مراد علی کی مراد پوری ہو تو کیونکر

( آخری قسط)

 ہر رنگ ڈھنگ کے مافیاز نے وائٹ کالر کرائم کی تکنیک کے تحت خود کو سیاست کے لبادے میں چھپا رکھا ہے۔ اب یہ قومی مقتدرہ کا فرض ہے کہ وہ ملک وقوم کی یک جہتی اور سلامتی کونقصان پہنچانے والے عناصر اور ان کے کارندوں گماشتوں کو ”بالاتاخیر قانون کے کٹہرے میں لائے،،

گاواں گاواں دیاں بہناں
گائیں گاﺅں کی بنہیں ہوتی ہیں
”رل کے کھارج کے کھا،، یہ ہے پاکستانی مافیاز کا کالا قانون
میرے ممدوح عزت مآب حضرت زرداری صاحب مدظلہ اور ان کے بڑے گماشقے، چیلے اور کارندے مراد علی شاہ، رحمن ڈکیت کا بیٹا عزیز بلوچ یہ سب ایسی ہی گائیں بہنیں ہیں۔ زرداری کی لٹ مار جس نے اپنی مکارانہ چالوں میں فالودے والوں ، ریڑھی والوں اور مرچکے لوگوں کو بھی نہ بخشا اور ان کے ناموں پر بنکوں میں جعلی کھاتے کھولے ،اپنی حرام کمائیوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے۔ مراد علی شاہ جس جس طرح سے وزیر خزانہ کی حیثیت سے زرداری کے ہر کارے کا کردار ادا کرتا رہا وہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور تفتیش کے مراحل سے گزرہا ہے اس کی انہی خدمات کے بدلے میں اسے وزارت اعلیٰ سندھ سونپی گئی ہے اور اب وہ جہاں اپنے معاشی جرائم کو چھپانے کے لئے زرداری کے پیچھے ،چھپ رہا ہے وہاں زرداری بھی اس کے عقب میں کھڑا ہے ادھر عزیز بلوچ ہے جو اپنے اعترافی بیان میں کہہ چکا ہے کہ وہ زرداری کی بہن فریال تالپور کو بھتے کی لوٹ مار میں سے ایک کروڑ روپے ماہوار ادا کرتا رہا ہے۔
یہ زرداری گینگ کی دیگ کے محض چند دانے ہیں۔ وگرانہ تو عمر خوردہ انور مجید اینڈ فیملی، جدہ سے گرفتار شدہ کارندہ مسعود اسلم اور درجنوں گماشتوں کا اتوار بازار لگا ہوا ہے ان میں سے بعض تو سلطانی گواہ بن چکے ہیں اور کچھ حوالات یا تفتیشی مراکز میں بند محتسبوں اور تفتیشوں کے سامنے اپنا اور اپنے آقائے ولی نعمت کا سارا کچا چٹھا اگل رہے ہیں۔ چندے انتظار ابھی سندھ کی دھرتی اپنے کونے کھدروں میں روپوش یا زیر زمین دیکے زرداری کے لئے معاشی جرائم میں معاونت کرنے والے کارندوں کو بھی اگلی دے گی۔
یہی وہ نازک وقت اور پکڑ دھکڑ کا مرحلہ ہوتا ہے جب وڈیرہ شاہی ،جاگیر شاہی اور سرمایہ شاہی کو اپنے بچاﺅ کے لئے اپنی پسند کا تابع مہمل آئی جی پولیس یا بیورو کریسی ہمارے ہاں کا مافیا بطور خاص ایسا مافیا جس سے زرداری اینڈ فیملی کی طرز پر سیاست کو اپنی ڈھال اور پناہ گاہ بنا رکھا ہے وہ ہر سطح کے پولیس آفیسر اور بیورو رکیٹ کو ڈھال بنانے کی کوشش کرتا ہے میری اطلاعات کے مطابق کلیم امام پر بھی زرداریوں نے اسیمقصد کے لئے بہت باریک وارداتیں ڈالنے کے جتن کئے۔ مگر وہ اللہ کا سپاہی دیانت اور امانت کے اصولوں پر کھڑا رہا۔ جس کے نتیجے میں سندھ کے مقتدر حلقے اور زرداری شدید حت کر پریشان ہوگئے۔ وہ ماضی قریب میں سندھ کے آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ کی دیانتداری کے زخم خوردہ توتھے ہی تو کلیم امام کو دوسرا اے ڈی خواجہ بنے نہیں دیکھ سکتے تھے۔سو اس کی مشکیں کسنے کے لئے نت نئے حیلے بہانے تراشنے جانے لگے۔ یہاں تک کہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔ جہاں کلیم امام کو ریلیف مل گیا اور قرار پایا کہ سندھ حکومت پولیس ایکٹ سے ماورا کسی اقدام سے باز رہے اور کلیم امام کے معاملے کو وفاقی حکومت کی مشاورت کے ساتھ طے کرے۔
آج دن بھر ہمارا میڈیا آئی جی کے حوالے سے صوبائی خود مختاری کی سربلندی کے نعرے مارتا رہا۔ گویا 22 کروڑ نفوس کے مسائل میں گھرے ملک نے اپنے عوام کی فلاح وبہبود کے تمام معاملات طے کر لئےہیں اور اب قوم کے مستقبل کا تمام ترانحصار سندھ کے آئی جی پولیس کے تبادلے سے جڑ چکا ہے۔
معاملہ فقط یہ ہے کہ سیاسی لبادے میں چھپا ہوا ہر رنگ نسل اور کینڈے کا مافیا زرداری گینگ کی چھتری تلے جمع ہوچکا ہے اور اس کی اولین ترجیح سندھ میں ایسا بڑا پولیس آفیسر لگوانا ہے جو موم کی ناک رکھتا ہو اور راﺅ انوار کی طرح زرداری کے اچھے اور بہادری کیطرح روبوٹ بن کر بلاول ہاﺅس کی ڈیورھیوں میں اردل کرتا رہے۔
وفاقی مقتدرہ کے سربراہ کی حیثیت سے یہ عمران خان کا بنیادی فرض ہے کہ ملک میں سماجی ومعاشی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں اگر کوئی قانونی سقم یا حکومتی روایت آڑے آرہی ہو تو اسے پرکاہ کی طرح کے مقابلے میں ہر گز اہمیت نہیں رکھتے۔ اور معاملہ ایک صوبے کے آئی جی کا ہو یا حتی کہ نام نہاد جمہوری حکومت کا آئین قومی سلامتی کے لئے کسی صوبے میں گورنر راج تک نافذ کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کو دیتا ہے۔ لہذا اگر گھی سیدھے سبھاﺅ نہ نکلے تو اسے ٹیڑھی انگلی سے نکالنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہوتا۔ اگر زرداری مافایز نے اپنی ہٹ دھرمی ترک نہ کی تو اسے اپنا بہت کچھ ترک کرنا پڑ سکتا ہے۔

You might also like More from author