ابوجہل زندہ ہیں 

ہر ملک ¾ ہر معاشرے ¾ ہرشہر ¾ ہر ادارے اور ہر جماعت کا ایک اپنا ابو جہل ہوتا ہے۔

ابوجہل کا خطاب تاریخ نے مکہ کے خود سر سردار عمرو بن ہشام کو دیا جو اپنی ضد ¾ اپنے اکھڑ پن اپنے غرور اپنے تکبر اور اپنی جہالت کی وجہ سے اپنی مثال آپ تھا۔ جہالت سے مراد یہاں بے وقوفی یا بے دماغی نہیں۔ عمرو بن ہشام میں ذہانت کا فقدان ہر گز نہیں تھا مگر جس بات پر اس کے دماغ کی سوئی اٹک جاتی تھی اور جس موقف پر وہ ڈٹ جاتا تھا اس سے ہٹنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ خدا ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کی آنکھیں بند کردی جاتی ہیں کان بند کردیئے جاتے ہیں اور دماغ بند کردیا جاتا ہے۔

ابوجہل وہ شخص تھا جس کے بارے میں )ایک روایت کے مطابق (رسول اکرم نے دعا کی تھی کہ خدا اسے راہ راست پر لے آئے۔ ایک اور روایت کے مطابق آنحضرت نے دعا میں خدا سے التجا کی تھی کہ ” پروردگار عمر اور عمرو میں سے ایک کو حق دیکھنے ¾ حق سمجھنے اور حق پر آنے کی توفیق عطا فرما“۔

یہ دعا خدا نے یوںقبول کی کہ حضرت عمرؓ بن خطاب نے نہایت ڈرامائی انداز میں اسلام قبول کرلیا۔ مگر ابوجہل کے مقدر میں جہالت رسوائی اور جہنم کی آگ لکھی تھی۔

میں جس ابوجہل کے حوالے سے یہ کالم لکھ رہا ہوں اس کا تعلق میاں نوازشریف کی مسلم لیگ )ن(سے ہے۔اس کے پائے کے اور بھی کئی ابوجہل ملک میںموجود ہیں لیکن یہ ابوجہل خبروں میں آنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

اپنے تازہ ترین ”دانشورانہ “ بیان میں مسلم لیگ )ن(کے اس ابوجہل نے فرمایا ہے کہ عمران خان سیاست میں وقت ضائع کرنے کی بجائے صدقات سے کئی ہسپتال بنا سکتے تھے۔ ایم کیو ایم کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ قاتلوں اور رہزنوں کی جماعت ہے ۔ جماعت اسلامی کے بارے میں ارشاد ہے کہ قوم اسے کھالوں کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتی۔

موصوف کا یہ بیان پڑھ کر مجھے پتہ چلا کہ سیاست میں آکر اپنا اور اس قوم کا وقت ضائع کرنے کا مشورہ میاں نوازشریف کو اسی ابو جہل نے دیا ہوگا۔ اگر میاں صاحب ان کا مشورہ نہ مانتے تو آج ان کے کارخانوں کی تعداد درجنوں کی بجائے سینکڑوں میں ہوتی۔ یہ تو میری وضاحت ہے۔ ابو جہل موصوف کا کہنا تو یہ ہوگا کہ یہ درجنوں کارخانے جو میاں صاحب نے بنائے ہیںوہ سیاست میں آکر ہی بنائے ہیں۔ اگر وہ سیاست میں نہ آتے تو واپڈاکے پبلک ریلنشنز آفس میں کسی بڑے اہلکار کے ساتھ بجلی کے بلوں میں رعایت کے لئے معاملات طے کررہے ہوتے۔ مطلب اس کا یہ ہوا کہ میاں صاحب نے سیاست میں آکر وقت ضائع نہیں کیا ¾ اپنی صنعتی تجارتی اور مالیاتی سلطنت مشرق سے مغرب تک پھیلائی ہے ¾ اور رائے ونڈ میں ان کی راجدھانی ان کے کارہائے نمایاں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہاں میں ابوجہل موصوف کو یقین دلاﺅں گا کہ عمران خان بھی وقت ضائع نہیں کریں گے ¾ جو دولت اس ملک کے لیٹروں نے عوام کے حقوق غضب کرکے جمع کی ہے ¾ اسے واپس قومی خزانے میں پہنچایا جائے گا۔

)یہ کالم اس سے پہلے 20-01-2011 کوشائع ہوا تھا(

 

 

You might also like More from author