دھرنے والے دھر لئے جائیں گے مارچ میں مارچ نہیں کوئیک مارچ ہوگا

درپیش حالات میں پارلیمانی نظام، چند محترم استثناﺅں کے ساتھ، طبقہ بدمعاشیہ کی بلیک میلنگ ، ٹھگی، نوسربازی اور لوٹ کھسوٹ کا ذریعہ بن چکا ہے اور یہ سب کچھ غریب عوام کی جمع پونجی پر ہو رہا ہے

بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی
رینٹ اے ریلی ، نام نہاد ملین مارچ، دھرنا، احتجاجی تحریک، حکومت گرانے کا پاکھنڈ، سٹریٹ فورس کی فراہمی، وغیر ہ وغیرہ،
منسٹراینکلیو میں22نمبر بنگلہ، کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی، بھاری بھر تنخواہ، وسیع مراعات، مہنگی بلٹ پروف گاڑی، نوکر چاکر، پروٹوکول، سکیورٹی غیر ملکی دورے، سفری الاو¿نس ڈالروں میں، جعلی آن بان شان، تام چھام، ہٹو بچو کا ہنگام۔۔،
مسجد کے حجرے میں رہنے جمعرات کی روٹیاں تورنے والے اور صدقے خیرات پر پلنے والے ملا نے ایسی شاہانہ زندگی کا کبھی خواب تک نہ دیکھا تھا ۔
یہ تو ”بھلا ہو “ مروجہ پارلیمانی نظام حکومت کا ، جس نے دو ہاتھوں کی انگلیوں کے مساوی پارلیمانی عددی اثاثہ رکھنے والے کو وہ تمام موج میلوں کا ذائقہ چکھا دیا جن کا اوپر کی سطور میںذکر کیا گیا ہے۔
میں نے مگر جو اوپر لکھا ہے بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی سو ایسا ہی ہاتھ ڈیڑھ سال پہلے ملا فضل الرحمان سے ہو گیا۔ اور اس بے چارے کو اس گراوٹ تک پہنچانے کی ذمہ داری جہاں خود مارا کے اپنے نامہ اعمال ہیں وہاں عمران خان بھی ہیں۔ جنہوں نے اپنی بے مثل منفرد سیاسی جدوجہد کے ذریعے پاکستان میں جاری دو جماعتی نظام سیاست کی فصیلوں کو پاش پاش کر کے ردکھ دیا۔ اور یوں گذشتہ 30سال سے زائد ملک و قوم پر مسلط رہنے والے نونیوں اور زرداریوں کی اینٹ سے اینٹ بجا کر انہیں گھر بجھوا دیا جبکہ کپتان عمران خان کے ایک کارکن نے ملا فضل الرحمن کو اس کی دونوں آبائی سیٹوں سے شرمناک شکست سے دو چار کہا۔ ملا پارلیمنٹ سے خارج ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کی وہ ساری موج مستیاں بھی تمام ہوئیں۔ جن کا اس کالم کے آغاز میں حوالہ دیا گیا ہے۔
ملا مگر آرام سے بیٹھنے والا نہیں تھا۔ بچپن ہی سے اس کی سرشت میں حرص و ہوس اور مال وزر کی اشتہا کوٹ کو شکر بھری ہوئی ہے۔ اور بعض واقعات کا تو میں ایک صحافی کی حیثیت سے عینی شاہد بھی ہوں۔
جیسا کہ میں بلیک میں مروجہ پارلیمانی سسٹم کا حوالہ دے چکا ہوں، میرا مانناہے کہ پاکستانی سیاست پر جب تک موجود ہ طبقہ بدمعاشیہ اور جاگیرداروں، سرمایہ داروں کا مافیا مسلط ہے پارلیمانی نظام حکومت ہمارے لئے زہر قاتل بنا رہے گا۔
ہاں مگر مفاد پرستوں کے لئے یہ سونے کی مرغی سے کم نہیں۔ مثلاً ماضی میں پنجاب اسمبلی کے 361کے ایوان میں فقط18سیٹوں والا منظور وٹو جوڑ توڑ اور حرام پائیوں کے ذریعے صوبے کا وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے۔ اور ملا فضل دس گیارہ سیٹوں کے ساتھ اپنا ایسا الو سیدھا کرتا ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی کرپٹ پارٹیوں کی حکومتوں میں وہ ساری موج مستیاں کرتا ہے جس کا ذکر میںنے اس کالم کے آغاز میں کیا تھا۔ اور پچھلے سال کا نام نہاد آزادی مارچ اور دھرنا بھی اسی بلیک میلنگ اور سیاسی آڑھت کا نتیجہ تھا جس میں ملا نے نونیوں سے غیر معمولی فنڈز کراچی کے تاجرون سے چندے وصول کئے اور سچی بات تو یہ ہے کہ یہی موٹی موٹی رقوم ہیں جن کی بندر بانٹ پر جمعیت کے دوسرے ملاو¿ں اور ملا فضل کے مابین دنگا فساد شروع ہو گیا۔(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر25
انہی ادنوں ملا فضل کے دستِ راست مفتی کفائت اللہ آف مانسہرہ کے مابین شکریہ تنازعات کھڑے ہوگئے۔ مفتی کے مدرسے کا ایک استاد ایک کم سن طالب علم کے ساتھ بد فعلی الزام میں دھر لیا گیا۔ میڈیا میں اس سنگین واقع پر بہت لے دے ہوئی اور مانسہرہ کے شہریوں میں بھی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
اب عالم یہ ہے کہ سابق فاٹا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی جمیعتوں میں ملا فضل کے خلاف شورش بپا ہو چکی ہے۔ وہ پچھلے سال نام نہاد آزادی مارچ اور دھرنے کے نام پر حاصل ہونے والی آمدنی کا حساب اور اپنا حسہ مانگ رہی ہیں مگر اس کےلئے تیار نہیں اور انہیں آئندہ مارچ میں ہونے والے مارچ سے ہونے والی آمدنی میں سے حصہ دینے کا دلاسہ دے رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف پی پی پی اور حرف آخر: پیشگی خبر دے رہا ہوں۔ ملا فضل سمیت ساری اپوزیشن سن لے اس بار مارچ میں ما رچ نہیں کوئیک مارچ ہوگا۔ اور دھرنے والے دھر لئے جائیں گے ،نون لیگ نے اس بار بھی ملا کو ٹھینگا دکھا دیا ہے

You might also like More from author