فتح نوشتہ دیوار ہے

وہ غصیل ہے، تنک مزاج ہے، ضدی ہے
حریف کچھ بھی کہیں وہ مگر اپنی اصل میں ایک کھرا انسان ہے ، دوسروں کے لئے ہمدردی ، لاریب جس کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ آسانیاں فراہم کرنا جس کی زندگی کا نصب العین ہے۔ اور اپنے اس نصب العین تک رسائی کے لئے اس نے اپنے لئے ایک حکمت عملی وضع کر رکھی ہے، اس حکمت عملی کے ہیرے موتی ہیں۔
اخلاص نیت، اخلاص عمل، یقین کا مل، مستفل مزاجی،
شو موئی قسمت ایک تہذیبی آشوب میں مبتلا سماض میں مذکورہ حکمت عملی کے یہ چاروں ہیرے موتی لوگوں کو نوکیلئے پتھروں کی طرح چھبتے ہیں۔ منافقت اور رزالت کے ماحول کے پروردہ عناصر ان اوصاف کو ضد اور ہٹ دھرمی سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی کردار کشی میں آخری حد تک چلے جاتے ہیں۔ کاش اس مرحلے پر وہ ان حقائق پر بھی ایک نگاہ ڈال لیا کریں۔ جو اس کی اسی حکمت عملی کے سبب سے انسانیت کے ماتھے کا جھومر بن چکے ہیں۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال ، نمل یونیورسٹی، اور پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے اس کی 22سالہ وہ جہد مسلسل جس کے نتیجے میں وہ وزارت عظمیٰ کی مسند تک پہنچا۔ اور کرکٹ میں اپنے شاندار کیریئر، جس میں 92میں ورلڈ کپ کی جیت بھی شامل ہے اور اب بطور وزیر اعظم پاکستان اس کے سامنے زندگی کے دو بہت عظیم مقاصد ایک چیلنج بن کر کھڑے ہیں۔1۔ مسئلہ کشمیر کا حل اور2۔ پاکستان کی ریاست مدینہ کے مثل پر تشکیل۔
مسئلہ کشمیر دراصل 1947میں آزادی ہند کے نامکمل ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے۔ جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے یا حق رائے دہی کے تحت طے کیا جاتا ہے۔ اہل کشمیر پچھلے 72سال سے اس مقصد کے حصول کے لئے سراپا جدو جہد ہیں۔ مگر استحصال ہندوتوا اور اس کی معاون نسل پرست قوتیں اور ان کے اندرون و بیرون ہند کی ظاہری درپردہ معاون قوتیں اہل کشمیر کی جدوجہد کے اس سفر کو کھوٹا کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ شومئی قسمت کہ پاکستان کی جمعیت فضلو بھی دشمن کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے پاکستان دشمنی کی راہ پر چل نکلی ہے۔اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ عمران خان نے اپنی خداد صلاحیتوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو جس وسیع پیمانے پر عالمی سطح پر دنیا کا نمایاں ترین مسئلہ بنا کر پیش کر دیا تھا اور اک عالم میں رائے عامہ کے حلقوں اور ابلاغی ذرائع پر مسئلہ کشمیر ہی کا غلغلہ غالب تھا، بھارتی را اور خفیہ اداروں کے دیر ینہ مشیر اجیت دوول کے یا رخاص ملا فضلو نے پیپلز پارٹی اور نو ن لیگ کی مالی اور سیاسی سر پرستی اور معاونت کے ساتھ ملک میں نام نہاز آزادی مارچ اور اس سے جڑے ہوئے دھرنے جیسے واقعات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عقبی گوشے میں دھکیل دیا۔
ملا فضلو کی اس ملک دشمن مذموم حرکت نے بھارت کے مقاصد کی تکمیل کر کے رکھ دی۔ اور اس کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج سارے بھارتی میڈیا پر ملا فضلو ایک مقبول کردار کا درجہ پا چکا ہے۔
اور آج صورت حال یہ ہے کہ بھارت اور ملا فضلو کا بیانیہ اپنی کم و بیش سبھی جزئیات کے ساتھ یکساں ہو چکا ہے ۔ اس بھارتی اور جمعیتی بیانایے کا ایک مرکز و محور پاکستان و عمران دشمنی ہے۔ جس طرح بھارت نے آج تک پاکستان اور عمران خان کو تسلیم نہیں کیا اسی طرح ملا فضلو نے پاکستان اور عمران خان کو تسلیم نہیں کیا۔بھارت ، اس کی مقتدر جماعت بی جے پی آر ایس ایسی اور دیگر تمام نسل پرست پر یشر گروپس پاکستان اور عمران خان کو (خاکم بدین ) صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے درپے ہیں۔
حالیہ نام نہاد آزادی مارچ کا سب سے بڑا بیانیہ ہے عمران خان کا استعفیٰ اب جس پر جمعیت فضلو، زرداری ، نون غنے، اسفندیار ، جمعیت نورانی، محمود اچکزئی، بزنجو اور ملا ساجد وغیرہ شامل ہیں۔ کیا تماشہ ہے کہ ان میںملا فضلو سمیت، نورانی، اچکزائی، شہ پاو¿ اور ملا ساجد وغیرہ ہم میں کوئی بھی کسی پارلیمانی ادارے کا منتخب رکن نہیں مگر یہ لوگ ایک ایسے شخص سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں جو ملکی تاریخ میں(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر26
پہلی بار بیک وقت قومی اسمبلی کے پانچ مختلف حلقوں سے بھاری اکثریت میں کامایب ہو کر پاکستان کا مقبول ترین سیاسی رہنما کی حیثیت سے سامنے آیا ہے۔
تا ہم چونکہ عمران خان کا سب سے بڑا ایجنڈا ملک کو کرپٹ سیاستدانوں سے نجات دلانا ہے اور اس سلسلے میں وہ بہت کامیاب بھی جا رہا ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی اور نونلیگ کی ساری کرپٹ قیادتیں جیلوں میں بند ہیں اور مزید پاس زندان جانے کی راہ پر کھڑے ہیں۔
بس یہی وہ عمرانی اقدام ہے جس نے ملک کے سارے لٹیروں کو سارے گندے انڈوں کو ایک ہی ٹوکری میں جمع کر دیا ہے ۔ ایک اعتبار سے اسے ہی مکافات عمل کیا جاتا ہے ۔ جس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ قدرت اب پاکستان کو قومی دولت لوٹنے والے تمام ڈکیتوں سے پاک صاف کرنے والی ہے ۔ اہل پاکستان تمام ترنا مساعدات کے باوجود پاکستان کو ایک جدید فلاحی ریاست دیکھنے کے لئے عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

You might also like More from author