پاکستانی خواتین کرکٹرز چھکے لگانے میں پیچھے کیوں ہیں؟

ٹی ٹوئنٹی میں بیٹنگ کرنے والے بیٹسمین اگر چھکا نہ لگائیں تو شائقین کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے کیونکہ ٹی ٹوئنٹی جارحانہ بیٹنگ کا ہی فارمیٹ ہے لیکن پاکستانی بیٹسمین بابراعظم کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ پاور ہٹنگ کے بغیر بھی عالمی نمبر ایک بیٹسمین بنے ہیں تو انہیں اس کی ضرورت نہیں۔

مردوں کی کرکٹ کے برعکس پاکستانی خواتین کرکٹ میں ہمیں زور دار چھکے لگانے والی کرکٹرز بہت کم نظر آتی ہیں۔

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم آئندہ ماہ آسٹریلیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی ہے جہاں اس کا اپنے گروپ میں ویسٹ انڈیز، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیموں سے مقابلہ ہوگا۔ یہ وہ تینوں ٹیمیں ہیں جن کے خلاف پاکستانی ٹیم گزشتہ سال ٹی ٹوئنٹی سیریز ہار چکی ہے۔

یہاں یہ سوال بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا پاکستانی کرکٹرز میں پاور ہٹنگ کی صلاحیت موجود ہے کہ وہ آئندہ ماہ آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی حریف ٹیموں کے خلاف بڑا سکور کرسکیں؟

پاکستانی ٹیم میں کپتان بسمہ معروف اور جویریہ خان دو ایسی کھلاڑی موجود ہیں جو اب تک ہونے والے تمام چھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیل چکی ہیں۔

بسمہ معروف سے جب ٹیم میں پاور ہٹنگ کی صلاحیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس پر کافی کام ہوا ہے ’ارم جاوید، ندا ڈار اور عالیہ ریاض یہ ذمہ داری نبھا رہی ہیں اور وہ اس میں کامیاب بھی رہی ہیں‘۔

بسمہ معروف اپنے اور جویریہ خان کے بارے میں کہتی ہیں کہ ان کا رول مختلف ہے وہ ’ٹائمرز ہیں جن کا کام امپرووائزیشن ہے‘۔

پاکستانی خواتین ٹیم کے کوچ اقبال امام کا کہنا ہے کہ ’پاور ہٹنگ بہت ضروری بھی ہے اور ضروری نہیں بھی ہے۔ اس کے بغیر بھی میچ جیتے جاسکتے ہیں۔ پاکستانی خواتین ٹیم میں بیشتر کھلاڑی تیکنکی اعتبار سے بہتر ہیں۔ جویریہ خان اور بسمہ معروف ایک اوور میں آّٹھ دس رنز بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘۔

اقبال امام کا کہنا ہے کہ ٹیم میں پاور ہٹرز کے طور پر ندا ڈار، عالیہ ریاض اور ارم جاوید کو تیار کیا گیا ہے، ان کے علاوہ نئی کھلاڑی عائشہ نسیم بھی پاور ہٹر ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر جلال الدین جو خواتین کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر بھی رہ چکے ہیں، اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’پاور ہٹنگ کے لیے جسمانی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ پاور ہٹنگ کے لیے درست تیکنک اور بائیو مکینک کا ہونا بھی بہت ضروری ہے کہ آپ کس طرح طاقت کا استعمال کر کے درست تکنیک کے ساتھ گیند کو صحیح ڈائریکشن میں کھیلتے ہیں۔‘

جلال الدین کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی ٹیم میں ہر کھلاڑی پاور ہٹنگ نہیں کرتی، اس کے لیے ایک دو کھلاڑیوں کو تیار کیا جاتا ہے۔ پاکستانی ٹیم میں بھی دو تین کھلاڑی ایسی ہیں جو پاورہٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن ہمارے یہاں اس جانب توجہ نہیں دی گئی اور روایتی انداز کی ٹریننگ کرائی جاتی رہی ہے‘۔

جلال الدین یہ بھی کہتے ہیں کہ ’پاکستانی خواتین ٹیم کی قوت پاور ہٹنگ نہیں بلکہ سپن بولنگ ہے جس کے ذریعے وہ بڑی ٹیموں کو بھی ہرا سکتی ہے‘۔

You might also like More from author