انہیں موم کی ناک والا آئی جی چاہئے

مراد علی کی مراد پوری ہو تو کیونکر؟

یہ لگ بھگ نصف صدی پلے کا قصہ ہے۔
پولیس نے سرشام ہی گاو¿ں والوں کو گھروں سے نکال کر بڑے میدان میں جمع کر لیا۔ بچوں، عورتوں اور مردوں کو آگے پیچھے دائرے میں کھڑے ہونے کا حکم ہوا پھر ان سب کو نیم برہنہ ہونے کا نادر شاہی حکم صادر ہوا۔ اگلے پندرہ بیس منٹ تھا نیدار کی طرف سے ننگی گالیوں کا طوفان بپا رہا۔ پھر تمام حاضرین کو کتے کی طرح بھونکنے کا کہا گیا۔ جب یہ سوخنہ نصیب اس آموختے سے ہلکان ہوگئے تو انہیں چوپاو¿ں کی طرھ تھانے کی طرف چلنے کا کہا گیا۔ تھانہ یہاں سے کافی دور تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے وزیر خزانہ میرے ممدوح ڈاکٹر مبشر حسن کی کتاب ”رزمِ زندگی“ سے لیا گیا یہ اقتباس ہمارے سماج اور پولیس کے باہمی رشتہ و تعلق کے ایک پہلو کی نشاندہی کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب محترم کے بیان کردہ واقعے کا عمومی تاثر اسقدر گہرا اور دیر پا تھا کہ نصف صدی بیت جانے کے باوجود آج بھی میری لوح یادداشت پر نقش اور محفوظ ہے۔
اپنی طویل صحافتی زندگی کے دوران مجھے اسی طرح کے متعدد واقعات سے سابقہ پڑتا رہاہے۔ ایسے واقعات کے اگر پس منظر کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے زیادہ تر محرکان میں علاقے کے وڈیرے، جاگیردار یا ان کے لے پالک کسی گماشتے کا کردار ہوتا ہے۔ ایسے وڈیرے یا جاگیردار یا ان کے گماشتے بالعموم اور بد قسمتی سے ہمارے منتخب ارکان اسمبلی کہلاتے ہیں۔ جو اپنے حلقہ اثرو نیاب میں اپنے ذاتی، خاندانی، مالی اور گروہی مفادات کے حصول، تحفظ یا تسلسل کے لئے پولیس کے ریاستی ادارے کو مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ معمول استقدر گہرا ہو چکا ہے کہ اب اس کے ساتھ جڑی بد اخلاقی اور غیر قانونیت کا معانی و مفہوم یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ اپنے علاقے میں اپنی مرضی کا پٹواری، محکمہ مال اور پانی اور پولیس تھانیدار لگوانا کسی بھی ایم پی اے اور ایم این اے کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ یہی چھوٹی چھوتی ترجیحات جمع ہو کر ضلعے اور صوبے کی سطح پر پہنچتی ہیں تو یہاں اپنی پسند اور ترجیح کا آئی جی پولیس لگوانا سب سے اہم قومی خدمت بن جاتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ چاروں صوبوں میں آئی جی پولیس کی تعیناتی اس دیرینہ کھیل کے متنوع واقعات سے اٹی پڑی ہے ۔ اس سلسلے کا تازہ ترین ناٹک ان دنوںوفاق اور صوبہ سندھ کے مابین کھیلا جا رہا ہے۔
کلیم امام سندھ کے آئی جی پولیس ہیں۔ جن سے زرداری حکومت سخت نالاں ہے۔ اور اس ضمن میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور وزیر اعظم عمران خان کے مابین لپگ پانگ کی بازی لگی ہوئی ہے۔ معاملہ عدالت تک بھی جا چکا ہے۔ جہاں سے سندھ حکومت کو پابند کیا گیا کہ وہ وپولیس ایکٹ کی متعلقہ شقوں کے مطابق ہی وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کوئی اقدام کرنے کی پابند ہے۔
پچھلے دنوں وزیر اعظم کراچی تشریف لے گئے تو زرداری گروپ نے اپنا مطلب نکالنے کے لئے وفاق کے ساتھ بڑھتے فاصلے سمیٹنے کی چال چلی اور ایک سال بعد پہلی باز وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ ان کے استقبال کے لئے ایئر پورٹ گئے۔ اس کے بعد گورنر ہاو¿س میں دونوں کے مابین نہایت خوشگوار ماحول میں مذاکرات ہوئے۔ وزیر اعظم کو اپنے ذرائع سے حوصولہ معلومات کی روشنی میں کلیم امام کی تبدیلی کے حق میں نہ تھے۔ مگر وفاق اور صوبہ سندھ میں بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کی غرضی سے انہوں نے مراد علی شاہ کی مراد پوری کرنے کی حامی بھرلی۔
اس دوران مگر کے کانوں میں کچھ مزید اندر خانے کی گفتنی ناگفتنی حقیقتوں کا حوالا پہنچا۔ وفاقی حکومت کی اتحادی ایم کیو ایم کو بھی کلیم امام کے تبادلے پر تحفظات ہیں۔ دن کے ایک حصے میں وہ اپنے اتحادی جی ڈے اے کے سربراہ پیر پگاڑا کے بڑے بھائی کی عیادت کے لئے گئے تو انہوں نے بھی کلیم امام کے معاملے پر نظاثانی کا کہا۔ اسلام آباد واپسی پر بھی وزیر اعظم کو مزید حقائق کا علم ہوا۔ چنانچہ انہوں نے کلیم امام کے متبادل کے طور پر مشتاق مہر کے نام کو فہرست سے خارج کر دیا۔ یوں کلیم امان کی سندھ سے رخصتی کا معاملہ ایک با رپھر معلق ہو گیا وزیراعظم آفس سے (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر30
جاری اعلامیے کے مطابق گورنر سندھ اور وزیر اعلیٰ سے کہا گی اہے کہ وہ باہمی مشاورت سے اس اہم پوسٹ کے لئے کسی نئے نام پر اتفاق کریں۔
اب صورت حال کا ایک اور پہلو بھی دیکھ لیجئے۔ کراچی اور سندھ کے حوالے سے وہاں پاور پلے کے اہم کھلاڑی ایم کیو ایم ، جی ڈی اے اور پی ٹی اے کلیم امام کے معاملے پر ایک صفحے پر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی ان سب سے الگ تھلگ سوچ رکھتی ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ یہ بہت اہم سوال ہے ۔ اس کا جواب ہے ۔ پیش آمدہ بلدیاتی انتخاب اور زرداری گروپ کے خلاف کرپشن کے سنگین مقدمات فیصلے کے قریب پہنچ چکے ہیں کئی ایک تفتیش کے آخری مراحل پر ہیں۔ اسی طرح پی پی پی کے متعدد وڈیرے اور جاگیر دار زرداری گروپ کے ساجھے دار ہیں۔ ان سب کو اپنے صوبے میں ایسا آئی جی درکار ہے جو موم کی ناک رکھتا ہو۔ ایسا ہوتو کیونکر؟ اس پر کل بات کریں گے۔(جاری )

You might also like More from author