زرداری فیملی گینگ اپنے انجام کی طرف گامزن

وسوسہ، مخمصہ، خدشہ
ان سہ گوشی عناصر کا مرکب بنایا جائے تو اس سے جس سہ حرفی پارٹی کا نام ابھرتا ہے وہ ہے پی پی پی ، یعنی پیپلز پارٹی یہ الگ بات ہے کہ انگریزی حرف پی سے بننے والی اس پارٹی میں اسی وسوسے ، مخمصے اور خدشے کی بنا پر ایک اور پی کا اضافہ کر دیا گیا تھا،کیونکہ تب بے نظیر کو خطرہ تھا کہ مشرف اس پارٹی کو خلاف قانون قرار دے ڈالے گا۔ چنانچہ جس کی سربراہی ہالہ کے گدی نشین پرامین فہیم کے سپرد ہے اور انتخابی عمل میں حصہ لیتی ہے۔ اس پارٹی کا عمر خوردہ مغلوج پہلوان کی مثل پر صرف اکھاڑے چت کرنے کے گُر بتاتا رہتا ہے، ان میں اچھے گُر شاذونادر ہی ہوتے ہیں البتہ بُرءاور بھدے گروں کا طومار لگا ہوتا ہے۔
اب زرداری کا مخمصہ ، خدشہ اور سوسہ یہ ہے کہ وہ اپنے چا ر رکنی گھرانے کو سنبھال نہیں پا رہا۔ بلاول کی فطری خامیاں اور پاکستانی زبانوں سے عدم واقفیت اور عمر کے شدید جذباتی دور سے گزرنے کے باوجود ازدواجی زندگی سے محرومی کے سبب سے یہ نوجوان ہمہ نوح نفسیاتی دباو¿ اور کچھاو¿ کا شکار رہتا ہے۔ اسی باعث شروع میں زرداری نے بری بیٹی بختاور کو اپنا جانشین نامزد کیا تھا مگر بعد میں نقیب اللہ محسود اور راو¿ انوار فیکٹرز نے اس کا سارا گیم پلان تلپٹ کر کے رکھ دیا۔ تب باپ نے آصفہ بیٹی کو بلاول کے متبادل کے طور پر تیار کرنا شروع کیا مگر اس باب میں بھی اس کی امیدیں برنہ آسکیں۔ تاہم جب زرداری اپنی میگا کرپشن کے سبب سے نیب اور عدالتی و احتسابی شکنجے میں پھنس گیا اور اسے اپنے لئے راہ نجات کی کوئی گنجائش نہ دکھائی دی تو اس نے بادل نخواستہ آصفہ کو اپنا جانشین نامزد کر دیا یہاں تک کہ اس نے بلاول کو بالواسطہ تنبیہ دینے کے لئے میڈیا کو استعمال کیا۔ اور وہ یوں کہ ایک روز اپنی کرپشن کے سلسلے میں عدالتی احاطے سے واپسی پر اس نے رپورٹرز کو کہہ ہی دیا کہ مجھے کچھ ہو گیا تو میرے بعد آصف میری آواز بنے گی۔ اس سے بخاور کے بعد بلاول بھی باپ سے فاصلے پر چلا گیا۔ جسطرح نون لیگ میں حمزہ اور مریم کے مابین پاور پلے کے سلسلے میں یُدھ پڑا ہوا ہے بعینہ ©©©©©©©©© اب بلاول اور آصفہ کے مابین بھی گھریلو اکھاڑے میں ایسا ہی ملا کڑا جاری ہے۔
اب حالت زار یہ ہے کہ کلنٹن کا بلاول ہاو¿س کے چار رکنی بھرانے میں بیک وقت ایک سے زیادہ یدھ اور ملاکڑے لگے ہوئے ہیں۔ بخاور اور بلاول بمقابلہ باپ زرداری اور بلاول اور بختاور بمقابلہ آصفہ، ذرا فاصلے پر اسی پوش علاقے میں مرتضی بھٹو کی بیوہ غنویٰ مقیم ہے جو اپنی ذہین اور تخلیق کار بیٹی فاطمہ بھٹو اور بیٹے ذوالفقار جونیئر کے روپ میں بھٹو کی سیاسی میراث کی حقیقی وارث ہونے کے خواب میں دیکھ رہی ہے۔ مگر اپنی گوناں گوں سماجی اور سیاسی اجنبیت کے باعث اپنے خواب کو عملی روپ دینے کی جدوجہد سے عاری ہے۔کسی زمانے میں میرے محترم اور پیپلز پارٹی کے یکے ازبانیان ، ذوالفقار علی بھٹو کی پارتی کے سیکرٹری جنرل، بھٹو حکومت کے وزیر خزانہ اور فکری شعبے کے سربراہ رہے تھے، وہ غنویٰ کی پیپلز پارٹی کو فکری کمک اور سیاسی داو¿ پیچ ضرور منتقل کرتے رہے مگر خلیفہ خواہ کتنا ہی تجربہ کار اور کہنہ مشق ہو اگر پٹھا اور چیلا ڈھیلا ہوگا تو دنگل کا پہلوان کبھی نہیں بن پاتا۔
اب شنید ہے کہ بے نظیر کی چھوٹی بہن صنم بھٹو اندر خانے بھانجیوں کے گھر بسانے کے ساتھ ساتھ سیاسی وراثت کے لئے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مگر میں اپنے ذرائع کے حوالے سے کہہ سکتا ہوںکہ یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں ہے تو پھر کیا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کا مستقبل کا ہوگا۔ زرداری چالاکیوں ، مکاریوں اور عیاریوں نے ” وفاق کی زنجیر۔۔ بنظیر“ کی ساری کڑیاں ادھیڑ کر رکھ دی ہیں یہاں تک کہ بھٹو کی ملک گیر پی پی پی اب اندرون سندھ کی تنگنائیوں کی ایک ٹیڈی سے پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔
اب آگے کیا ہوگا۔ اس پر ان شااللہ کل بات کریں گے(جاری )

You might also like More from author