فیصلے عمران خان کی چھٹی حّس کرتی ہے

میں عمران خان کے مداحوں اور پرستاروں کو اُن کے بارے میں ایک دلچسپ بات بتانا چاہتا ہوں۔ اگر کوئی شخص سوچتا ہے کہ ملک کا کوئی بھی سیاست دان عمران خان سے زیادہ پڑھا لکھا اور ذہین ہے تو میں سمجھوں گا کہ وہ اپنے دماغ کے ساتھ انصاف نہیں کررہا۔ چالاکیوں اور ذہانت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اتنا ہی فرق اور ویسا ہی فرق جیسا آصف علی زرداری اور چوہدری اعتزاز احسن میں ہے۔ جہاں تک میاں نوازشریف کا تعلق ہے انہیں ذہانت کی ضرورت ہی کبھی نہیں پڑی۔ ان کی لگام قسمت نے ہمیشہ اپنے ہاتھوں میں رکھی ہے۔ اور یہ امر واقعہ ہے کہ قسمت ذہانت اور چالاکی سے کہیں بڑا فیکٹر ہے۔ جناب آصف علی زرداری اپنی چالاکی کی وجہ سے ” اوجِ ثریا“ تک نہیں پہنچے۔ ان کی قسمت نے ان کا ساتھ دیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو ” بروقت “ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ محترمہ کی ناگہانی موت میں آصف علی زرداری کی قسمت کے علاوہ اور کسی فیکٹر کا دخل تھا۔
اِسی طرح میاں نوازشریف کو بھی اوجِ ثریا قسمت نے ہی عطا کیا ہے۔ ان کی قسمت اچھی تھی کہ جنرل سوار خان کی نظرِ کرم اُن پر آکر ٹھہر گئی۔ اور پھر جنرل ضیاءالحق بھی میاں صاحب سے آگے کچھ نہ دیکھ سکے۔
میں نے ایک مرتبہ جنرل حمید گل سے پوچھا کہ آئی جے آئی کی قیادت کے لئے آپ کی نظرِ عنایت میاں صاحب پر کیوں آجمیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ” اس وقت ہمیں اور کوئی متبادل ملا ہی نہیں۔ میاں صاحب کی قسمت اچھی ہے۔“
میاں صاحب کی قسمت ہی تھی جس نے جنرل پرویز مشرف کے دماغ میں بیٹھے بٹھائے یہ خیال ڈالا کہ کیوں نہ افتخار محمد چوہدری نامی ایک جج کو عدلیہ کی اعلیٰ ترین گدی سے اتار دیا جائے۔ وہ ایک لمحہ جس کے دوران اس خیال نے جنرل پرویز مشرف کے دماغ میں گھر کیا ¾ میاں نوازشریف کی تقدیر کا لمحہ تھا۔
ہماری سیاست میں ذہانت نے کبھی کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا۔ چالاکی ¾ مکاری ¾ ریاکاری ابن الوقتی کو ہی ذہانت سمجھا گیا ہے۔ البتہ قسمت کا کمال ہے کہ کبھی اقتدار زرداری صاحب کے قبضے میں ¾ کبھی یوسف رضا گیلانی کے قبضے میں ¾ کبھی راجہ پرویز اشرف کے قبضے میں اور کبھی میاںنوازشریف کے قبضے میں چلایا آجایا کرتا رہا ہے۔
میں بات عمران خان کے بارے میں کرنا چا ہ رہا تھا۔
عمران خان اپنے فیصلوں کے لئے ہمیشہ اپنی اندرونی آنکھ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ اور یہ اندرونی آنکھ اُن کا باری تعالیٰ کی نصرت پر اندھاایمان ہے۔ شاید ہمارے تجزیہ کار میری اِس بات کو نہ سمجھیں مگر یہ حقیقت ہے۔
عمران خان مشاورت کے عمل سے بھی گزرتے ہیں مگر درحقیقت فیصلے ان کی ” چھٹی حِس“ کرتی ہے۔ اور عمران خان کی چھٹی حِسّ ان کی ” حّسِ ایمان “ ہے۔
)یہ کالم اس سے پہلے10-02-2015 کو بھی شائع ہوا تھا(

You might also like More from author