مصنوعی سیارچوں کو ’’گھما کر‘‘ خلا میں پھینکنے والی ٹیکنالوجی

نیو میکسیکو: ایک امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی ’’اسپن لانچ‘‘ نے چھوٹے مصنوعی سیارچوں کو خلاء میں بھیجنے کے ایک عجیب و غریب طریقے پر کام شروع کردیا ہے جس کے تحت کسی مصنوعی سیارچے کو پہلے زمین پر موجود ایک دیوقامت مرکز گریز مشین (سینٹری فیوج) میں تیزی سے گھمایا جائے گا اور جب وہ ایک خاص رفتار پر پہنچ جائے گا تو اسے خلاء کی سمت پھینک دیا جائے گا۔

یہ عجیب و غریب نظام جسے ’’کائنیٹک لانچ سسٹم‘‘ کا نام دیا گیا ہے، فی الحال تجرباتی مرحلے پر ہے لیکن اسپن لانچ کے بانی اور سی ای او، جوناتھن یانے کا خیال ہے کہ وہ اس سال کے اختتام تک ایک بڑے سینٹری فیوج کے ذریعے اوّلین سیارچہ خلاء میں پھینکنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

منصوبہ کچھ یوں ہے کہ زمین پر موجود ایک بہت بڑے سینٹری فیوج میں چھوٹا سیارچہ رکھ کر اسے تیزی سے گھمایا جائے گا، یہاں تک کہ اس کی رفتار 5000 میل فی گھنٹہ (تقریباً 8050 کلومیٹر فی گھنٹہ یا 2235 میٹر فی سیکنڈ) تک پہنچ جائے گی۔ تب اسے مچھر مار کوائل جیسے سینٹری فیوج کے دہانے سے خلاء کی سمت اچھال دیا جائے گا اور وہ ایندھن استعمال کیے بغیر ہی لگ بھگ 50 کلومیٹر کی اونچائی تک جا پہنچے گا۔ (واضح رہے کہ اس سینٹری فیوج کے اندر مکمل ویکیوم ہوگا تاکہ گھمائے جانے والے سیارچے کو ہوا کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ اپنی مطلوبہ رفتار تک پہنچ جائے۔)اتنی بلندی پر پہنچتے ہی سیارچے کا چھوٹا لیکن طاقتور انجن تھوڑی سی دیر کے لیے فائر کیا جائے گا جو (ارد گرد کم کششِ ثقل موجود ہونے کی وجہ سے) بہت کم توانائی استعمال کرتے ہوئے، سیارچے کو بہ آسانی خلاء میں پہنچا دے گا۔ کم از کم اسپن لانچ کا منصوبہ یہی ہے۔

اب تک وہ اپنے تجرباتی سینٹری فیوج میں 11 پونڈ وزنی ایک پتلے کو 4000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھما کر مطلوبہ ہدف سے ٹکرا چکے ہیں… جو ایک موٹی فولادی دیوار تھی۔ ان ہی تجربات کے دوران ایپل آئی فون کو 4000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر دیئے گئے لیکن پھر بھی وہ بالکل صحیح سلامت رہا۔

اسپن لانچ نے اس تجربے کے بارے میں خبر دیتے ہوئے کہا تھا کہ شدید مرکز گریز قوت کے باوجود، آئی فون اور اس میں موجود برقی سرکٹ کا درست حالت میں رہ جانا اس تصور کی سچائی کا ٹھوس ثبوت ہے۔

تاہم ناقدین کو اس خیال سے شدید اختلاف ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ایک چھوٹے سٹیلائٹ اور اسمارٹ فون میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، حقیقی حالات میں مصنوعی سیارچے کی رفتار پانچ ہزار میل فی گھنٹہ ہوگی جو تجربات کے مقابلے میں پورے ایک ہزار میل فی گھنٹہ زیادہ ہے۔

اس سب کے باوجود، یہ کمپنی پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ سال مئی میں اس نے موجودہ تجرباتی سینٹری فیوج کے مقابلے میں تین گنا بڑی تنصیبات پر کام شروع کروا دیا تھا جبکہ جون 2019ء میں اسپن لانچ نے امریکی محکمہ دفاع (ڈی او ڈی) کے ساتھ اسی بارے میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے تھے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ابتدائی کامیابیوں کے بعد وہ جلد ہی صرف پانچ لاکھ ڈالر کے خرچ پر ایک چھوٹے مصنوعی سیارچے کو مدار میں بھیجنے کے قابل ہوں گے۔

You might also like More from author