پاکستان نے ایکشن پلان پر ٹھوس پیشرفت کی: ایف اے ٹی ایف

 پاکستان بیشتر سفارشات پر عملدرآمد کرچکا ہے، ترکی، چین، ملائیشیا سمیت دوست ممالک کی حمایت حاصل ہے ، منی لانڈرنگ، ٹیررفنانسنگ کے خطرات پربڑی حد تک قابو پالیا گیا ہے،پاکستان کو بلیک لسٹ کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ، ذرائع

پیرس(این این آئی +مانیٹرنگ )فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان کے ایکشن پلان پر عمل درآمد پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس میں پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق اقدامات سے آگاہ کردیا۔ایف اے ٹی ایف اجلاس کے دوران چین، ترکی اور ملائیشیا نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے متعلق فیصلہ21 فروری کو ہوگا۔اجلاس کے دوسرے روز ایران اور شمالی کوریا کے اقدامات سے متعلق غور کیاگیا، دونوں ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ پر ہیں دریں اثناء ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان بیشتر سفارشات پر عملدرآمد کرچکا ہے، پاکستان کو ترکی، چین، ملائیشیا سمیت دوست ممالک کی حمایت حاصل ہے۔پاکستان نے ایکشن پلان  پر عملدرآمد میں ٹھوس پیش رفت کی ہے، پاکستان نے منی لانڈرنگ، ٹیررفنانسنگ کے خطرات پر قابو پایا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے، پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی کوشش ناکام بنانے کے لیے درکار 3 ووٹ موجود ہیں۔پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے بھرپور سفارت کاری کی ہے جبکہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کو 15 ووٹ درکار ہیں۔واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکلنے یا برقرار رکھنے سے متعلق فیصلہ ہوگا، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون 2018 میں گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔

You might also like More from author