسیقار ماسٹر نذیر گل نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مہ جبین قزلباش کے ساتھ 1975 سے منسلک رہے اور ان کے ساتھ انھوں نے مختلف ممالک کے دورے بھی کیے ۔ انھوں نے کہا کہ مہ جبین کے لیے متعدد گانوں کی موسیقی انھوں نے ترتیب دی تھی۔

ماسٹر نذیر گل کے مطابق مہ جبین قزلباش نے ماسٹر غلام علی سے موسیقی کی بنیادی تعلیم حاصل کی تھی اور اس کے علاوہ رفیق شنواری سے بھی انھوں نے بہت کچھ سیکھا۔

انھوں نے کہا کہ یہ کمال مہ جبین کی آواز میں تھا کہ انھوں نے اگر غزل گائی تو کمال کیا اور اگر ٹپہ گایا تو اس میں بھی میلوڈی اور درد پایا جاتا تھا اور یہ ہنر کسی کسی کی آواز میں پایا جاتا ہے ۔

ماسٹر نذیر گل نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایسا تھا کہ مہ جبین ان کے ساتھ پاکستان ٹیلی ویژن پر چار ترانے ریکارڈ کرا رہی تھیں اور اس دن انھیں کراچی میں ایک تقریب کے لیے مدعو کیا گیا تھا لیکن انھوں نے اپنے ترانے ریکارڈ کرانے کے لیے تقریب میں جانے سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے کہ مہ جبین ایک انتہائی سلجھی ہوئی اور اصول پسند خاتون تھیں۔

You might also like More from author