کب تلک پتھر کی دیواروں پر دستک دیجئے

باعث افسوس ہے کہ جہاں کروڑوں پاکستانی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان حال ہیں وہی پارلیمان کی تنخواہیں بڑھانے کی ناکام کوشیش کی گی ، مقام شکر ہے کہ نہ صرف حکمران جماعت بلکہ پاکستان پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی بھی اس خواہش کی مخالفت میں سامنے آ گئیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی مشکلات میں دوچند اضافہ کردیا، محدود وسائل اور لامحدود مسائل نے کروڑوں پاکستانیوں کے لیے چیلنج بن چکے ، ایسے میں حکومت واپوزیشن کی جانب سے قومی خزانے پر مزید بوجھ ڈالنے کے کسی بھی اقدام کی تحسین نہیںکی جاسکتی ، جمہوریت کا وصف ہے کہ اس میں معاشرے کے کمزور طبقات کی داد رسی کا دعویٰ کیا جاتا ہے ، مذکورہ نظام میں حکمرانوں کا انتخاب چونکہ عوام کے ووٹوں سے عمل میں آتا ہے لہٰذا لوگوں کے جذبات واحساسات کو مقدم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ارسطو کا آزادی اور مساوات کے جمہوری تصور بارے کہنا ہے کہ اس پر آسانی سے بحث کی جاسکتی ہے ،لیکن تجرباتی سطح پر ایسا کرنا مشکل ہے ، آزادی کا تصور سماج میں کیونکر ممکن ہے ،اس ضمن میں بعض اہل دانش آزادی کے تصور کو نظم وضبط سے متصادم سمجھتے ہیں۔ ارسطو کے بقول جمہوری معاشرے میںقانون جہاں سب کے لیے برابر ہونا چاہے وہی آزادی بھی قانون کے دائرے کے اندر ہی ہونی چاہئے۔ ارسطو مادر پدر آزادی کا قائل دکھائی نہیں دیتا، افلاطون عصری کے حالات کے پیش نظر جمہوریت کاحامی نہ تھا بقول اس کے کہ یہ کیسا نظام ہے جس میںپچاس دانشوروں کی را ئے پر اکیاون احمقوں کی رائے غالب آجایا کرتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوری نظام کے مخالفت میںاقبال بھی پیش تھے مثلا انھوں نے برملا کہا کہ
جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
جمہور یت میں آزاد اظہار خیال کی تو آزادی ہے مگر ہر شخص کے معاشی مفادات کا تحفظ کو حاصل ہونا ممکن نہیں۔ جمہوری نظام پر یہ اعتراض بلا وجہ نہیںکہ خوشنما دعوﺅں کے برعکس اس میں بھی دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہے ، یہی وجہ ہے کہ جمہوری ملکوں میںنمایاں امریکہ میں بھی بے گھر افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جمہوریت کے حامی حلقوں کے بقول جمہوری نظام میں بہتر بنانے کی گنجائش بہرکیف موجود ہے چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ جمہوریت کی ناکامی کا مطلب تھوڑی اور جمہوریت سے دیا جانا چاہئے، جمہوریت میں اظہار خیال کی آزادی کے نتیجے میں عوامی مشکلات کا اندازہ لگانے میں آسانی رہتی ہے، عصر حاضر کی ہر جمہوری ریاست میں مقامی حکومتوں کے نظام کے ذریعہ ایسا انتظام کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جمہوریت بارے سابق بھارتی وزیر اعظم جواہرلعل نہروکا کہنا تھا کہ ” لفظ جمہوریت بارے گفتگو کرنا اچھا نہیں ہے ، یا کسی خاص طرز حکومت بارے یہ کہنا کہ یہ سب سے مفید ، سب سے اچھا یا ناقابل تغیر اور تنقید سے بالاتر کہنا ہرگز مناسب نہیں ، نہرو کے بقول دراصل ہمیں اساس کو لینا چاہئے ، اس کی بنیاد دراصل افراد اور جماعت دونوں کی ترقی ہے“
مملکت خداداد میں جمہوریت کے ثمرات نہ سمیٹنے کی وجہ نظام کا تسلسل نہ ہونا بھی سمجھا جاتا ہے، ایک اور مسئلہ شرح خواندگی میں کمی کا ہے ، کسی جمہوری نظام کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں کے کمزور طبقات کی داد رسی کس حد تک کی جارہی ہے، اگر مگر چونکہ اور چنانچہ سمیت سچائی یہی ہے کہ ہمارے ہاں بدستور طاقتور اورکمزور کی تفریق گہری ہے، بعض باشعور پاکستانی رائج نظام کی افادیت پر شعر کی شکل میں تبصرے کرتے دکھائی دیتے ہیں یعنی
کب تلک پتھر کی دیواروں پر دستک دیجئے
تیرے سینے میں تو شائد کوئی دروازہ نہیں
ایک ہی قانون عام شہری کے لیے کچھ جبکہ طاقتور کے لیے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ایک تاثر یہ ہے کہ خیبر تا کراچی عوام کی اکثریت نے موجودہ صورت حال پر دل وجان سے اکتفا کرلیا ان کے قول وفعل سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیںکہ بہتری کے لیے جدوجہد سے گریز میں ہی عافیت ہے۔
وطن عزیز میں ایسے بھی مرد وخواتین کی کمی نہیں جو جمہوری نظام کو دین سے متصادم قرار دیتے ہیں وہ اس حقیقت کو دل وجان سے تسلیم کرنے پر آمادہ نہیںکہ مذاہب میں جس قدر اسلام میں اظہار خیال کی آزادی ہے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ۔ اس کی نمایاں مثال خود خالق کائنات کا دربار ہے ، قرآن میںوضاحت سے کہا گیا کہ جب رب کائنات نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا تو فرشتوں نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ انسان زمیں پر قتل وغارت گری کریگا جس پر خداوندکریم کا جواب تھا کہ جو میںجانتا ہوں تم نہیں جانتے ، بظاہر شیطان کا آدمؑ کو سجدے سے صاف انکار بھی رب تعالٰی کے دربار میں اظہار خیال کی آزادی کا پتہ دیتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں آمرانہ طور طریقوں کی حمایت کرنے والوں کیلئے تخلیق آدم کے واقعات میں سوچ وبچار کا وسیع سامان موجود ہے ۔ دربار رسالت ﷺ ہو یا پھر خلفائے راشدین کا دور حکومت کہیں بھی خوف جبر کو پسندیدہ نہیں کہلایا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ،حضرت عمر فاروقؓ ، حضرت عثمان غنی ؓ اور شیر خدا حضرت علی ؓ کی خلافت میں جبر کی بجائے قرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ علم وحکمت سے کام لینے کی روایات پروان چڑھیں۔

You might also like More from author