اور راج کرے گی خلقِ خدا

سماج میں تبدیلی کی حرکیات پورے طورپر بروئے عمل ہیں۔ عمران خان کے وژن کے مطابق ملک میں کرپشن کے خلاف زیرو برداشت کی حکمت عملی کا پہیہ بھی تیزی سے گردش میں ہے، احتسابی اداروں کی چوکسی کے باعث قومی وسائل لوٹنے والے طبقہ بدمعاشیہ کے بڑے بڑے گرگے قانونی گرفت میں آتے جا رہے ہیں بیشتر فرنٹ مینوں اور گماشتوں نے اربوں روپے کا مال مسروقہ واپس کرنا شروع بھی کر دیا ہے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روٹی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکموموں کے پاو¿ں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑگے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوا ئے جائیں گے۔
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو۔
جی ہاں شاعر فیض احمد فیض کا یہ یقین اور ایمان کسی واہمے کا شاخسانہ نہیں تاریخی حقائق اور انسانی شعور کے بتدریج فروغ پر ان کے یقین کا عکاس ہے اور سماجی تبدیلی کی حرکیات کی اصابت پر دلالت کا مظہر!۔
پاکستان کی آج کی ٹھوس معروضی سچائی کے حوالے سے جو پیش رفت سامنے آئی ہے اس کا تعلق پچھلے سال ہونے والے عام انتخابات سے ہے۔ جن میں عوامی شرکت اور فیصلے نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ حرام نے اپنے فروگ پذیر شعور کی بدولت عشروں سے جاری طبقہ بدمعاشیہ کے دو جماعتی حکومتی مقام کو مسترد کر دیا اور ایک ابھرتی ہوئی سچائی کو پذیرائی عطا کردی۔ یعنی پی پی پی اور نون لیگ کے حق حکمرانی کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کو اپنی تائید و حمائت سے نواز دیا۔
اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو یہ محض ایک تیسری پارٹی کی انٹری نہ تھی بلکہ اس کے ذریعے ایک نئے سیاسی نظریے اور رحجان کا نکتہ آغاز تھا جس کا نکتہ ماسکہ یہ ہے کہ سماج کے ہر ہر شعب کو کرپشن، لوٹ مار اور استحصال سے پاک صاف کر دیا جائے گا۔
اگر تو معاملہ محض تیسری جماعت کی انٹری تک محدود رہتا تو شکست خوردہ دونوں جماعتوں کو زیادہ اعتراض نہ ہوتا مگر یہاں تو معاملہ آن پڑا ہے ان کی لوٹ کھسوٹ کی دولت کی گرفت کا جو انہیں کسی طور ہضم نہیں ہو رہا۔ انہوں نے تو اپنی سرشت کے تحت سیاست کا ”پیشہ “ اختیار ہی اس لئے کیا تھا کہ اس میں ہزار لگار کر لاکھ کی ڈکیتی کی جائے۔ چند سال پہلے ٹوٹی ہوئی سائیکل پر آنے جانے والے آج ایک ایک کروڑ کی گاڑی پر سفر کرتے نظر آتے ہیں اور کل تک جو ملا جمعرات کی روئیوں پر پلتا تھا آج وہ فائیو سٹار ہوٹلوں کے مہنگے کھانے تناول کرتا ہے اور حجروں سے اٹھ کر حویلیوں اور حویلیوں سے کئی کئی کینال میں پھیلے ہوئے ولاز میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اور اب انہیں اور تمام فائیو سٹار حرام پائیوں سے ہاتھ دھونے پڑ رہے ہیں۔
اور ان سب پر مستزاد یہ کہ حرام خوروں کے اس گروہ کے بیشتر مجرم اپنے کالے کرتوتوں کی پاداش میں جیلوں میں بند ہیں اور جو باقی ہیں وہ بھی آنے والے دنوں میں سرکاری سسرال کے مہمان خانوں میں داخل دفتر کئے جانے والے ہیں۔

You might also like More from author