اسرائیل فلسطین تنازع: ایرانی صدر حسن روحانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبے کو ’شرمناک اور قابل نفرت‘ قرار دیا

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل اور فلسطین تصفیہ کے لیے امن منصوبہ تمام مسلمانوں کے لیے ’شرمناک اور قابل نفرت‘ ہے۔

ایران کے صدر روحانی نے 2 فروری کو اسلامی جمہوریہ کے بانی، آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر حاضری کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ’ان دنوں ہم ایک بڑی شرمندگی کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، جسے انھوں (امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم) نے صدی کے معاہدے کے طور پر تاریخی قرار دیا ہے۔ یہ تمام مسلمانوں اور آزادی کے متلاشی لوگوں کے لیے کتنا شرمناک اور نفرت انگیز ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں، متحد ہو کر حملہ آور کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔‘

ایرانی صدر روحانی اور کابینہ نے 1979 کے اسلامی انقلاب کی 41 ویں برسی کے موقع پر خمینی مقبرے کا دورہ کیا۔ صدر روحانی کی تقریر کو رولنگ مقامی چینل آئی آر آئی این این انگریزی زبان کے پریس ٹی وی نے براہ راست نشر کیا گیا۔

اس سے قبل فلسطین کے صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ فلسطین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات ختم کر دیے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فلسطین کے صدر نے یہ اعلان سنیچر کو قائرہ میں عرب لیگ کے ایک روزہ ہنگامی اجلاس کے دوران کیا جبکہ عرب لیگ نے ٹرمپ کے منصوبے کی مخالفت میں فلسطینیوں کی حمایت کی۔

امریکی صدر کے منصوبے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلائے گئے عرب لیگ کے اجلاس میں فلسطین کے صدر محمود عباس نے بتایا ’ہم نے دوسری طرف (اسرائیل) کو آگاہ کر دیا ہے کہ ان کے اور امریکہ کے ساتھ سکیورٹی سمیت کسی بھی طرح کے تعلقات نہیں رکھے جائیں گے۔‘

تاہم اسرائیلی حکام نے ان کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مشرقِ وسطی امن منصوبے میں ایک محدود فلسطینی ریاست اور مقبوضہ مغربی کنارے پر آباد بستیوں پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

روئٹرز کے مطابق فلسطینی صدر نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے فون پر ٹرمپ کے ساتھ اس منصوبے پر بات کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس منصوبے کے مطالعہ کے لیے اس کی کاپی وصول کرنے سے بھی انکار کیا۔

’ٹرمپ نے کہا کہ میں فون پر ان سے بات کروں لیکن میں نے کہا نہیں، اور یہ بھی کہا کہ وہ مجھے ایک خط بھیجنا چاہتے ہیں لیکن میں نے انکار کر دیا۔‘

فلسطینی صدر نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ٹرمپ یہ کہہ سکیں کہ انھوں نے ان سے مشاورت کی ہے۔

فلسطینی صدر نے مزید کہا ’میں اپنی تاریخ میں یہ بات ریکارڈ نہیں کراؤں گا کہ میں نے یروشلم کو بیچ دیا۔‘

روئٹرز کے مطابق قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کی خواہشات پر پورا نہیں اترتا اور عرب لیگ اس منصوبے پر عمل درآمد میں امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی۔

امریکہ کے تین قریبی اتحادی ممالک مصر، سعودی عرب، اردن کے ساتھ ساتھ عراق، لبنان اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ سنہ 1967 سے پہلے کے علاقوں میں فلسطین کے حقوق کو تسلیم کیے بغیر کوئی امن نہیں ہو سکتا۔

اس سے قبل فلسطین کے وزیراعظم محمد اشتیہ نے بھی بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہم چند عرب ممالک کی سیاسی مجبوریوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب وقت ایک واضح پوزیشن اختیار کرنے کا ہے۔ جو لوگ اس وقت ہمارے ساتھ نہیں ہیں وہ مستقبل میں اپنے آپ کو دوسری طرف (امریکہ اور اسرائیل) پر کھڑا پائیں گے اور یہ عرب ممالک کے لیے غیر معمولی ہو گا۔‘

You might also like More from author