اب تیرا کیا بنے گا کالیا!

ایک گندے اور بھرے سسٹم کی پیداوار
پاکستان کی مقتدر سیاسی جماعتوں اور ان کی شیطنت صفت قیادتوں کی سرشت بابت ازمنہ قدیم سے چلے آنے والے ایک لوک اکھان پر نظر ڈال لیجئے۔ اس سے اس جمے میں آنے والی سطروں میں بیان کئے جانے والے واقعات ومحرکات کی بہتر تفہیم میں آسانی ہو جائے گی۔ جگ ورتی کے حوالے سے دانش و حکمت سے مالا مال یہ لوک اکھان کچھ یوں ہے۔
”ہمارے بڑوں کا دور ہمارے اجداد کے زمانے سے بدتر تھا۔ ہم ان کے فرزانداں ان سے کہیں بڑچ کر نکمے اور بے مول ہیں۔ لہذا اپنی باری پر دنیا کو اس سے بھی بری اور بدعنوان پود سونپ کر جائیں گے۔،،
قارئین کرام آپ زیادہ دور نہ جائیے پچھلے تیس پنتیس سالہ دورانیے کا سیاسی زائچہ نکال کر دیکھ لیجئے۔ آپ کو یہ کردار ہر طرف متحرک نظر آئیں گے بھٹو، مفتی محمود، میاں شریف، ولی خان، جوگیزئی، اچکزئی، بگٹی، وغیرہ وغیرہ
اب ان کی اگلی نسل پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ نصرت بھٹو ، بے نظیر بھٹو آصف زرداری، نوازشریف،شہبازشریف، اسفند یار ولی، ملا فضل الرحمن، وزیر جوگزئی وغیرہ وغیرہ۔
اب تیسری نسل کی طرف آئیے۔ ملا محمود، بلاول، ملا عطاءالرحمن، حمزہ، سلیمان، مریم صفدر، داماد علی عمران، سمدھی اسحاق ڈار ان سب کی کرداری پوتھیاں کھول لیجئے آپ کو ہر پنے پر وائٹ کالر کرائم کا تعفن اور سرانڈ سے پالا پڑے گا۔ ذرا یاد کیجئے اس مہینے کے شروع دنوں میں ایک احتساب عدالت میں پیشی بھگت کر واپس آتے ہوئے زرداری نے ایک صحافی کو کیا کہا تھا۔ ”اب میرا بیٹا بلاول اور بیٹی آصف قوم کی قیادت کریں گے۔ لکھ دی لعنت ایسی گندی غلیظ سوچ پر اور مقام عبرت ہے پیپلزپارٹی کے ان بزرگوں پر جن کی ساری حیاتیاں اس جماعت سے وابستگی میں کھپ چکی ہیں مثلا جناب اعتزاز احسن، مولا بخش چانڈیو، قمر الزمان کائرہ، رضا ربانی، شیری رحمن وغیرہ جنہیں بمبیونیا میں ٹکٹ بلیک کرنے والا زرداری ڈکٹیٹ کر رہا ہے کہ آئندہ انہیں زرداری خانوادے کی نئی پود کی بیعت کرنا ہوگی۔
حالیہ چند ایام میں قومی سطح پر جو سیاسی پیش رفت ہوئی ہے اس کے حوالے سے میں نے اپنے ایک پچھلے کالم میں یہ سرخی جمائی تھی۔” بس ایک ہی ٹیکہ۔۔۔۔ اور اب افاقہ ہی افاقہ،، یہ درحقیقت ایک طنزیہ تھا اچھلتی کودتی ہڑبونگ مچاتی پارلیمنٹ میں کھلواڑ کرتی اور قومی اسبلی کے ایوان کو مچھلی منڈی کا روپ دیتی انتشار زدہ اپوزیشن کے انتہائی قابل اعتراض، سوقیانہ اور غیر پارلیمانی طرز عمل پر، خدا کی پناہ، ایک کروڑ سے زائد اخراجات سے چلنے والے قومی اسمبلی کا ایک روز کا اجلاس، مچھلی منڈی کی بھینٹ اور یہاں تو کئی ہفتوں سے یہی تماشہ جاری ہے۔ گویا عوامی ہمدردی کے نعرے مارنے اور دعوے جتانے والوں نے قوم کے کروڑوں روپے اس ماشہ گردی کی نذر کر دیئے۔
کاش کوئی صاحب استطاعت شہری عدالت عظمیٰ سے رجوع کرتے ہوئے قوم کے ان نام نہاد رہنماﺅں حقیقت میں رہزنوں سے قومی خزانے کو پہنچائے گئے مفتان کا زر تلافی ان کی ذاتی جیبوں سے وصول کرے یا ان کی تنخواہوں پر الاﺅنس سے اس کی کٹوتی کی جائے۔
میرے کالم بعنوان”بس ایک ہی ٹیکہ۔۔۔۔۔ اور اب افاقہ ہی افاقہ،، دراصل اس صورت حال کی طرف طنزیہ اشارہ بھی تھا جس کی رو سے پچھلے کئی ہفتوں سے اپوزیشن کہی طرف سے جاری ”مچھلی منڈی کلچر،، کی جگہ نسبتا بہتر پارلمیانی ماحول چھایا ہوا تھا۔
ایسا مگر کیونکر ہوگیا۔
یاد کیجئے اسے اس سے فقط ایک روز پہلے ہی جناب عمران خان نے اپنی پارلیمانی پارٹی کو جتا دیا تھا کہ اب تک بہت ہوچکی۔ اب جیسے کو تیسا کے مصداق ردعمل دیا جائے۔ بس پھر کہنا تھا۔ اس صورت حال کی نوبت بھی نہ آئی۔
کیوں؟ اس لئے کہ سسی بے خبرے کو اپنا شہر بھنور لٹ جانے کی کوئی خبر ہی نہ تھی۔
انتشار زدہ اپوزیشن نے عمران حکومت گرانے کی سارا” کھیڈ کھلواڑ،، قومی اسمبلی میں نمبر گیم کی بنیاد پر کھڑا کیا تھا۔ وہ پچھلے کئی روز سے حکومتی اتحادیوں پر ”باریک کام،، میں موقف تھی۔ کیا بلاول اور کیا زرداری اگر ایک طرف بلوچستان نیشنل پارٹی( بی این پی) کے سربراہ اختر مینگل سے ساز باز میں مصروف تھے تو جاتی عمرہ کے ناشریفوں کے سیاسی فرنٹ مین کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے اس دھڑے سے سودے بازی میں محو تھے۔ جنہیں اپنی پارٹی کے حکومتی اشتراک کے نتیجے میں کوئی ”مال پانی،، نہیں ملا تھا۔ اس طرح ملا ڈیزل اپنی بے روزگاری کے علاج کے لئے کے پی کے اور بلوچستان میں بعض حکومت دوست حلقوں کو ورغلانے میں مصروف رہا۔( جاری)

You might also like More from author