#coronavirus: چین کے صوبہ ہوبائی سے فلپائن آنے والا 44 سالہ شخص کورونا وائرس کے باعث ہلاک

فلپائن میں کورونا وائرس کے باعث ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جو چین سے باہر اب تک کی پہلی ہلاکت ہے۔

اس 44 سالہ شخص کا تعلق چین کے صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان سے تھا جہاں اس وائرس کی سب سے پہلے تشخیص ہوئی تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ یہ شخص فلپائن آنے سے قبل اس وائرس سے متاثر ہو چکا تھا۔

سرکاری طور پر 2019-nCov کہلانے والے وائرس کی وجہ سے اب تک کم از کم 304 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ان اموات میں سے 294 صوبہ ہوبائی میں ہوئیں جہاں سے وائرس کی شرعات ہوئی۔ ہوبائی میں سنیچر کے روز 45 اموات درج کی گئیں۔

فلپائن میں کورونا وائرس کے باعث ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جو چین سے باہر اب تک کی پہلی ہلاکت ہے۔

اس 44 سالہ شخص کا تعلق چین کے صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان سے تھا جہاں اس وائرس کی سب سے پہلے تشخیص ہوئی تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ یہ شخص فلپائن آنے سے قبل اس وائرس سے متاثر ہو چکا تھا۔

سرکاری طور پر 2019-nCov کہلانے والے وائرس کی وجہ سے اب تک کم از کم 304 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ان اموات میں سے 294 صوبہ ہوبائی میں ہوئیں جہاں سے وائرس کی شرعات ہوئی۔ ہوبائی میں سنیچر کے روز 45 اموات درج کی گئیں۔

عالمی ادارہ صحت کے فلپائن میں موجود نمائندہ ربندرا ابیاسنگھے نے کہا کہ ’یہ چین سے باہر اس وائرس کے باعث ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔‘

’تاہم ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والا کیس نہیں ہے۔ یہ شخص اس جگہ سے آیا ہے جہاں سے اس وائرس کی شروعات ہوئی ہیں۔‘

اس شخص کی ہلاکت کی تصدیق سے کچھ دیر قبل ہی فلپائن نے چین سے آنے والے غیر ملکی افراد کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر میں کئی ممالک نے چین سے آنے والے افراد کے لیے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔

امریکہ اور آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ اُن تمام غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی لگائیں گے جو حال ہی میں چین میں موجود تھے۔ خیال رہے کہ یہ وائرس دسمبر میں پہلی مرتبہ چین میں پایا گیا تھا۔

اس سے پہلے پاکستان، روس، جاپان اور اٹلی بھی اس قسم کی سفری پابندیوں کا اعلان کر چکے ہیں تاہم عالمی صحت کے حکام نے ایسے اقدامات نہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔

جمعے کو عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ ’سفری پابندیاں فائدے سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ معلومات شیئر کرنے کے عمل اور ادویات کی فراہمی میں مداخلت معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

عالمی ادارہ صحت نے سرحدوں پر سکریننگ کی تجویز دی ہے اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کی ہے کہ سرحدوں کو بند کرنے سے وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو گا کیونکہ لوگ غیر سرکاری طور پر کئی ممالک میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔

چین نے سفری پابندیوں کی لہر پر تنقید کی ہے اور غیرملکی حکومتوں پر حکام کی جانب سے دیے گئے مشورے کو نظرانداز کرنے کا الزام دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہوا چُن یِنگ کا کہنا ہے ‘جیسے ہی عالمی ادارہ صحت نے سفری پابندیوں کے خلاف مشورہ دیا ہے، امریکہ دوسری سمت میں دوڑ پڑا ہے۔ یہ نیک نیتی نہیں ہے۔‘

سرکاری طور پر 2019-nCov کہلانے والے وائرس کی وجہ سے 304 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ان اموات میں سے 294 صوبہ ہوبائی میں ہوئیں جہاں سے وائرس کی شرعات ہوئی۔ ہوبائی میں سنیچر کے روز 45 اموات درج کی گئیں۔

سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق 2590 کیسز سامنے آنے کے بعد چین میں وائرس کے کیسز کی کُل تعداد 14380 ہو گئی ہے۔ چین کے باہر 100 کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ، برطانیہ، روس اور جرمنی نے وائرس کے شکار افراد کی تصدیق کی ہے۔

چین میں 24 جنوری سے نئے قمری سال کی تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے لیکن چینی حکام نے چھٹیاں بڑھا دی ہیں اور عوامی اجتماعات کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

ہانگ کانگ کے ہسپتالوں میں کام کرنے والے افراد نے چین کے ساتھ سرحد مکمل طور پر بند رکھنے کا مطالبہ کیا ہے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں سوموار سے ہڑتال پر جانے کے لیے ووٹ دیا ہے۔

ہانگ کانگ حکومت نے عالمی ادارہ صحت کی تجاویز کے پیشِ نظر ایسا کرنے سے منع کر دیا ہے۔ نئے وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں سنہ 2003 میں دو درجن ممالک میں پھیلنے والے سارس وائرس سے کم ہیں جس کی وجہ سے حکام کا خیال ہے کہ نیا وائرس اتنا مہلک نہیں ہے۔

یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے تخمینے کے مطابق کیسز کی کُل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلنے کے مرکز ووہان میں 75 ہزار سے زائد لوگ وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

امریکہ نے ایک غیرمعمولی صحت عامہ کی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے گذشتہ دو ہفتے میں چین میں رہنے والے غیرملکی شہریوں کے داخلے پر پابندی لگائی ہے۔

صوبہ ہوبائی سے لوٹنے والے امریکی شہریوں اور رہائشیوں کو 14 روز کے لیے قرنطینہ یعنی الیحدگی میں رکھا جائے گا۔

چین کے باقی حصوں سے آنے والے افراد کو اتنے ہی عرصے کے لیے اپنی صحت کا جائزہ لینے کا کہا گیا ہے۔

امریکہ میں کُل کیسز کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ پینٹاگون نے دیگر ممالک سے امریکہ آنے والے تقریباً 1000 افراد کے لیے قرنطینہ کا انتظام کیا ہے۔

کیلیفورنیا، کولوراڈو اور ٹیکساس کے چار عسکری بیسز میں 1000 کمرے بھی اسی مقصد کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

آسٹریلیا نے بھی چین سے لوٹنے والے شہریوں کو دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں رکھنے کا کہا ہے جبکہ کئی حکومتوں نے چین سے اپنے شہریوں کو واپس بھی بلوایا ہے۔

ووہان سے واپس لائے جانے والے 300 انڈین شہری سنیچر کے روز دلی پہنچے جبکہ اسی روز 100 جرمن شہری بھی فرینکفرٹ واپس آئے۔

آنے والے دنوں میں تھائی لینڈ بھی ووہان سے اپنے شہریوں کو واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوو کے مطابق سوموار اور منگل کو روس صوبہ ہوبائی سے اپنے سینکڑوں شہریوں کو واپس بلائے گا۔ روس نے چینی شہریوں کے لیے ویزہ فری سیروسیاحت بھی روک دی ہے۔

دوسری جانب چین نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ ممبر ممالک سے ادویات کی فراہمی آسان بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

You might also like More from author