دو طوفان ایک حکومتی کرپشن کا ۔۔۔ اور دوسرا عوامی غیظِ وغضب کا

کسی ایک جماعت یا کسی ایک جماعت کے لیڈروں پر کرپشن کا الزام لگانا موجودہ نظام میں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بن سکتا۔ یہ نظام جسے ہم پارلیمانی جمہوری نظام کہتے ہیں یہ کھڑا ہی کرپشن کی بنیادوں پر ہے۔ اس کی ایک ایک اینٹ میں کرپشن رچی بسی ہے۔ کسی بھی پارٹی کا شاید ہی کوئی عوامی نمائندہ ایسا ملے گا جس نے پارلیمنٹ تک پہنچنے کے لئے کروڑوں کی سرمایہ کاری نہ کی ہو۔ اور میری رائے میں یہ دنیا ایسے فرشتوں کی بہرحال نہیں جو محض عوام کی خدمت کے لئے سیاست پر سرمایہ لگاتے ہیں۔ سرمایہ صنعتوں پر بھی لگتا ہے اور تجارت پر بھی لگتا ہے ¾ مگر وہاں منافع کی زیادہ سے زیادہ حد بھی سو فیصد یا دو سو فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی۔ سیاست میں سرمایہ کاری کرنے والے عوامی نمائندے اور عوامی لیڈر جب بھی اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں تو منافع کا ایک بہت بڑا ہدف اپنے ذہن میں متعین کرکے پہنچتے ہیں۔ اور یہ ہدف کروڑوں اور اربوں میں نہ ہو تو پھر سیاست میں آنے کا کیا فائدہ ؟ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے جتنے بھی سیکنڈل سامنے آرہے ہیں وہ اربوں کا ہدف عبور کرکے کھربوں کی طرف رواں دواں ہیں۔
جب ملک کی حکومت اعلیٰ عہدوں پر ایسے لوگوں کو چن چن کر فائز کرے جن کا ریکارڈ داغدار ہو ¾ اور جو منٹوں میں اِدھر کا مال اُدھر اور اُدھر کا مال اِدھر کرنے کی صلاحیت اور جرا¿ت سے مالا مال ہوں تو پاکستان سٹیل ¾ پی آئی اے ¾ وزارت مذہبی امور ¾ انشوریشن کارپوریشن اور کسٹمز سے منسوب ہمالیائی کرپشن کی داستانیں سامنے نہیں آئیں گی تو پھر اور کیا ہوگا ؟
پاکستان کی سیاسی قیادت کا کردار کیسا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف تو ہمارے لاکھوں بدقسمت ہم وطنوں کو سردیاں ننگے آسمان تلے بغیر کمبلوں اور لحافوں کے گزارنی پڑ رہی ہیں ¾ اور دوسری طرف تین ارب کی خطیر رقم سے فیڈرل لاجز کو زیر زمین پارلیمنٹ سے ملانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ غریب ملک ایسے ” عوامی نمائندوں “ کو پالنے کی عیاشی کا متحمل ہوسکتا ہے جن کی صرف سکیورٹی پر فی کس لاکھوں کی رقم ماہانہ خرچ ہوتی ہو؟
سوالات تو اور بھی بہت ہیں۔۔۔ مگر جواب دینے والا کوئی نہیں۔
شاید قدرت کو یہی منظور ہے کہ یہاں بھی عوامی غیظ و غضب کا ویسا ہی طوفان اٹھے جو حال ہی میں زین العابدین بن علی کو اپنی رو میں بہالے گیا۔
)یہ کالم اس سے پہلے 21-01-2011 کوشائع ہوا تھا(

You might also like More from author