اے کشمیر ! تیری جنت میں آئیں گے ایک دن

راہ وفا کا شہید۔۔ مقبول بٹ( چوتھی وآخری قسط)

یاسر عرفات نے مقبول بٹ کو پھانسی نہ دینے کی اپنی اپیل میں بھارتی حکومت سے کہا تھا:”میں کوئی رحم کی اپیل نہیں کر رہا۔ آپ کو صرف یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ بھارت میں گاندھی، نہرو اور آزاد جیسے لوگ گزرے ہیں مگر انہیں کسی انگریز نے پھانسی کی سزا نہیں دی تھی

معاملہ صرف یہی نہ تھا
آج بھارت میں بھگت سنگھ کو آزادی کے ایک اہم ہیرو کی حیثیت حاصل ہے مگر جب یہی کردارمقبول بٹ اپناتا ہے تو اسے بھارتی حکومت پھانسی پر لٹکا دیتی ہے۔ معیار اور پیمانے بدل جاتے ہیں اقدار اور آدرش رخ پھیر لیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے بھارتی سرکار تاریخ کے کرداروں کو مسخ کرنے کی زبردست غلطی کا ارتکاب کر رہی ہے۔ اور شائد وہ دن بھی آجائے جب وہ آنجہانی بھگت سنگھ پر بھی فرد جرم عائد کر دے۔
مقبول بٹ مادی اور ابدی زندگی کے مابین پل عبور کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی جدوجہد میں کیا پایا اور کیا کھویا، اس کا جائزہ ہم لوگ جو مادی زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، کیونکر کر سکتے ہیں۔
جہاں تک آزادی کشمیر کا تعلق ہے، تو ہمیں مقبول بٹ کے ان الفاظ پر پورا یقین ہے جو اس نے تختہ دار پر ادا کئے یعنی
میرے کشمیر تو اک دن ضرور آزاد ہوگا۔“
مقبول بٹ نے یہ الفاظ محض عالم نزاع میں نہیں کہہ دیئے تھے۔ بلکہ یہ آزادی کشمیر کی اس طویل جدوجہد میں رچے بسے جذبے اور عزم کے مظہر تھے اور آج بھی جدوجہد آزادی کشمیر کے لئے مہمیر کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی تحریکوں سے وابستہ مجاہدوں کی بابت مقبول بٹ نے ٹھیک ہی کہا تھا۔
” موت ان کے لئے محض عبوری حیثیت رکھتی ہے۔“
دوسری لفظوں میں یوں کہئے کہ حق وسیع پر مبنی تحریک زمانے کے نشیب و فراز سے کا شکار تو ہو سکتی ہیں۔ مگر وہ مٹتی کبھی نہیں۔ فلسطین، پویسارو، نمیبیا اور مورد مسلمانوں کی تحریکیں اس امر کی گواہ ہیں۔ بھارتی حکومت تحریک آزادی کشمیر کے مجاہد رہنما ایک مقبول بٹ کو پھانسی پر لٹکا سکتی ہے لاکھوں مقبولوں کو تو اس انجام تک نہیں پہنچا سکتی ، جن سے شہید کی روح برابر ہم کلام رہتی ہے۔
دوستو قافلہ درد کا اب کیا ہوگا
اب کوئی اور کرے پرورش گلشن غم
دوستو ختم ہوئی یددہ ترکی شبنم
تھم گیا شور جنوں کم ہوئی بارش سنگ
خاک راہ آج لئے ہے لب دیدار کا رنگ
کوئے جاناں میں کھلا میرے لہو کا پرچم

ہزار دشت پڑے لاکھ آفتاب ابھرے
جبیں پر گرد، پلک پر نمی نہیں آئی
کہاں کہاں نہ لٹا قافلہ فقیروں کا
متاع درد میں لیکن کمی نہیں آئی
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے۔
راہِ وفا پر جان نثار کرنے والا شہید اور آزادی کے متوالوں کو اجالوں کی نوید سنانے والا مقبول بٹ اب اپنے جسد خاکی کے رشتے سے ہم میں موجود نہیں رہا۔ یہ محض حسن اتفاق ہے کہ اس کی ”موت“ کے بعد پاکستان کا قومی پرچم سرنگوں تھا۔ دراصل سرکاری سطح پر روس کے صدر لوری آندرو یوسف کے انتقال پر سوگ کی علامت کے طور پر ایسا ہوا تھا۔ مقبول بٹ کی شہادت پر بھلا ہم لوگ سوگوار کیوں ہوں، ہمارا پرچم سرنگوں کیوں ہو، وہ تو اپنی شہادت کے ذریعے ہم سب کو سربلند کر گیا، مگر اس کے باوجود ہم کہ جو زندگہ ہیں، اس کا حق نہ پال سکے۔
یہ رتبہ ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دارو رسن کہاں
بھارت سرکار نے نغمہ آزادی کی ایک لے کو نہ صرف یہ کہ تہاڑ جیل میں خاموش کر دیا بلکہ اس کی باقیات بھی پردہ اسرار میں رکھی جا رہی ہیں۔ اس کے اہل خانہ اور لاتعداد چاہنے والے اس کی میت کے روبرو کھڑے ہو کر نماز جنازہ بھی ادا نہ کر سکے، اس کے جسد خاکی کو کندھا بھی نہ دے سکے۔ وہی مٹی جسے مٹھی میں بند کر رکے اس نے کشمیر کی آزادی کے لئے جان قربان کرنے کی قسم کھائی تھی۔
تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں
تو جدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں۔۔۔

You might also like More from author