بے نظیر وفاق کی زنجیر: کڑیاں کیوں ٹوٹیں؟

زرداری فیملی گینگ اپنے انجام کی طرف گامزن (دوسری قسط)

”نون غنوی اور زرداریوں کی ”باری کی یاری،، اور ”رل کے کھارج کے کی،، کی چالاکیوں مکاریوں اور عیاریوں نے حکمرانوں اور ان کے گماشتوں کی اوجڑیاں اور تجوریاں تو خوب بھر دیں مگر غریب عوام کا بھڑکس نکال کر رکھ دیا۔!

قدرت کا قانون مکافات عمل!
آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو اس سے اگلے روز روبہ عمل ہو کر رہتا ہے۔
گندم کا بیج بو کر کپاس کی توقع مبث ہے۔
جس گھر کی بنیاد ہی ٹیڑھی ہو اسے جہاں تک چاہو بلندی کی طرف اٹھایو ایک روز اسے زمین بوس ہو کر رہنا ہوگا۔
پاکستان پیپلزپارٹی بھٹو کے دوسرے دورر ہی میں اپنی نظریاتی اساس سے کھسک گئی تھی جب اس نے70 کا الیکشن جن جاگیرداروں،وڈیروں اور ٹمن داروں کے خلاف لڑا تھا، 77 میں انہی سے ہاتھ ملا لیا ان انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کا احوال دیکھ لیجئے۔ آپ پر سارا ماجرا کھل جائیگا۔
بھٹو کی پھانسی کے بعد اس کی بیوہ اور بیٹی یعنی نصرت اور بے نظیر نے جب پارٹی کی قیادت سنبھالی تو پارٹی کے متعدد سینئر اراکین بشمول مولانا کوثر نیازی اور حنیف رامے نے اپنی راہیں جدا کر لیں جو پارٹی میں رہ گئے وہ بھی بددلی کا شکار رہے۔ تاہم 88 ءمیں جب بے نظیر پہلی بار وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئی تو اس دوران مال پانی کی بابت بہتر شہرت رکھنے والی بے نظیر پر ایک وقت ایسا آگیا جہاں اس نے خود کو وزیراعظم سے زیادہ آصف زرداری کا شوہر سمجھنا شروع کردیا۔ یہیں سے پیپلزپارٹی اور بے نظیر کی شہرت گنہائی جانے لگی۔ اس نے بمبینو سینما کراچی میں ٹکٹیں بلیک کرنے کی تہمت رکھنے والے شوہر کو مسٹر ٹین پرسنٹ بننے کے کھلے مواقع دے دیئے جس نے ”مرد اول،، کی حیثیت سے اپنی زوجہ کی سرکاری پوزیشن بے طرح استعمال کی اور ”مسٹر ٹین پرسنٹ ،، کمیشن کھانے والی جو بدنامی کمائی۔ وزیراعظم کی چشم پوشی نے اسے بتدریج ”مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ،، کے عروج تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد بے نظیر کے نیکلس اور سرے محل کے معاملات منظر عام پر آنے لگے۔ اس سے عوامی حلقوں میں بے نظیر حکومت کے لئے مفائرت ( م غ ا ءر ت) پیدا ہوتی چلی گئی یہ تو بے نظیر کے قتل کے بعد کا منظر نامہ ہے جب دم توڑتی ہوئی پی پی پی کے لئے ہمدردی اور قبولیت کی نئی لہر پیدا ہوگئی اور جب اسے پھانسی چڑھ جانے والے باپ بھٹو کے پہلو میں دفنایا گیا تو گویا اندرون سندھ میں پی پی پی کے لئے ہمدردی کا ایک طوفان برپا ہوگیا جسے آنے والے دنوں میں ملک کے دوسرے حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
لالچی، حریض اور چرب زبان آصف زرداری نے کمال چالاکی، مکاری اور عیاری کے ساتھ غالب رائے عامہ کے مطابق ایک جعلی وصیت نامہ کے ذریعے اپنے صاحبزادے بلاول کو مقتول ماں کی سیاسی وراثت کا مالک وارث بنوا دیا۔ اور ساتھ ہی اپنے صاحبزادے کا نام بلاول زرداری سے بدل کر بلاول بھٹو زرداری بنا دیا۔ مگر کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ شراب کی بوتل پر روح افزا شربت کا لیبل لگا کر بوتل کے اندرونی فساد اور تیزاب ختم ہو جائے۔ بس زرداری جو سب پر بھاری کی طرف خانی ایجاد کر چکا تھا اپنے ہی بوجھ تلے آرہا۔ اسی دوران جب 2008 ءکے انتخابات میں اس نے قبری سیاست کے ذریعے ہمدردی کو استعمال کرتے ہوئے حکومت سنبھال لی اور خود کو صدارت کے منصب عالیہ پر فائز کرلیا اور اپنے(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر45
نیچے یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف جیسے چیلوں اور مہروں کو وزیراعظم بنا دیا تو اس تگڑم نے ملک میں وسیع پیمانے پر کرپشن، منی لانڈرنگ اور قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کئے رکھا۔
اب چونکہ اس سے پہلے وہ خود بے نظیر حکومت اور پھر نون حکومت میں ہونے والی مالی دہشت گردی کے نظارے کر چکا تھا اس نے بہتی گنگا میں خوب اشنان کیا اور اپنی اس مافیائی لوٹ کھسوٹ کو فروغ دینے کے لئے اس نے کئی تھیوریاں ایجاد کیں جن میں ”باری کی یاری،، ”رل کے کھارج کے کھا،، اور ”معاشی فروغ اور کرپشن ساتھ ساتھ چلتے ہیں،، وغیرہ وغیرہ۔
بس پھر کیا تھا ملک میں معاشی طوائف الملوکی کا ایک شرمناک دور شروع ہوگیا۔ علامہ اس سے پہلے نواز لیگ کے زخم خوردہ چلے آرہے تھے اب انہیں اس سے بھی بدتر حالات کا سامنا زرداری دور میں کرنا پڑا تو ان کی چیخیں نکل گئیں، مہنگائی، بے روزگاری، غیر ملکی قرضوں کی معیشت، امن وامان کی بدحالی اور اقربا پروری نے انہیں زرداری اور نون غنوی سے بدظن کرکے رکھ دیا اور آخر کار 2018 ءکے انتخابات میں اہل پاکستان نے باری باری کرنے والی دونوں کرپٹ پارٹیوں کو مسترد کرکے عرصہ دراز بعد پہلی بار ایک تیسری پارٹی یعنی عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کے پلڑے میں اپنے ووٹ کا وزن ڈال کر ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی۔( جاری )

You might also like More from author