بی جے پی کا مسلمانوںکیخلا انتخابی ایجنڈا

  • زین العابدین

8فروری 2020بھارت کی دہلی اسمبلی کے انتخاب کا دن ہے اور جوں جوں یہ دن قریب آرہا ہے ، مودی سرکار اورBJP(بھارتیا جنتا پارٹی)کے رہنماو¿ں کے نفرت انگےز بیانات مےں شدّت آتی جارہی ہے۔ مودی سرکار نے دہلی کی انتخابی مہم کو اےک بار پھر پاکستان، مسلمانوں اور شاہین باغ کے مظاہرین کےخلاف زہریلے پراپےگےنڈے مےں تبدیل کردیاہے اور اسکے رہنما اےک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بیانات دےنے مےں مصروف ہےں۔وزیر اعظم نرےندرامودی، ہوم منسٹر امیت شا،UP(اُتر پردےش) کے وزیراعلیٰ ےوگی ادتیہ ناتھ سمےت کئی رہنما جےسے روی شنکر پراشاد، انوراگ ٹھاکر پراویش ورما اس مہم کا حصہ بن گئے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں مےں شاہین باغ کے مظاہرین کےخلاف اتنا زہر اگلا گےا ہے کہ تین اےسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن مےں کوئی نوجوانBJPکے اشتعال انگےز نعروں سے متاثر ہو کر، ہاتھوںمےںپستول لئے شاہین باغ مےں گھس گیا۔ ان مےں سے اےک نوجوان نے "آزادی ۔۔۔آزادی”کے نعروں کا جواب دےنے کےلئے پولیس کی موجودگی مےں پستول نکال کر لوگوں پر براہِ راست فائرنگ کردی اور کہا "یہ لو ۔۔۔آزادی”۔ اس نوجوان کی فائرنگ سے جامعیہ ملیہ اسلامیہ کا اےک سٹوڈنٹ زخمی ہو گےا۔
ہندو انتہا پسندجماعتBJPنے2019کے لوک سبھا انتخابات مےں کامیابی حاصل کی اور مودی دوسری بار بھارت کے وزیراعظم بن گئے لےکن جب ریاستی اسمبلیوں کا مرحلہ آےا تو ان مےں سے اکثریت مےں BJP کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 8 فروری 2020کو دہلی اسمبلی کے انتخابات ہیں جہاں اس وقت اروند کجریوال کی "عام آدمی پارٹی” (AAP)کی حکومت ہے۔ BJP نے نئی دہلی انتخابات کی تےاری کے سلسلے مےں اےک بار پھر مسلمانوں اور خاص طور پر شاہین باغ کے مظاہرین کےخلاف پراپےگےنڈا مہم چلا کر اپنے لئے سازگار ماحول بنا نے کی کوشش کی ہے۔ BJP ہمےشہ ہی سے نفرت، فرقہ پرستی اور "تقسیم کرو اور حکومت کرو©”کی سیاست کرتی آئی ہے اسلئے اسکے رہنماو¿ں نے دہلی اسمبلی کی انتخابی مہم کو پاک۔ بھارت جنگی جنون اوربھارتی مسلمانوں خصوصاً شاہین باغ کے مظاہرین کےخلاف نفرت کے بھڑکتے لاوے مےں تبدیل کردیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نفرت، دشمنی، تفرقہ بازی اور تقسیم کی BJPکی سیاست نے بھارتی سماج کے مختلف طبقوں کو اےک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ فرقہ پرستی کی آگ کو مزید بھڑکانے کےلئے UP (اُتر پردےش) کے وزیرِ اعلیٰ ےوگی ادتیہ ناتھ کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں جنکی پاکستان اور مسلمان دشمنی کسی تعارف کی محتاج نہیں اور انہی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ CAAکےخلاف مظاہروں مےں بیسیوںبےگناہ افرادپولیس فائرنگ مےں مارے گئے۔
BJP کے رہنما شاہین باغ کے پرامن مظاہرین کےخلاف، جو گھرےلو خواتین اور نوجوان بچیوں پر مشتمل ہیں، جوزبان اور لب ولہجہ استعمال کررہے ہیں، ےوگی ادتیہ ناتھ سمےت BJPکے انتہا پسند سیاستدانوں کی پوری سیاست اےسی ہی نفرت اور دشمنی پر مبنی رہی ہے۔ دہلی کے عوام کے اصل مسائل کیا ہیں اس کیجانب کسی کی توجہ نہیں۔ کجریوال بھی کبھی یہ کہتے ہیں کہ وہ شاہین باغ کے مظاہرین کےساتھ ہیں تو مودی ، امیت شا اور ےوگی یہ کہتے ہیں کہ شاہین باغ چھوٹاسا پاکستان ہے اوریہ بھی کہ پورے بھارت مےں اےسے چھوٹے چھوٹے پاکستان بن رہے ہیں۔ ےاد رہے کہ بھارت مےں مسلمان بستیوں کو "پاکستان” کےساتھ ہی تشبیہہ دیجاتی ہے۔ عام طور پر جو کوئی بھی مودی سرکار کےخلاف آواز ٹھائے تو اسے "غدار”، "قوم اور ملک کادشمن” ےا "ٹکڑے ٹکڑے گےنگ”جےسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو ہندو انتہا پسند "ہندوتوا فلسفے”نے چونکہ بھارت کا دشمن اوراسکی سلامتی کےلئے خطرہ قرار دیاہے اسلئے مسلمانوں کےلئے اسکے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا جارہا کہ وہ اپنی مسلم شناخت کو ختم کردیں۔ لےکن افسوسناک امر تو یہ ہے کہ وہ مسلمان جنہوں نے بھارت کے سےکولر ازم اور لبرل ازم کی خاطر اپنی مسلم شناخت ترک کردی انہیں بھی بھارت مےں امن و آشتی کےساتھ زندہ رہنے کی اجازت نہیں۔اب تو یہ مسلمانوں تک محدود نہیں رہا، جو بھی مودی سرکار، ہندو انتہا پسند رہنماو¿ں، RSS اور ہندوتوا فلسفے کی مخالفت کرتا ہے ، مودی سرکار کی نظر مےں وہ ملک و قوم کا دشمن اورغدار ہے، جسے گولی ماردےنا چاہیے۔
جہاں تک شاہین باغ کے مظاہرین کا تعلق ہے تو وہ CAAکے متنازعہ قانون کےخلاف احتجاج کا اپنا جمہوری حق استعمال کررہے ہیں لےکن چونکہ انکی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اسلئے مودی نے انکی رائے کو اہمیت اور توجہ دےنے کی بجائے انکے لباس اور حلیوں کیجانب اشارہ کرکے اپنی نفرت کا اظہار کیا اور اپنی عوام کو مسلمانوں کےخلاف اُکساےا۔ BJPکے دیگر رہنما بھی مسلمانوں اور شاہین باغ کے مظاہرین کےخلاف مےدان مےںاُتر آئے ہیں اور گھٹیا زبان استعمال کررہے ہیں۔ مودی کے بھارت مےں آج مسلمان جس قدر غےر محفوظ ہو چکے ہیں، اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔ مودی سرکار کی تمام انتہا پسند اور مسلمان مخالف پالیسیوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ اےک جانب مسلمانوں کو دباےااور کچلا جائے اور انہیں دیوار سے لگا دیا جائے جبکہ دوسری جانب مسلمانوںکو ہندوو¿ں کا بدترین دشمن دکھا کر ہندوو¿ں مےں خوف و دہشت پےدا کیا جائے۔ مگر مودی سرکار اس حقیقت سے بے خبر معلوم ہوتی ہے کہ جب کسی کا گھر بار، عزت و آبرو سب کچھ داو¿ پر لگ جائے تو اسکے دل سے موت کا خوف نکل جاتا ہے۔ شاہین باغ مےں خواتین اپنے شیر خوار اور کمسن بچوں کو لےکرموت کے اس خوف سے آزاد ہو کر اپنے گھروں سے باہر نکل آئی ہیں اوربھارت کی انتہا پسند پالیسیوں کے راستے مےں ڈٹ کر کھڑی ہو گئی ہیں اور یہ وہ خواتین ہیں جو اس سے پہلے کبھی اپنے گھروں سے نہیں نکلیں۔
BJPکا دہلی انتخابی مہم کا اےجنڈا اسی اےک نکتے کے گرد گھومتا نظر آرہا ہے کہ "مسلمان غدّار اور قوم دشمن ہیں” اوریہ کہ ” ©انہیں دہلی انتخابات مےں سبق سکھانا ہے” ہوم منسٹر امیت شاہ اپنے ووٹروں کویہ کہتے ہیں کہ ” آپکی آواز شاہین باغ اور انکی حماےت کرنےوالوں تک پہنچنی چاہیے۔ بابر پور کے لوگو ! جب آپ 8فروری کو ووٹ ڈالےں گے تو آپ صرف نرےش گور کو اسمبلی کا ممبر نہیں بنائیں گے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ آپ دہلی اور ملک کو بھی محفوظ بنائےں گے۔ آپکا ووٹ سےنکڑوں شاہین باغ بننے سے روکے گا۔ جب آپ ووٹ ڈالےں تو کنول (BJPکا انتخابی نشان)کا بٹن اتنے غصے اور زور سے دبائیں کہ اسکا کرنٹ شاہین باغ تک پہنچے” ۔ اسی طرح BJPکے رہنما پراویش ورما نے کہا کہ”دہلی جانتی ہے کہ کچھ سالوں پہلے جو آگ کشمیر مےں لگی تھی اسکے نتیجے مےں کشمیری پنڈتوں کی بہنوں اور بےٹیوں کےساتھ زیادتی کی گئی۔ آج وہی آگ اُتر پردےش، حےدرآباد اور کےرالہ مےں لگ گئی ہے۔اب وہ آگ دہلی کے اےک کونے (شاہین باغ) مےں لگ گئی ہے۔ یہ آگ دہلی کے شہریوں کے گھروں مےں داخل ہو جائےگی۔ لاکھوں لوگ یہاں جمع ہو گئے ہیں۔دہلی کے لوگوں کو فےصلہ کرنا ہے۔ یہ لوگ آپکے گھروں مےں گھسےں گے ، آپکی بہن بےٹیوں کی عصمت دری کرےنگے اور انہیں قتل کردےنگے۔ آج آپ صرف اسلئے محفوظ ہیں کہ مودی بھارت کے وزیر اعظم ہیں۔اگر وہ تبدیل ہوجائےں تو آپ محفوظ نہیں رہےنگے۔ آج وقت ہے ۔ مودی جی اور امیت شا کل آپکو بچانے نہیں آئینگے۔” اےک اور رےلی مےں انہوں نے کہا "اگر ہماری (BJP کی) حکومت بن جاتی ہے ، تو مجھے صرف اےک مہینہ دے دےں، مےں اپنے حلقے مےں سرکاری زمینوں پر قائم تمام مساجد ختم کردوں گا۔” دہلی مےں اےک اور انتخابی رےلی کے دوران BJPکے وزیر انوراگ ٹھاکرشاہین باغ کے مظاہرین کےخلاف یہ نعرے لگوا تے رہے "دےش کے غداروں کو ۔۔ گولی مارو سالوں کو”۔
BJP کی سیاسی سوچ یہ بن چکی ہے کہ جواسے ووٹ نہیں دےتا وہ غدار ہے اور اسے گولی مار دےنی چاہیے۔ مودی گےنگ کی ناعاقبت اندےشی کی انتہا یہ ہے کہ معصوم بچوںکے ناپختہ ذہنوں مےں بھی نفرت اور دشمنی کا زہر بھررہا ہے، ان سے مخالفین کو گالیاں دلوائی جارہی ہیں اورگولیاں مارنے کے نعرے لگوائے جارہے ہےں۔ یہ رجحان کسقدر خطرناک نتائج کا حامل ہے، ووٹ بےنک کی سیاست کرنےوالی BJP اس سے بے خبر معلوم ہوتی ہے ۔جب عوامی رےلیوں مےں شاہین باغ کے مظاہرین کےخلاف یہ نفرت بھرے نعرے لگوائے جائےں گے تو اسکا یہی نتیجہ نکلے گا کہ کوئی سر پھرا نوجوان اشتعال مےں آکر ہاتھوں مےں پستول لئے نہتّے شہریوں پر گولیاں برساتاپھرے۔ مودی کے بھارت مےں جہاں ہر مخالف آواز دھونس دھمکیوںاور گولیوں سے خاموش کر دیجاتی ہے وہاں لوگ یہ سوال پوچھنے مےں حق بجانب ہیں کہ خوف کی فضا مےں کوئی کب تک زندہ رہ سکتا ہے؟ اوریہ کہ اس خوف اور دہشت کی صورتِ حال مےں اےک ذمہ دار شہری کیونکر خاموش رہ سکتا ہے؟

You might also like More from author