اے کشمیر! تیری جنت میں آئیں گے اک دن

راہ وفا کا شہید۔۔ مقبول بٹ (قسط 2)

مقبول بٹ کا جسم نگاہوں سے اوجھل ہو چکا ہے۔ مگر اس کی روح زندہ موجود ہے۔ مادی پیکر سے آزاد، جس کے لئے موت کا کوئی بلیک وارنٹ نہیں، جسے کوئی کلو جلاد پھانسی کا پھندہ نہیں ڈال سکتا۔ جسے تااریخ کے دھارے سے اکھاڑنا ممکن نہیں رہا۔ کیونکہ مقوبل بٹ جیسے شہید، جان نثار، راہِ وفا کے دیوانے اور حریت پسند تو تاریخ کا ایک زندہ لمحہ بن جایا کرتے ہیں۔ ایسا زندہ لمحہ جس کی تابندہ وسعتوں میں کئی زمانے سمٹے ہوتے ہیں۔ ایسا زندہ لمحہ جس کے کئی روپ ہوتے ہیں۔ جو کبھی سقراط ہوتا ہے تو کبھی ژان دارک کبھی برونو ہوتا ہے تو کبھی سروقیس ،مادام رولاں، تھامس مور، حسن ناصر، چی گویرا، جیولس نیوچک، گبریل پیری، ڈیوڈ گیسٹ، رالف فاکس، پیٹرس لوجھیا ، عمر مختار اور بھٹو۔۔ سبھی اس روپ کے عکس ہیں اور مقبول بٹ اس عکس کا حسین پر تو!

یہ سب روپ سارے عکس ، یہ سارے پر تو اپنی اپنی ذات میں ایک زندہ لمحہ ہیں اور ایک ہی نغمہ الاپ رہے ہیں۔

راستہ ایک تھا، ہم عشق کے دیوانوں کا

قدوگیسو سے چلے دارورسن تک پہنچے

پھانسی پانے سے کچھ ہفتے پہلے ایک پرعزم اخبار نویس انٹرویو کے لئے مقبول بٹ کی کال کوٹھڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

”کیا آپ موت سے ڈرتے ہیں ؟“۔

مقبول بٹ نے جواب دیا وہ آہنی عزم اور ناقابل تسخیر ارادوں کی کھلی تفسیر تھا۔ انہوں نے کہا۔

”میں ہرگز موت سے نہیں ڈرتا۔ جب ہر زندہ کو ایک دن مرنا ہے تو پھر اس سے ڈرنا کیا۔ وہ لوگ جو معزز انسانی مقاصد کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ موت ان کے لئے محض عبوری حیثیت رکھتی ہے۔ حقیقت میں وہ جسمانی طور پر مخفی ہو جانے کے باوجود زندہ رہتے ہیں۔

میں ہونٹوں پر مسکراہٹیں لئے پھانسی کا سامنا کروں گا میرے ردِ عمل کو ایک شاعر کا یہ شعر شائد اپنے اند ر سمو سکے۔

زندگی سے بہت پیا رہم نے کیا ہے

موت سے بھی محبت نبھائیں گے ہم

زندگی سے پیار اور موت سے محبت کرنے والا مقبول بٹ اس بار پہلی بار ہمارے قومی منظر نامے پر رونما ہوا جب ہاشم قریشی اور اشرف قریشی دو کشمیری نوجوان حریت پسندوں نے بھارت کے طیارے گنگا کو لاہور میں اتار لیا تھا۔ قریشی نوجوانوں نے حکام سے مقبول بٹ کے ذریعے مذاکرات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس موقع پر جس نوجوان نے خود کو مقبول بٹ کی حیثیت سے متعارف کرایا وہ دبلا پتلا مگر چاق و چوبند کشمیری تھا۔

مقبول بٹ نے پاکستان کی قدیم درسگاہوں سے اردو ادبیات اور قانون کی ڈگریاں حاصل کی تھیں۔ وہ ادیب اور اخبار نویس ہونے کے ساتھ ایک نفیس شاعر بھی تھا۔ مگر مجاہدانہ زندگی اختیار کرنے کے باعث مادی اعتبار سے ئی پست حال، فاقہ مست اور بوریہ نشین انسان تھا۔ اس کے گھر میں پانی پینے کے لئے گلاس یا جگ کی بجائے ٹین کے ڈبے استعمال ہوتے تھے۔ سکول کی فیس نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بچوں کے نام کٹ جاتے تھے۔ نماز پڑھنے کے لئے ٹاٹ کا ایک بوسیدہ ٹکڑا اس کا اثاثہ تھا۔ گنگا کے واقع کے بعد وہ پہلی بار منظرِ عام پر آیا تو اس نے ایک دوست سے مانگے کا کوٹ پہن رکھا تھا۔ مگر وہ اس فقیری میں بھی بادشاہی کے مزے لوٹتا رہا۔(جاری ہے)

 

You might also like More from author