سری لنکن ٹیم پر حملے کے دوران موت کو قریب سے دیکھنے والے امپائر ایک مرتبہ پھر پاکستان میں

کیا ایک شخص دوبارہ اُس جگہ جانے کا سوچ بھی سکتا ہے جہاں اس نے موت کو نہایت قریب سے دیکھا تھا؟ اور اگر وہ جانا بھی چاہے تو اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا کتنا مشکل ہو گا؟

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سابق امپائر سائمن ٹافل نے مارچ 2009 میں لاہور کے قذافی سٹیڈیم کے نزدیک سری لنکن ٹیم پر ہونے والے شدت پسندوں کے ایک حملے کے دوران موت کو انتہائی قریب سے دیکھا تھا۔

اس حملے میں وہ بال بال بچے تھے۔

اس واقعے کے گیارہ سال بعد وہ گذشتہ دنوں دوبارہ پاکستان میں تھے۔

یہ ان کا نجی دورہ تھا جو امریکہ میں مقیم ڈاکٹر کاشف انصاری کے توسط سے ممکن ہوا جو کینسر کے علاج کے ساتھ ساتھ کرکٹ سے جنون کی حد تک محبت کے لیے مشہور ہیں۔

سائمن ٹافل 11 برس پہلے جن حالات میں پاکستان سے گئے تھے ظاہر ہے اب وہ بدل چکے ہیں۔

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ واپس آ چکی ہے لیکن سائمن ٹافل کو دوبارہ پاکستان آنے کے بارے میں ایک سے زائد بار سوچنا پڑا کیونکہ اس فیصلے میں ان کی اپنی رائے سے زیادہ اہمیت ان کے خاندان کی تھی جو گیارہ سال پہلے انتہائی کرب سے گزرے تھے۔

You might also like More from author