راہ وفا کا شہید۔۔۔ مقبول بٹ

اے کشمیر! تیری جنت میں آئیں گے اک دن

11فروری1984
ولی کی یخ بستہ صبح
تہاڑ جیل کا پھانسی گھاٹ، سارا ماحول پتھر ہو چکا ہے۔ بے حس، اندھا اور جامد ، جیل کی بارکیں، کال کوٹھڑیاں، فصلیںراہداریاں، نگرانی کی چوکیاں، مسلح پہرے دار، ہر شے پر اسرار سکوت میں لپٹی ہوئی ہے۔
مگر نہیں، ایک مقام ایسا بھی ہے جو اس ہمہ گیر اور گران بار کیفیت سے آزاد ہے۔ جیل کے ایک الگ تھلگ گوشے میں پھانسی کی ایک سنگلاج کال کوٹھٹری میں ضمیر کا ایک قیدی زندگی کی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ، جذبوں کی دھنک سجائے موجود ہے۔ رات بھر سے لبوں پر ذکر الٰہی مچل رہا ہے، اور دل کی ہر دھڑکن سے شوق شہادت نغمہ بن کر پھوٹ رہا ہے۔
ضمیر کا یہ قیدی محمد مقبول بٹ کے نام سے مشہور ہے۔
یہ عجیب و غریب قیدی ہے کبھی اسے بھارت کا ایجنٹ سبھا جاتا رہا۔ اور کبھی پاکستان کا مگر اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کا ایجنٹ ہے ۔ اور اس کے ضمیر کی ایک ہی پکا رہے۔ کشمیر کی آزادی!!
بھارت سرکار نے اس پر دہشتگردی، قتل و غارت، جاسوسی اور تشدد کے کئی الزامات عائد کر رکھے ہیں۔ مگر مقبول بٹ کا ہنا ہے۔
”جرم نے میری زندگی میں کبھی کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ معاشرے کی تبدیلیوں کے لئے کام کرنے والے اگر اس راہ پر لگ جائیں تو اس راہ پر لگ جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ بزدلی کا شکار ہو کر جبر کی قوتوں کے سامنے جھگ گئے ۔
پھانسی گھاٹ پر چہل پہل شروع ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر ، مجسٹریٹ سکیورٹی کے اعلیٰ افسران، جیل کا عملہ، کارندے اور کلو جلاد! سب کی پتھرائی ہوئی نظریں ایک ہی راستے پر ٹک چکی ہیں۔ چند فٹ، چند گز کا یہ فاصلہ جو کال کوٹھڑی کو پھانسی گھاٹ سے ملاتا ہے۔ مگر کوئی جانے اس مختصر سے فاصلے میں کتنی صدیوں کی مسافتیں سمٹی ہوئی ہیں۔
جیل کے کارندوں نے قیدی کو آخری غسل دے کر سیاہ لباس اوڑھا دیا ہے۔ اس کے ہاتھ پشت پر باند دیئے گئے ہیں۔ اور اب اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لایا جا رہا ہے۔ سامنے مختصر سا راستہ ہے جہاں زندگی اور موت کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہونے والا ہے جیل کا عملہ قیدی کی زندگی کی آخری سانسوں کی گنتی کر رہا ہے۔ قیدی اس کوتاہ بینی اور کور مغزی پر طنزاً مسکرا دیتا ہے اسے یقین ہے پھانسی گھاٹ تک لے جانے والا یہ مختصر راستہ کسی اور کے لئے تو موت ہو سکتا ہے ۔ مگر اس کے لئے نہیں کہ یہی تو وہ راستہ ہے جو اس کے وطن کی آزادی کے سال ہا سال کے فاصلے کم کر رہا ہے۔ مقبول بٹ کی نگاہیں سربلند ہیں اور وہ توانا قدموں سے ایک عجیب ہی سج دھج اور شان کے ساتھ مقتل کی جانب گامزن ہے۔
وہ پھانسی گھاٹ کے پائیدان تک پہنچ چکا ہے۔
مقبول بٹ کی نگاہیں اوپر آسمان کی طرف اٹھتی ہیں۔ اس کے لب کھلتے ہیں۔
”میں جانتا ہوں مجھے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔“
کلمہ شہادت اور پھر ایک نعرہ مستانہ!
”میرے کشمیر تو ضرور آزاد ہوگا“۔
جیل کا بڑا افسر اشارہ دیتا ہے۔
کلو جلاد زندگی اور موت کے بیچ اٹکے ہوئے لیور کو کھینچ دیتا ہے۔
زندگی موت کے رسے سے جھول جاتی ہے۔
فصیل پر بیٹھا ایک سفید پرندہ پھڑ پھڑاتا ہے۔ اور مشرق میں روشنی کے پھیلتے ہوئے ہالے کی جانب اڑجاتا ہے۔
ایک خوبصورت پرندہ
اپنے چمکیلے پر پھڑاتا
زور زور سے تالی بجاتا۔
ہمارے سروں سے گزر گیا۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے
سرحد کے اس پار
نگاہوں سے اوجھل ہوا جاری ہے۔

You might also like More from author