یوم یک جہتی کشمیر

کشمیر محض ایک جغرافیہ نہیں نظریہ ہے، جس کا تحفظ اہل پاکستان کے جذبوں، ولولوں اور ارادوں میں رچا بسا ہے۔ یہ عطیہ الٰہی ہے کہ پاکستان کو عمران خان کی صورت میں ایک عہد ساز سٹیٹمین مل گیا ہے جس نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر کر دیا ہے

چنگیزیت کیا ہے؟
انسانیت دشمن تثلیث!
شیطنت صفت جہالت، خبط عظمت اور انسانی لہو کی لت
نریندر مودی کی ذات، عادات وصفات پر غور کیجئے۔ آپ اوپر بیان کی گئیں تینوں خصلتیں بدرجہ اتم نظر آئیں گی۔
بچپن کی غربت اور نامسا عدالت بسا اوقات انسانی ذات کے ساتھ کچھ اس طرح چمٹ کر رہ جاتی ہیں کہ متعلقہ شخص ان سے جان چھڑانا بھی چاہے تو ایسا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور سہم جاتا ہے۔ ایسی صورت میں طبیعت پر بوجھ اور انقبامن بڑھتاجاتا ہے۔ ایسے میں اگر اس کے مدمقابل کوئی ناپسندیدہ ہدف آن کھڑا ہو تو برسوں سے نفرت کا رکا ہوا بند ٹوٹ جاتا ہے اور اس ہدف کو ملیامیٹ کر دینا ہی اس شخص کی زندگی کا مقصد ٹھہر جاتا ہے۔
اور یوں بچپن میں ٹرینوں میں آواز لگا کر چاکے بیچنے والا مودی گجرات (مہاراشٹر) کے وزیراعلیٰ کے پردے میں اس علاقے میں مسلمانوں کا قاتل اعلیٰ اور قصائی بن کررہ جاتا ہے۔ اور اب مسلمانوں کے لہو کی یہی لت اسے بھارت کے وزیراعظم کی حیثیت سے کشمیر لے آئی ہے۔ ان دنوں گجرات کا یہ شیطنت صفت قصائی جنت نظیر وادی کشمیر کو اپنے ظلم اور بے گناہ اور معصوم کشمیریوں کے لہو سے جہنم زار بنانے پر تلا ہوا ہے۔
مودی قصائی کی کشمیر، کشمیریوں اور ایک معین مفہوم میں پاکستان کے خلاف تازہ ترین شیطانی واردات کا تعلق اس آئینی جو درحقیقت غیر آئینی اقدام کے ذریعے کی گئی ہے جس کا مقصد ، مطلب اور ہدف کشمیر کی عالمی سطح پر مسلمہ مگر متنازعہ حیثیت کو غارت کرکے اسے بھارتی تسلط میں لانے کے مترادف ہے۔ اس ضمن میں بھارتی پارلیمنٹ میں ایک بل منظور کیاگیا ہے جس کی رو سے بھارتی آئین کی شق 370 اور35 اے کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس غیر آئینی اقدام کے نتیجے میں کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا لینے کی سازش کی گئی ہے۔ جس کا ایک خوفناک نتیجہ یہ ہوگا کہ اب کوئی بھارتی ماضی کی آئینی قدغن اور پابندی کے برعکس اب کشمیر کے کسی بھی حصے میں زمین کی خرید وفروخت کر سکے گا۔ وہاں مستقل سکونت اختیار کر پائے گا اورکشمیر میں آزادانہ طور پر کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کر سکے گا۔
آخری تجزیے میں اس واردات کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہ کہ کشمیر میں آبادی کا موجودہ تناسب جو کشمیری مسلمانوں کے حق میں ہے وہ بدل جائے گا۔ غیر کشمیری لوگوں کو بالخصوص ہندوﺅں کو مختلف ترغیبات کے ذریعے وادی کشمیر میں لالبائے گا۔ بالکل جس طرح اسرائیل نے فلسطین میں یہودیوں کو لالبایا ہے اور اس مذموم حرکت کے ذریعے فلسطینی سرزمین کے حقیقی بنئے پیکاں تو اقلیت بنا دی گئیں اور اغیار کو اکثریتی درجہ دے کر انہیں غالب کردیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ بھارت اپنے عالمی اتالیق اور رول ماڈل اسرائیل کی پیروی میں کشمیر کو بھی دوسرا فلسطین بنا دینے کے درپے آزاد ہے۔
بھارت کی یہ شیطانی چال مگر کسی طور کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ کیونکہ اس کی راہ میں ضمیر عالم، بین الاقوامی رائے عامہ عالمگیر انسانیت نواز ادارے، پاکستان اور خود اہل کشمیر کا آزادی کے لئے ناقابل تسخیر عزم حائل ہیں۔
عمران حکومت اس سلسلے میں نہایت چوکس اورمستعد ہے عمران ٹرمپ ملاقات اور مذاکرت اس ضمن میں بہت اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ یاد رہے ان مذاکرات میں صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔ جسے پاکستان نے منظور کرلیا تھا۔ اب پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ صدر ٹرمپ کو بھارت کی اس حالیہ واردات کی تنسیخ کا مطالبہ کر سکے۔
اس مرحلے پر یہ وضاحت کرتا چلوں کہ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر47 منظور شدہ مورخہ21 اپریل1948 ءکی رو سے بھارت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کشمیر سے غیر ضروری افواج کو حد درجہ کم کرتے ہوئے وادی میں غیر جانبدارانہ اور آزادانہ فضاءمیں استصواب یا رائے شماری کی فضاءپیدا کرے تاکہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں وہاں اہل کشمیر بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔
اقوام متحدہ کی یہ قرارداد واضح طور پر کشمیر کو ایک متنازعہ مسئلہ تسلم کرتی ہے۔ 1971 ءکا شمالہ معاہدہ بھی اسے ایک متنازعہ سٹیٹس دیتا ہے اور بھارت کا آئین اپنی شق370 اور 35 ار کے حوالے سے بھی کشمیر کو متنازعہ ہی سمجھتا ہے۔ حال ہی میں عمران ٹرمپ ملاقات میں میزبان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی جو پیشکش کی ہے اور جس کے پیچھے ان کا یہ کہنا کہ انہیں خود مودی نے بھی اس مسئلے کے حل کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا اس سارے سوال کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

You might also like More from author