نون غُنی ہف ہف شف شف

عام آدمی کی نظروں سے اوجھل
بیک وقت کئی محاذ کھل چکے ہیں
اور ہر محاذ کے لئے مسعد گینگ متعین۔ ان کے سپرد کردہ، وارداتوں کی نسبت سے انہیں یہ نام دیئے جا سکتے ہیں۔
بڑھک باز وچولا
منت ترلا ٹولہ
پٹ سیاپا طائفہ
طالل، دلال، دھمال، نہال، دانیال تو ہف ہف شف شف کرتے۔ الزام اشنام اقہام البتہ ایک اور ذات نا شریف مریم اورنگزیب یعنی مریم مشاہد اللہ نامی گھریلو ملازمہ کو نون غنوں کا مردہ مزید خراب کرنے پر لگا دیاگیا ہے اس کی واردات اور گھات کا ترجیحی محور وہ لفافیے منشی منیم ہیں جنہیں وہ وفاقی وزیر اطلاعات کی حیثیت سے بھتہ فراہم کرتی رہی ہیں۔ مگر اس محاذ پر موصوفہ کو اب منہ کی کھانی پڑ رہی ہے کیونکہ تبدیل شدہ سیاسی موسموں میں”سوجھ بوجھ،، رکھنے والے میڈیا مالکان کے فیصلوں کی زد سے اب بیشتر نیوز ڈیسک لفافیوں سے پاک صاف ہوتے جا رہے ہیں سوشل میڈیا پر کرائے کے طوطوں کی ٹیں ٹیں چیں چیں سے چھٹ چکا ہے۔ شکریہ چوہدری فواد حسن، بڑھک بازی کا ایک اور دستیاب محاذ عدالتی احاطے تھے جہاں نون غنے ڈس انفارمیشن کی جھاگ اڑاتے پھرتے تھے۔ اب کہ سکرپٹ کے مطابق بڑا ناشریف زبان بندی کے بھرت( ب ھ رت) پر ہے جبکہ بڑبولی صاحبزادی ڈپریشن کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہے۔ سو یہاں بھی الوﺅں کا راج ہے اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
بڑھک بازی کا آخری اکھاڑ، اوورسیز ممالک میں بیرون ملک نون لیگ کی شاخوں اور عالمی میڈیا کے توسط سے لگایا جا سکتا تھا مگر عالمی سطح پر انسانی حقوق کے اداروں، معاشی جرائم کی مخالف تنظیموں اور عالمی میڈیا کی پالیسی کس سبب سے اب ایسا ممکن نہ تھا۔ کیونکہ بین الاقوامی سرویز میں نوازشریف اور نون لیگ کو دنیا کے دس کرپٹ ترین سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں میں سرفہرست قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی شہرت یافتہ، اخبارات اور جریدوں میں بھی جاتی عمرہ کے ناشریفوں کو ”معاشی قذاق،، اور ”کرپٹ مافیاز کے سرخیل،،قرار دیا جا چکا ہے۔ ڈیلی نیوز اور وال سٹریٹ جرنل کی تہلکہ خیز رپورٹوں نے تو ناشریفوں کے سیاسی تابوت میں آخری کیل تک ٹھونک دی ہے۔
سو اب عمر خوردہ سیاسی پناہ گزین مشاہد حسین اپنی زندگی کی آخری اننگز میں کلین بولڈ ہو چکا ہے۔ اپنی بچی کھچی عزت سمیٹنے کے لئے وہ پھر سے ظہور پیلس سے رابطے کے ترلے واسطے ڈال رہا ہے مگر پرانی وضع کے چوہدری برادران اب ایک سوراخ سے دوسری بار ڈسے جانے کو تیار نہیں۔
بڑھک باز ٹولے کی سرگرمیوں کا دائرہ محدود ہو جانے اوراس کی کارگزاری کے بتدریج بے اثر ہو جانے کے باعث اب نون غنوں نے اپنے بچاﺅ کے لئے منت ترلے ٹولے اور پٹ سیاپے طائفے سے تمام تر امیدیں باندھ لی ہیں۔ یہ دونوں گینگ گاہے بیک وقت سرگرم عمل ہوتے ہیں اور گاہے جدا جدا ترجیحات کے ساتھ ۔ جہاں تک منت ترلا ٹولا ٹولے کا معاملہ ہے اس کا طریقہ اب یہ ہے کہ وہ ”طاقت کے مراکز،، کی عملی طور پر ”قدم بوسی،، کا وظیفہ کرنے لگے ہیں۔ معافی تلافی اور درگزر کی التجائیں اس ٹولے کے وابستگان کی نوک زبان پر رہتی ہیں۔اس ٹولے کا انتہائی ہدف این آر او ہے، مگر اس باب میں اس گروہ ناہنجاراں کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ یہ اسی ٹولے کا کیا دھرا تھا جس کے تحت کہا گیا کہ جانی عمرہ کی بزرگ ترین محترم خاتون نے پیشکش کی ہے کہ شریف برادران اپنے تصرف میں موجود دولت اسی (۰۸) فیصد قومی خزانے میںجمع کرا دیں تو ان کی جان بخشی کر دی جائے۔ مگر بقول شخصے اس پیشکش کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا گیا۔
اب ان دنوں مریم صفدر کی ”جان بخشی،، کے لئے ہاتھ پیر مارے جا رہے ہیں۔ بڑے میاں ان دنوں عجیب تکلیف اور مخمصے میں مبتلا ہیں۔ ان کی سیاسی وراثت کے حوالے سے تمام تر امیدوں کا منبع ومرکز مریم ہے۔ جس نے ان کی گرفتاری سے پہلے کے دور میں باپ کی مزاحمتی سرگرمیوں کا بھرپور ساتھ دیا اور میدان سیاست میں اپنے لئے بجاطور پر ایک اہم مقام بھی حاصل کرلیا تھا۔ مگر ہوا یہ کہ باپ کی مالیاتی ہوس کاری کی مہم میں حصے داری کے سبب سے بیٹی میں طویل قید کی سزا بھگت رہی ہے۔ نواز شریف اب ہر حالت میں امریم کے لئے ”کلین چٹ،، حاصل کرنے کے درپے ہیں۔ مگر ان کی ایک چال بھی کامیاب نہیں ہو پار رہی۔ اس میں بلاشبہ ان کی چھوٹے بھائی سے جاری خاندانی آویزش کا بھی بہت ہاتھ ہے اور وراثت کے لئے حمزہ کے ساتھ مری کا یدھ بھی نوازشریف کو کھڈے لائن لگانے میں اہم عامل بنا ہوا ہے۔

You might also like More from author