موذی مودی۔۔ مردودِ جہاں

پچھلے سال26فروری کی بھیگی شب کیا ہوا؟
بھارت کسی معقول جواز کے بغیر پاکستان کے اقتدار اعلیٰ یعنی اس کی ساورنٹی کو ملحوظ خاطر نہ رکھتے ہوئے ہماری فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔اور بالاکوٹ میں مگ21طیاروں کے ذریعے ایک جنگلی گوشے میں چند بم گراکر، پاکستان فضائیہ کی جوابی کارروائی کی بھنک پڑتے ہی دم دبا کر بھاگ نکلا۔
بھارت نے پاکستان جیسے پر امن ہمسایے کے خلاف ایسی جارحیت کا ارتکاب کیوں کیا۔
پلوامہ کا واقعہ اس کا محرک بتایا گیا۔ اس ناٹک کا ڈی این اے ہو چکا ہے اور اس حقیقت کو تمام عالم جان چاک ہے کہ پلوامہ ڈرامہ اصل میں بہانہ تھا پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا انتخابی منجن بیچنے کا کہ پانچ سال پہلے کا تجربہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے جغادریوں اور گرگوں کے پاس موجود تھا جس کے مطابق گجرات میںمسلم کشی اور پاکستان دشمنی کے نعرے خوب بکے تھے یہاں تک بھارتی ووٹرز گجرات کے ظالم قصائیوں کے چکر میں آگئے اور انہوں نے کانگرسی اتحاد کے مقابلے میں خونی موذی مودی کو ووٹ دے کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیا۔ سو2014کے شیطانی تجربے کی روشنی میں مقتدر بھارتی بدمعاشیہ نے 65کی طرح رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح اور کسی پیشگی اعلان کے بغیر جینوا معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ہماری فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالاکوٹ پر بمباری کرڈالی۔
اب آئیے اس مجرمانہ اور سنگین جنگی واردات کا مختصر تجزیہ کریں کہ اگر ایک ملک یا اس ملک کی مقتدر بدمعاشیہ پیش آمدہ انتخابی کے حوالے سے اپنے انتہائی محدود اور خالصتاً مقامی مفاد کے لئے کسی دوسرے ملک کے اقتدار اعلیٰ اور ساورنٹی کی کھلے بندوں خلاف ورزی کرتاہے اور اس ناطے جنیوا معاہدے کی رُو اور روح کے مطابق پاکستان پر جارھیت تھوپتا ہے تو ایسی صورت حال میں اس ملک کے انتخابات اس کا اپنا داخلی مسئلہ رہ جاتا ہے یا ایک مسلمہ بین الاقومی ضابطے کے مطابق ایک بین الاقوامی وجہ تنازعہ بن جاتا ہے جسے جڑ سے اکھاڑ پھینک دینا ہی خطے کے امن کے لئے ناگزیر قرار پاتا ہے۔
اس ضمن میں ہماری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ ایک ایسی جماعت، گروپ اور پارٹی جو کسی خطے اور اس ناطے امن عالم کو داو¿ پر لگا دے تو اس پارٹی کو اقتدار و اختیار سے یکسر محروم کر دیا جانا چائیے۔
زمینی حقائق یہ تھے کہ بھارت اپریل مئی کے مہینوں میں عام انتخابات کے مراحل سے گزرنے والا تھا اور 26فروری کی بھیگی شب پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی بے حرمتی اور اس پر جارحیت کا ارتکاب اسی سلسلے کا ایک جزو تھا۔
سو اب یہ ضمیر عالم، اقوام متحدہ اور دوسری عالمی تنظیموں اور فروغ امن اور انسانی حقوق کی سربلندی کے لئے کام کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائے جن کے نتیجے میں بھارت پر موذی مودی دوبارہ برسر اقتدار نہ آسکے اور نہ ہی اس کے تشدد پسند بھارتیہ پارٹی اور آر ایس ایس کبھی اقتدار حاصل کر سکیں۔
اس ضمن میں سب سے اہم کرداربھارتی رائے دہندگان کو ادا کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کے سادہ لوح عوام بنیادی طور پر امن پسند اور انسانیت سے محبت کرنے والے ہیں ہاں البتہ وہ2014میں بوجودہ تشدد پسند گرگوں اور بدمعاشوں کے نرغے میں پھنس گئے تھے۔ مگر اب وہاں اجتماعی غلطی کا احساس جاگ اٹھا ہے۔ ماضی قریب میں اگر پاکستان میں گو نواز گو کے نعرے جمے تھے تو اب بھارت میں گومودی گو کے نعرے گونجنے لگے ہیں اس فضا گو مزید پروان چڑھنا ہے۔
ضرورت ہے کہ بھارتی عوام اپنے سابقہ غلطان کا کفارہ اس طرح ادا کردیں کہ کشمیر سے کنیا کماری تک ”گو مودی گو“ اور ” نو مودی نو“ کے نعرے کو جذبے اور عمل میں بدل دیں اور اس سال بھارت کی بگڑی ساکھ کو سنوارنے میں اپنا با معنی کردار کریں۔ اسی میں ان کی بھارت کی اور خطے اور عالمی امن کے فروغ کی ضمانت پنہاں ہے۔۔

You might also like More from author