کرپشن نہیں ہوگی تو سیاست کیسے ہوگی ؟

بات یہ ایک وفاقی وزیر کی ہے جو پھلجھڑیاں چھوڑنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ آرمی چیف نے پاناما لیکس کے معاملے میں پیدا ہونے والی افراتفری اور بحرانی کیفیت کے پس منظر میں کرپشن کے خلاف جو اعلان جہاد کیا ہے اس کا ” خیر مقدم “ کرنے میں وزیر موصوف نے اپنی مخصوص حسِ ظرافت سے کام لیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ کرپشن کے معاملے کی آڑ میں سیاست نہیں کرنے دی جائے گی اور سیاست میں کرپشن کو قبول نہیں کیاجائے گا۔ بات انہیں گھما پھرا کر کہنی پڑی ہے۔ کہنا وہ شاید یہ چاہتے تھے کہ کرپشن نہیں ہوگی تو سیاست کیسے ہوگی اور سیاست ہوگی تو کرپشن کیسے نہیں ہوگی۔ مگر یہ بات کہنا جرا¿تمند سے جرا¿تمند ” مخولیئے“ کے لئے بھی آسان نہیں۔ ” مخول “ پنجابی کا لفظ ہے جس کا مطلب مذاق یا لطیفہ ہے۔
کاش کہ پاناما لیکس کا معاملہ ایک ” مخول“ہی ہوتا۔ پھرشاید جنرل راحیل شریف کو ایسا بیان دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ پھر وزیر موصوف کو بھی اپنی ” حسِ مخول “ سے کام نہ لینا پڑتا۔
اب معاملہ صرف پاناما لیکس کا نہیں رہا۔ یہ تو گزرے وقتوں کی باتیں ہیں۔ اب جس جہاد کی ضرورت پر آرمی چیف نے زوردیا ہے وہ اس کرپشن کے خلاف شروع کیا جانا مقصود ہے جو ہماری قومی معیشت سے اربوں کھربوں کے سرمائے کے ” لیک “ ہو کر سمندر پار چلے جانے کا باعث بنی ہوئی ہے۔
میں پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت بارگاہ الٰہی میں یہ دعائیں مانگنے میں مصروف ہے کہ جن لوگوں کو جمہوریت کا بخار چڑھا ہوا ہے وہ شفایاب ہونے میں اب زیادہ دیر نہ لگائیں۔
یہ وہ جمہوریت ہے جو میاںصاحب کی کلائی میں تو کروڑ ڈیڑھ کروڑ کی گھڑی باندھ سکتی ہے ¾ غریب آدمی کی بھوک کا مداوا نہیں کرسکتی ۔۔۔
)یہ کالم اس پہلے بھی -2016 21-04
کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author