بات دو انتہاﺅں پر کھڑ ے ملاﺅں کی

آٹھ جولائی کی رات کو ” آج“ کے طلعت حسین اپنے پروگرام میں لبرل ازم کے بے تاج بادشاہ امتیاز عالم کے ساتھ ” پنجہ آزما“ تھے۔ میرے خیال میں ” مکالمہ آزما“ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
امتیاز عالم فرما رہے تھے کہ اسلامی جنونیوں اور مذہبی انتہا پسندوں کو کیفرکردارتک پہنچانے کے اس نادر موقع سے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر فائدہ اٹھانا چاہئے۔
طلعت حسین انہیں سمجھا رہے تھے کہ ان سینکڑوں جانوں کا کیا کیا جائے جو متذکرہ جنونیوں اور انتہا پسندوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں اور کسی بھی ” بپھرے ہوئے آپریشن“ کے نتیجے میں تڑپتے لاشوں اور بکھرے ہوئے اعضا میں تبدیل ہوجائیں گی۔
جواب میں امتیاز عالم نے چیختے ہوئے کہا۔
” انسانی جانوں کو بچانے میں دلچسپی مجھے بھی ہے۔ مگر اس قیمت پر نہیںکہ یہ جنونی لوگ اپنے انجام کو پہنچنے سے بچ جائیں۔ تم لوگ لبرل ہو۔ پھر ان وحشیوں کی وکالت کیوں کررہے ہو۔؟“
جواب میں طلعت حسین نے کہا۔
” چیخنے یا آواز اونچی کرنے سے آدمی زیادہ لبرل نہیں بن جاتا۔ میرے اس سادہ سے سوال کا جواب دیں۔ ان سینکڑوں بے گناہ لوگوں کی جان کیسے بچائی جائے جن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اس وقت وہاں موجود ہیں۔؟“
امتیاز عالم کے پاس اس سوال کا جواب نہیںتھا۔ مگر چیختے وہ آخر تک رہے۔ میں یہ سوچے بغیر نہیںرہا کہ جس طرح عبدالرشید غازی نے خودکو دین کی ایک انتہا پر کھڑا کر رکھا ہے ¾ اسی طرح امتیاز عالم )اور اس قبیل کے دوسرے لوگوں(نے لبرل ازم کی دوسری انتہا پر مورچے سنبھال رکھے ہیں۔
امتیاز عالم اپنی طرز کا ملا ہے۔ اور غازی رشید اپنی طرز کا ملا۔ مگر دو ملاﺅں میں مرغی حرام کیوں ہو۔؟
(یہ کالم اس پہلے بھی 10-07-2007 کو شائع ہوا تھا)

You might also like More from author