سفیر پاکستان عمران خان

امریکی صدر ٹرمپ نے نسل پرست اور مودیوں اور آر ایس ایس کے دہشت گردوں کے گڑھ گجرات میں ہونے والے بڑے اجتماع میں پاکستان کی بار بار تعریف کی تو مجمع کو تو گویا سانپ ہی سونگھ گیا۔

وہ بھی ایک دور تھا۔
جب روسی صدر کروشچیف نے پاکستان کو تباہ کرنے کے لئے پشاور کے موضع بڈھ بیر کے گرد نقشے پر سرخ دائرہ لگا دیا تھا۔
پھر چشم فلک یہ بھی دیکھا کہ امریکی ایئرپورٹ پر نون لیگی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو تلاشی دینے کے لئے برہنہ ہونا پڑا۔
اور یہ لمحات تو سابقہ ادوار میں بار بار دیکھنے سننے کو ملتے رہے جب امریکی انتظامیہ اور صدور پاکستانی حکومتوں کو ”ڈومور،، کی قوالیاں سناتے رہے تھے۔
ایسی دھمکیاں بھی امریکہ سے آیا کرتی تھیں کہ آپ ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو سمجھا جائے گا پاکستان ہمارے دشمن کے ساتھ کھڑا ہے۔
یہ اور ایسی بیشمار دھمکیاں اور دھماکے امریکی انتظامیہ پاکستان کی سابقہ کرپٹ حکومتوں کے لئے ہمیشہ فراواں اور ارزاں رکھتی رہی ہے۔
یہ سارے ادوار اور عہد عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی تنہائی سے آلودہ رہے ہیں۔
آج مگر پاکستان کے افق پر ایک نیا ستارا طلوع ہو چکا ہے اور اس ستارے کا نام ہے۔ جناب عمران خان، یہ الگ بات ہے بسا اوقات موسمی نامساعدات اور بادلوں وغیرہ کے سبب سے دور بیٹھے ہوﺅں کو ستارے کی روشنی میں دکھائی نہیں دیتی اور وہ بسا اوقات مایوسی میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں مگر حقیقت حال یہی ہوتی ہے کہ ستارا اپنی جگہ بدستور روشن رہتا ہے۔ اس کی تابانیوں میں ہر گز کوئی کمی نہیں آئی۔
مجھے اس حقیقت کے اعتراف میں کوئی باک نہیں کہ فی الوقت اگر پاکستان میں معاشی انحطاط کے سبب سے عام آدمی کی زندگی مشکلات سے دوچار ہے مگر یہاں ہمیں اس حقیقت کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ عمران خان کا ستارا جن حالات میں طلوع ہوا وہ طبقہ بد معاشی، جس میں نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ٹھگوں کی اکثریت شامل ہے کی لوٹ کھسوٹ کے بادلوں سے اٹے پڑے تھے۔ مگر یہ عمران خان ہی ہیں جو اپنی سرشست میں گندھے ہوئے اعتماد ذات، مستقل مزاجی اور ایمان الٰہی کے ہتھیاروں سے حالات کو معمول پر لانے کے لئے شبانگ روز معروف جدوجہد ہیں۔ وہ بیک وقت قومی سطح پر معاشی ابتری اور دلدل کی کیفیت کے ازالے کی کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف عالمی سطح پر پاکستان کو سابقہ حکمرانوں کی نالائقیوں اور نااہلیوں کے سبب سے پیدا شدہ سفارتی تنہائی کے خاتمے کے لئے سرگرداں ہیں۔ اور آج عالم یہ ہے کہ انہیں ورثے میں ملی معیشت جو ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاری سے قریب قریب تہی صوف ہو چکی تھی اس نے ایک بار پھر نشاہ ثانیہ کا آغاز کر دیا ہے اور ملک میں فروغ معیشت کا رکا ہوا پہیہ پھر سے گردش میں آچکا ہے۔ سی پیک منصوبے پر کام کی رفتار بھی تیز تر کی جا چکی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جناب عمران خان نے عالمی سطح پر ملکی وقار میں اضافے اور سبز پاکستانی پاسپورٹ کی توقیر بڑھانے کے لئے سفارتی محاذ پر بیش از بیش اقدامات شروع کر رکھے ہیں اس ضمن میں ملائیشیا کی قیادت روسی صدر، چینی سربراہ مملکت، عرب ریاستوں کے شیوخ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات کے ذریعے پاکستان کے لئے بیش از بیش خیر سگالی کما لی ہے۔
اور اب عالم یہ ہے کہ جناب عمران خان کی خارجہ تعلقات کے محاذ پر انہی سفارتی کاوشوں کے سبب سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے کھل چکے ہیں صرف سی پیک منصوبے کے ذریعے پاکستان میں عنقریب روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہونے والے ہیں۔ کئی دوسرے ممالک میں ترکی، روس اور ملائیشیا سمیت یورپی بلاک کی ریاستیں بھی شامل ہیں پاکستان کے اشترکا سے ہمارے ہاں سیاحت کان کنی، برقی توانائی اور گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور صنعتی فروغ کے منصوبوں میں شریک کار بننے والے ہیں۔
سفارتی محاذ پر جناب عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی ایک بڑی کامیابی دشمن ملک بھارت میں میسر آئی ہے جہاں دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے احمد آباد، گجراتگ میں لاکھوں کے مجمع میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے نسلی پرست دہشت گردوں اور پاکستان کے شدید مخالفین کی موجودگی میں پاکستان کی توصیف اور امن پسندی کے اقدامات کی تعریف میں کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاں اک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا وہاں نسل پرست مودیوں اور آر ایس ایس کے دہشت گردوں کو سانپ ہی تو سونگھ گیا۔(جاری ہے)

You might also like More from author