ہمارا سیاسی چُورن تو ہم پرستی، انجانا خوف، بیساکھی کا سہارا، پیر ی مجاوری


ہم اپنے تحت اشعور ہیںصدیوں سے بسنے پلنے والے اعتقادات، تفکرات اور ترجیحات کے جالوں اور تانوں بانوں سے جڑے رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ انہیں سینت سینت کر سنبھالتے رہتے ہیں مبادہ نئے خیال کا کوئی بیرونی جھونکا، تبدیلی کی روشنی کی کوئی کرن اس قدیمی سلسلے کو تہ و بالا کر کے رکھ دے۔
پشاور سے کراچی تک شاہرا ہ پاکستان پر نکل کھڑے ہوں۔آپ کو ڈیڑھ ہزار کلو میٹر سے زیادہ پھیلے ہوئے فاصلے پر سٹرک کے دونوں کناروں پر، تھوڑے تھورے وقفوں کے بعد مزار دکھائی دیں گے۔ ظاہر ہے جہاں مزار زیادہ اور تعلیمی ادارے کم ہوں گے وہاں ملنگ ہی پیدا ہوں گے سائنسدانوں کا ایسے معاشرے سے کیا رشتہ و تعلق ہوگا۔
آپ پاکستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں پر نظر ڈال لیجئے۔ ان سب کے اہم عہدیدار خود پیر گدی نشین ہوں گے یا کسی گدی سے جڑ ے ہوں گے۔ طرفہ تماشیہ تو یہ ہے کہ جو مذہبی سیاسی پارٹیاں پیری گدی نشینی کے خلاف ہیں انہوں نے بھی اپنی ذات، مجرے اور ڈیرے کو اسی تقدس کے ہالے سے آراستہ کر رکھا ہے۔ جو گدی نشینوں اور پیروں کے مزاروں اور ٹھکانوں سے مخصوص ہوتا ہے۔ پیری، گدی نشینی اور مجاوری کی سوسائٹی میں اثر پذیری کا یہ عالم ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیوں کے وہ قائدین جن کا رشن فکری سے تعلق کا دعویٰ ہوتا ہے وہ بھی بالواسطہ طور پر نازک مواقع پر پیروں کی قدم بوسی اور حمائت کے لئے ان کے چرنوں میں بیٹھنے کو اپنی عزت جانتے ہیں۔
اس موضوع کی علمبردار اور عکاس بے شمار تصاویر میڈیا کے توسط سے تاریخ کا ریکارڈ بن چکی ہیں۔ ان میں سے ایک تصویر محترمہ بینظیر بھٹو کی ہے جو ایک مشکل سیاسی فیصلے سے پہلے ایک پیر صاحب کے قدموں میں فروکش دکھائی دیتی ہیں۔ یورپی یونیورسٹی کی فارغ التحصیل یہی ”روشن خیال“ وزیر اعظم بے نظیر ایک بار امور مملکت کی کمھٹنائیوں کی اعصاب شکنی سے نجات پانے کے لئے مری کے پہاڑوں میں بابا لعل شاہ کے حضور جا پہنچیں۔ واپسی پر جب کسی مصاحب نے انہیں بتایا کہ اس ملنگ نے روائتی طور پر حاجت روائی کی علامت کے طور پر ان کی کمر پر اپنے اعصا کی ضرب نہیں لگائی تو بے نظیر الٹے قدموں دوبارہ ملنگ کی بارگاہ پہنچ گئی تھیں۔
اور رہا معاملا ان کے شوہر زرداری کا، تو ان کی ضعیف الاعتقادی کا تو کچھ نہ پوچھئے۔ موصوف ایک ڈبہ پیر جاجی شاہ (اعجاز شاہ) کی کرامات کے اسیر رہے۔ ایوان صدارت میں پیر جی کے لئے بہترین آسائشوں سے آراستہ رہائش گاہ مختص تھی۔
کہا جاتا ہے کہ پیر جاجی شاہ نے زرداری صاحب کو ایک تعویز باندھا تھا جس کے ساتھ روزانہ پانچ سے سات کالے بکروں کی قربانی کی جاتی تھی۔ پیر کائیاں شخص تھا ایوان صدارت کے پچھواڑے میں واقع امام بری لطیف سے ملحقہ آبادیوں کے قصائیوں سے پانچ یا سات بکروں کی سریاں منگوائی(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر24
جاتیں اور انہیں ایک ٹرالی میں بڑے قرینے سے آراستہ کر کے گوٹا کناری سے فرین سبز ریشمی غلاف میں لپیٹ کر زرداری حضور کے روبرو پیش کر دی جاتیں۔ پیر جاجی شاہ پہلے کالے بکروں کی سریوں پر کچھ پڑھتا پھر صدر مملکت پر پھونکیں پڑھ کر لوٹ آتا۔ یوں زرداری کی شیطانی قوتوں اور سیاسی مخالفین کی شر اندازیوں سے حفاظت کا ”سکہ بند “ بندوبست ہو جاتا ہے البتہ غریب قوم کے خزانے سے پانچ یا سات کالے بکروں کا خرچہ نکال لیا جاتا۔ قصائیوں کو صرف سریوں کی قیمت پہنچائی جاتی۔ اینٹھی گئی رقم پیر جی اور دوسرے حواریوں کی بندر بانٹ کی بھینٹ چڑھ جاتی۔
پیر جاجی شاہ کے ذریعے خزانے پر کچھ اور حربوں سے بھی جھاڑوں پھیرا جاتا رہا۔ مثلاً وہ بسا اوقات پہاڑوں کے قرب و جوار میں سربراہ مملکت کے قیام کو نحوست کی علامت بنا کر پیش کرتا اور زرداری صاحب کو ساحل سمند ر کنارے منتقل ہو جانے پر آمادہ کر لیتا۔ تاریخ گواہ ہے اس ڈبہ پیر جاجی شاہ کے ایما پر زرداری صاحب اپنے دور صدارت میں کئی بار اسلام آباد چھوڑ کر کراچی میں پناہ گزین ہوتے رہے۔ اس دوران وہ تمام صدارتی امور بلاول ہاو¿س کراچی میں ادا کرتے رہے۔ سرکاری حکام ، وزرا، غیر ملکی سفیر اور وفود وغیرہ سب خصوصی طور پر صدر مملکت سے ملاقات کےلئے کراچی جاتے رہے۔ اس فائیوسٹار نقل مکانی پر قومی خزانے کو کتنا چونا لگتا رہا ، اس کا حساب باقی ہے۔

انتخابی کامیابی، ذاتی ووٹ بنک، سیاسی پارٹی کا ٹکٹ اور گدی کی حمائت ناگزیر !
کراچی سے پشاور تک مزار ہی مزار، تعلیمی ادارے خال خال، تبھی تو
ملک میں سائنسدان نہیں ملنگ پیدا ہوتے ہیں
پاکستان کا ایک صدر جسے چلانے کی چابی ایک ڈبہ پیر کے پاس تھی۔ضعیف الاعتقادی کے نام پر خزانے کو لگنے والے چونے کا حساب ہونا باقی ہے

You might also like More from author