ہم برسہا برس سے خود کو ایک ہی  مقام پر کھڑا کیوں پاتے ہیں؟ 

1993ءکی انتخابی مہم میں پی پی پی کے لئے جو ایڈورٹائزنگ میسیج میں نے منتخب کئے تھے ان کی اہمیت میرے خیال میں آج پہلے سے بھی زیادہ ہے۔

نمبر ایک: صرف چہرے نہیں نظام بھی بدلے گا۔

نمبردو: حکمرانوں کا قانون نہیں ہوگا قانون کی حکمرانی ہوگی۔

نمبر تین: مٹاکر رہیں گے غریبی کو ہم غریبی ہمارا مقدر نہیں۔

نمبرچار: انصاف آپ کی دہلیز پر۔

محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور حکومت میں ان ” وعدوں“ پر کس حد تک عمل کیا ¾ یہاں میرا مقصد اس موضوع پر اظہار خیال کرنا نہیں۔ میں صرف اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ آج کے پاکستان کو بھی متذکرہ اہداف کی تکمیل کی ہی ضرورت ہے۔ اور اگر یہ کہاجائے توبے جا نہیں ہوگا کہ 14برس کے تجربات نے واضح کردیا ہے کہ سب سے زیادہ ضرورت پہلے ہدف کی تکمیل کی ہے۔ یعنی جب تک نظام تبدیل نہیں ہوتا ¾ چہروں کی تبدیلی وطن عزیز میں کسی انقلاب کو جنم نہیںدے گی۔

نہ تو بی بی صاحبہ کے ” روٹی کپڑا اور مکان“ کے نعروں سے قوم کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے ¾ نہ ہی میاں نوازشریف کی ”خود انحصاری مہم“ اندھیروں کو اجالوں میں تبدیل کرسکتی ہے۔ اور نہ صدر جنرل مشرف اور وزیراعظم کے وہ ترقیاتی فارمولے ایک صحتمنداور توانا پاکستان کو جنم دے سکتے ہیں جن کی تان سٹاک ایکسچینج کی تیزی مندی اوراعدادوشمار کے ہیر پھیر پر ٹوٹتی ہے۔

کنزیومرز کی منڈی بن کر پاکستان اپنی اقتصادی بنیادیں مضبوط نہیں کرسکتا۔ پاکستان کو ضرورت ہے اک قومی عزم کی جو قومی نظریے ¾ قومی احساس ¾ اور قومی ذمہ داری کی کوکھ سے جنم لیا کرتا ہے۔

جس جہان نو کی تعمیر کی طرف علامہ اقبال نے اشارہ کیا تھا اس کے لئے شاید پوری عمارت گرا کر نئی بنیادیں تلاش کرنی پڑیں گی۔

)یہ کالم اس سے پہلے 31-07-2007 کو شائع ہوا تھا(

 

You might also like More from author